پشاور آرمی پبلک سکول حملے کے 10 سال بعد TTP مزید مضبوط کیوں؟

دہشتگردی کو روکنے میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2024 میں سال 2014 کے بعد پاکستان بھر میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے ہیں اور 450 سے زائد حملوں میں 475 سے زیادہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے دسمبر 2014ء میں ارمی پبلک سکول پشاور پر ہونے والے خونی حملے کی وجہ سے اس برس ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ اس اندوہناک حملے میں طلبہ اور سکول عملے سمیت تقریباً 150 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
2014 کا یہ خونی واقعہ پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ کا تاریک ترین باب تھا جا کے بعد ریاست نے تحریک طالبان کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم کیا تھا۔ لیکن آج 10 سال بعد بھی اس حملے کی ذمہ دار دہشت گرد تنظیم ملک بھر میں بے امنی پھیلانے میں سرگرم ہے اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ تحریک طالبان کا بنیادی ہدف پاکستانی سیکیورٹی فورسز ہیں جو خیبر سے پشاور تک نشانہ بن رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہورہے ہیں؟
اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں 5 برسوں میں انتہاپسند حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملوں اور سیکیورٹی تنصیبات پر حملے معمول کی بنیادوں پر ہورہے ہیں۔ باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سابق قبائلی علاقے اس لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ دہشتگردوں نے ملحقہ اضلاع میں بھی اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پھیلا دیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے کچھ جنوبی اضلاع اب عملی طور پر شرپسند عناصر کے زیرِ کنٹرول ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں نے قبول کی ہے جو اب زیادہ جدید اسلحے سے لیس ہیں اور پہلے کی نسبت زیادہ منظم ہیں۔ گزشتہ 5 برسوں میں عسکری گروہوں نے 2 ہزار 400 سے زائد دہشتگرد حملے لیے جن میں سے زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنایا گیا۔ مسائل سے دوچار صوبائی انتظامیہ اور بڑھتی ہوئی غیر مقبول وفاقی قوتیں عسکریت پسندوں کے حملے کو روکنے میں ناکام نظر آئیں۔
اسلام آباد میں قائم پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کونفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق جنوری 2020ء سے نومبر 2024ء کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں ایک ہزار 627 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ یہ عدد انتہائی تشویش ناک ہے اور ہماری انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کے حوالے سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں دہشتگردی کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
اسی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 645 دہشتگرد حملوں میں 508 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا وہیں 2024ء میں ان حملوں میں واضح دیکھا گیا اور سال کے اختتام سے ایک ماہ قبل ہی ان کی تعداد 856 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان واقعات میں 476 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ اس طرح کے بزدلانہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ شرپسند بدامنی کے شکار علاقوں میں کتنے مضبوط ہوچکے ہیں۔ ایسی بھی مثالیں ہیں کہ جن میں دہشتگردوں نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا ہے۔
یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب سیکیورٹی اہلکار خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں انسداد دہشتگردی کے آپریشنز میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اس دوران تحریک طالبان دیگر اضلاع میں بھی اپنی سرگرمیاں پھیلا رہی ہے جس سے یہ امکان انتہائی کم ہے کہ انتہا پسند حملوں کا سلسلہ رکے گا۔ وسطی خیبرپختونخوا میں بھی بڑی تعداد میں دہشتگرد موجود ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان کُن ’طالبانیت‘ اور فرقہ واریت کے درمیان ابھرنے والا نیا گٹھ جوڑ ہے۔ کرم کے سابق قبائلی علاقوں میں حالیہ فرقہ وارانہ پُرتشدد واقعات میں متعدد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جس نے عسکریت پسندی کو انتہائی مہلک رخ دیا ہے۔ کرم کا متاثرہ علاقہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بند ہے جبکہ انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں ناکام ہے۔
کرم اور اورکزئی اضلاع میں فرقہ وارانہ تنازعات کوئی نیا معاملہ نہیں لیکن یہ صورت حال اس وقت زیادہ پیچیدہ ہوگئی کہ جب افغانستان میں طالبان نے ایک بار پھر اقتدار سنبھال لیا جس سے ٹی ٹی پی کو دوبارہ متحرک ہونے کا موقع ملا۔ دیگر بیرونی عناصر بھی حالات کی خرابی کا سبب ہیں۔ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ نے صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔
یہ شاید حقیقت ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے آنے سے ٹی ٹی پی کو تقویت ملی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنی سرگرمیاں تیز کرے۔ نام نہاد اسلامی امارت، ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کررہی ہے جبکہ ان دیگر عسکری گروہوں کو بھی پناہ دیے ہوئے ہے جو پاکستان کے لیے خطرات بڑھا رہے ہیں۔ لیکن یہ بنیادی طور پر ملک میں مربوط انسدادِ دہشتگردی اور انسداد انتہا پسندی کی پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے جس نے دہشت گرد گروہوں کو اپنی کارروائیوں کا موقع فراہم کیا ہے۔
2021ء میں پاکستان نے افغان طالبان کے کہنے پر ٹی ٹی پی کے ساتھ نام نہاد امن کے مذاکرات میں شرکت کی جوکہ ایک تباہ کُن غلطی ثابت ہوئی ہے۔ اس عمل کے دوران پاکستان نے بڑی تعداد میں ٹی ٹی پی کمانڈران کو رہا کیا تھا جن میں سے بہت سے بےرحم قاتل تھے۔ فیض حمید کی زیر قیادت انٹیلی جنس حکام کی جانب سے کی جانے والی اس بات چیت میں ہزاروں مسلح شرپسند طالبان کو پاکستان واپس آنے کی اجازت دی گئی۔ ٹی ٹی پی کے اعلیٰ لیڈران تو افغانستان میں رہے لیکن کالعدم تنظیم کے بہت سے کارندے دوبارہ کارروائیاں کرنے کے لیے پاکستان آگئے تھے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے بعد مذاکرات ناکام ہوگئے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بات چیت کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا تھا کہ جب عمران خان کی حکومت کے اقتدار میں آخری دن تھے جبکہ نئی پی ڈی ایم حکومت نے طالبان سے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے چینلجز اور ان میں اضافے کا ذمہ دار سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرایا جاتا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان میں بھی شدت پسند حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ تاہم دونوں صوبوں کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز مختلف نوعیت کے ہیں لیکن ان دونوں کے امتزاج نے دہشتگردی کے خطرے کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بلوچ علحیدگی پسند گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسندوں کے بعض دھڑوں کے درمیان کسی طرح کے گٹھ جوڑ کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس نے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری پر کام کرنے والے چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی تشویش ناک ہیں۔ دہشتگردوں کی جانب سے چینی شہریوں پر حملوں نے ملک کے مختلف حصوں میں سرگرم عسکریت پسندوں کے متنوع ایجنڈے کی عکاسی کی ہے جوکہ تجسس میں مبتلا کردیتا ہے۔ حالیہ حملوں میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات میں بھی کسی نہ کسی حد تک صداقت تو ہوگی۔
لیکن سب سے اہم پاکستان کو اپنی انسدادِ دہشتگردی کی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے اور اپنے گھر کے معاملات کو سدھارنا ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی موجود ہے یا نہیں؟ انفرادی آپریشنز سے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں ایک جامع طریقہ کار وضح کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے ملک میں سیاسی استحکام کی بدتر ہوتی صورت حال نے دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ تقسیم کا شکار ملک سنگین خطرے کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
