سانحہ اے پی ایس کو 10 برس بیت گئے : صدر اور وزیر اعظم کا شہدائے اے پی ایس پشاور کو خراج عقیدت

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس ) پشاور کے شہداء کو 10ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیاہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعطم شہباز شریف نے سانحہ اے پی ایس کو 10 برس مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہاکہ سانحہ اے پی ایس جیسے واقعات دہشت گردوں اور خوارج کا اصل چہرہ بےنقاب کرتے ہیں، پاکستانی قوم دہشت گردوں کو کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دے گی،یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھاجس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کررہی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہاکہ 16 دسمبر 2014 کے افسوس ناک دن دہشت گردوں نے ہمارے بچوں اور قوم کے مستقبل پر حملہ کیا، معصوم بچوں پر حملہ گھناؤنا اور انسانیت سوز جرم ہے، دہشت گردی کے خاتمے کےلیے عالمی برادری کو مشترکہ طور پر کوششیں کرنا ہوں گی،آئیے دہشت گردی ک خاتمے اور پرامن پاکستان کےلیے کام کرنے کا عہد کریں۔
صدر مملکت نےکہاکہ 16 دسمبر 2014 کے افسوس ناک دن دہشت گردوں نے ہمارے بچوں اور قوم کے مستقبل پر حملہ کیا،آج کے دن دہشت گردوں نے معصوم بچوں سمیت شہریوں کو سفاکیت سے قتل کیا،دہشت گردوں نے اساتذہ اور بچوں کو نشانہ بناکر عوام دشمنی کا ثبوت دیا۔
صدر پاکستان نےکہاکہ معصوم بچوں پر حملہ گھناؤنا اور انسانیت سوز جرم ہے، سانحہ اے پی ایس سے واضح ہےکہ دہشت گردوں کا ایجنڈا ملک میں فساد اور انتشار پھیلانا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ 16دسمبر کے دن نے ہماری قوم کی اجتماعی یادداشت پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں،ہماری ہمدردیاں معصوم جانوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں، یہ دن ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قوم کی قربانیوں کی یاد دلاتاہے۔
صدر مملکت نےکہاکہ اے پی ایس حملہ ہمارےبچوں،ہمارے مستقبل اور ہمارے وجود پر حملہ تھا، سانحہ اے پی ایس جیسے واقعات دہشت گردوں اور خوارج کا اصل چہرہ بےنقاب کرتےہیں۔
صدر آصف زرداری نےکہاکہ پاکستانی قوم دہشت گردوں کو کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونےدے گی،سانحہ اے پی ایس نے ہمیں دہشت گردی کے خلاف بحیثیت قوم متحد کیا۔
ان کاکہنا تھاکہ تاریخ گواہ ہےکہ پاکستانی قوم مصیبتوں کے سامنے ہمت نہیں ہارتی، یہ دن دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے،اس عفریت کے مکمل خاتمے کےلیے کوششیں تیز کرنے کی یاد دلاتا ہے۔
صدر مملکت نےکہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیاسی قیادت نے بھی قربانیاں دیں، آج ہم اپنے بہادر سپاہیوں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتےہیں۔
صدر پاکستان آصف زرداری کا مزید کہنا تھاکہ اپنے بچوں،قائدین اور شہریوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، پاکستان سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی باقیات جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےعزم کا اعادہ کرتا ہوں،دہشت گردی کے خاتمے کےلیے عالمی برادری کو مشترکہ طور پر کوششیں کرنا ہوں گی۔صدر مملکت نے زور دیاکہ آئیے دہشت گردی کے خاتمے اور پرامن پاکستان کےلیے کام کرنے کا عہد کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف
