یہ میرا پہلا گانا ہے جو میں نے پاکستان کےلیے گایا ہے

نصیبو لال کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میں نے ایک بسکٹ کی کمپنی کا گانا ’میرے دیس کا بسکٹ۔۔۔‘ گایا تھا۔ اس کے بعد میں نے ’گروو میرا’ گایا۔ بڑا اچھا لگ رہا ہے مجھے یہ، کیوں کہ میرا پہلا یہ گانا ہے جو میں نے پاکستان کےلیے گایا ہے۔‘
نصیبو لال کا کہنا ہے کہ یہ گانا ہمارے پاکستان کی شان ہے کیوں کہ کافی لوگ فون کرکے انہیں مبارکباد دے رہے ہیں کہ یہ گانا بہت اچھا گایا ہے۔ ’لوگ اس گانے کو بہت پسند کر رہے ہیں اور مجھے اس بات کی بہت خوشی ہو رہی ہے۔‘ نصیبو لال کے مطابق جب اس گانے کےلیے جب پی ایس ایل کی پروڈکشن ٹیم نے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہیں بہت اچھا لگا۔ ان کے بقول یہ کوئی معمولی گانا نہیں ہے۔ ’یہ گانا میں نے جن کےلیے گایا ہے وہ پاکستان کا سرمایہ ہیں۔ میں بڑی حیران ہوئی کہ اتنا بڑا گانا مجھے مل گیا۔‘ گانے کی موسیقی اور گائیکی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’اس گانے کے سُر بہت اونچے ہیں۔ یہ گانا گاتے ہوئے مجھے بڑی مشکل بھی ہوئی۔‘ نصیبو کے مطابق اس گانے کی فلم بندی کے دوران بھی انہیں کافی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ ’ایک نیا گانا تھا یہ اور سب پڑھے لکھے لوگ تھے، ان کا بات کرنے کا ایک الگ انداز تھا، تو ان کو دیکھ کر میں بڑی حیران بھی ہوئی کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ تو تھوڑی سی مجھے کنفیوژن بھی ہوئی تھی۔‘ ’لیکن وہ سب بہت پیار کرنے والے تھے۔ تو میں نے بولا یہ تو بہت اچھے ہیں۔‘ نصیبو لال کے نزدیک وہ اس لیے بھی فکر مند تھیں کہ اتنی اچھی پیشکش کرنے والوں کو کہیں ناراض نہ کردیں۔ ‘پھر میں نے بھی پوری کوشش کی کہ کچھ ایسا کروں کہ اچھا ہو جائے، تا کہ یہ خفا نہ ہوں اور مجھ سے یہ خوش ہو جائیں۔’ نصیبو لال کا کہنا تھا کہ پروڈکشن ٹیم نے بہت محنت کی اور ’تھوڑی سی محنت میں نے بھی کی۔‘ نصیبو لال کے مطابق اس گانے نے انہیں نئی پہچان دی ہے۔ اب لوگ انہیں نئے انداز اور ایک نئی سوچ کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول انہیں فرط جذبات سے رونا بھی آ گیا۔ نصیبو لال کے مطابق اس گانے نے انہیں ایک نئی ’لُک‘ بھی دی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’اس گانے کےلیے میرا پورا ’ڈریس اپ‘ بھی چینج کیا گیا۔ ’میں نے تھوڑا سا ڈانس بھی کیا ہے۔ ڈانس کی تو مجھے ویسے بھی عادت بھی ہے، عام سے گانے میں بھی میں ہلتی رہتی ہوں۔‘ نصیبو کے مطابق ‘لُک کے بارے میں ’مجھے انہوں نے پہلے نہیں بتایا تھا، یہ ایسا ہی تھا جیسا کہ سرپرائز دیتے ہیں اور انہوں نے مجھے سرپرائز ہی دیا تھا۔’ نصیبو کا کہنا ہے کہ اس گانے میں ہیوی میک اپ نہیں کیا گیا اور اس گانے کی ٹیم نے ان کا ہلکا سا میک کیا تھا۔ ’ان کا اپنا ہی ایک طریقہ تھا اور مجھے بہت اچھا لگا۔ ان کا کوئی بھی کام ہوگا اب میں انکار نہیں کروں گی۔‘ نصیبو لال کو پی ایس ایل کی پروڈکشن ٹیم بہت پسند آئی ان کے بقول ’اب پی ایس ایل کا کوئی بھی کام ہوگا تو میں حاضر ہوں کیوں کہ یہ اچھے ہیں، انہوں نے جو میرے لیے کیا ہے وہ میں سوچ بھی نہیں سکتی۔‘ نصیبو کے بقول اس کام کی وجہ سے فلمی حلقوں میں بھی ان کی تعریف کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اس گانے کے بعد جب وہ ایک اور گانا گا رہی تھیں تو انہیں وہاں موجود فلمی لوگوں نے کہا کہ ‘بلے بلے نصیبو کمال ہو گیا، تم تو بہت بڑی سنگر ہو۔’ نصیبو اب اپنے گانے کے ساتھ ساتھ پی ایس ایل کی کامیابی کےلیے بھی دعاگو ہیں۔ ان کے مطابق یہ ان کا پہلا ایسا گانا ہے جس نے اسے پی ایس ایل کا ایمبیسیڈر بنا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button