ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.30فیصداضافہ

ایک ہفتے کے دوران ملک میں 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہیں، ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں 0.30 فیصد اضافہ ہوا، سالانہ مہنگائی کی شرح 38.28 فیصد رہی، 17 ہزار تا 22ہزار ماہانہ آمدنی والا طبقہ سب سے زیادہ متاثر رہا جسے کے لیے کیلئے مہنگائی کی شرح 39.86فی صد رہی۔آلو کی فی کلو قیمت میں 0.35 فیصد، ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 6.28 فیصد، انڈے کی قیمت میں 3.48 فیصد، لہسن کی فی کلو گرام قیمت میں 1.04 فیصد، چائے 0.73 فیصد، نمک2.75 فیصد، ایل پی جی0.31 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں 8.59 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق چینی کی قیمت میں 4.47 فیصد، دال مسور کی قیمت میں 1.26 فیصد ،دال چنا کی قیمت میں 2.75 فیصد، چکن کی قیمت میں 1.69 فیصد، دال مونگ کی قیمت میں 2.44 فیصد، گڑ کی قیمت میں 1.93 فیصد، ایری سکس نائن چاول کی قیمت میں 1.46 فیصد کمی واقع ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریے کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 36.64 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 39.88 فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 38.69 فیصد، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 37.47 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد
کیا عام انتخابات کا فروری میں انعقاد بھی مشکوک ھے؟
آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 34.33فیصدرہی ہے۔