اپنے پیغام میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےکہاکہ آج جب کہ پاکستان کی تاریخ کے ایک ناقابل فراموش سانحے، ایک بہت بڑے نقصان کے 10 سال مکمل ہورہے ہیں،ہمارا دل غم زدہ اور خون کے آنسو روتا ہے۔یہ ایک ایسا دل سوز واقعہ تھا جس کی یاد ایک دہائی سے ہمارے دلوں کو مضطرب کررہی ہے۔
شہباز شریف نےکہاکہ 16 دسمبر 2014 کو بزدل،بےرحم اور حیوانیت سے بھرپور دہشت گرد آرمی پبلک اسکول پشاور کے احاطے میں گھس کر تباہی و بربادی کرتے ہوئے 144 معصوم جانوں کو ہم سے ہمیشہ کےلیے جدا کر گئے، اس حیوانیت کا شکار ہوکر شہید ہونےوالوں میں سے اکثریت کم سن بچوں کی تھی جو کہ بہت ہی کم عمری میں ہمیں غمگین کرکے دنیا سے چلے گئے۔ان کی زندگی، ان کے خواب، ان کی امیدیں، ان کا مستقبل ان سے چھین لیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہاکہ اس سانحےکو خواہ کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ان معصوم و کم سن بچوں کی جدائی کے صدمے کو مٹا نہیں سکتا،ان ننھی کونپلوں نے اس دن ناقابل برداشت ظلم و بربریت کا سامنا کیا اور جام شہادت نوش کیا۔ ان خاندانوں اور والدین جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس بھیانک سانحے میں کھو دیا، جن کے لخت جگر ان سے چھین لیےگئے، ان کے غم اور تکلیف کو کسی طور بھی کم نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ قوم کو یاد رکھناچاہیے کہ فتنہ الخوارج اور ان جیسے دوسرے دہشت گرد ملک دشمن گروہوں کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کسی بھی معاشرتی اقدار سے بیرونی ملک دشمن عناصر کی ایماء پر یہ بزدل معصوم پاکستانیوں کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے نشانہ بناتے ہیں، پوری قوم ان بزدل دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور ان شاء اللہ کھڑی رہے گی۔
وزیراعظم نےکہاکہ مجھ سمیت پوری قوم ہمارے بچوں و اساتذہ کی بہادری کو سلام، انہیں خراج عقیدت، ان کے خاندانوں کی قربانیوں اور ہماری سیکورٹی فورسز کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جوآج بھی تمام ملک دشمن عناصر سے پوری ہمت اور جواں مردی سے نبرد آزما ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ آئیے آج ہم ایک پر امن اور محفوظ پاکستان کی تعمیر کےلیے اپنے عزم کا اعادہ کریں،جہاں کسی معصوم کو دوبارہ اس ظلم و بربریت سے نقصان نہ پہنچے، کسی بھی بچے کو خوف کے عالم میں اسکول نہ جانا پڑے اور ایسی کسی بھی ناانصافی کی کڑی سے کڑی سزا دی جائے، یہ ایک عہد ہے جو ہمیں مل کر کرنا ہے، یہ سب ہم پر اس سانحے کےمتاثرین و شہداء کا قرض ہے کہ ہم سب اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی جانیں رائیگاں نہیں گئیں۔ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔ہم کبھی معاف نہیں کریں گے۔
مدارس رجسٹریشن کا مسئلہ جلدحل ہوجائےگا،رانا ثنا اللہ
16 دسمبر 2024 کو کیا ہوا؟
16 دسمبر 2014 کو 6 دہشت گرد دیوار پھلانگ کر پشاور کے آرمی پبلک اسکول میں داخل ہوئے،جدید اسلحہ سےلیس اور سرکاری اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوث دہشت گردوں نے علم کی پیاس بجھانے والے طلبہ پر اندھا دھند گولیوں کی بوچھاڑ کردی تھی جس سے معصوم طلبہ اور بےگناہ اساتذہ خون میں لت پت ہوگئے اور پھولوں کی خوشبو سےمہکتا اسکول چند ہی لمحوں میں بارود کی بو سے آلودہ ہو گیا۔
سکیورٹی فورسز نےفوری طور پر پہنچ کر اے پی ایس کا گھیراؤ کیا اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 6 خودکش حملہ آوروں کو طویل آپریشن کےبعد مار ڈالا، درندہ صفت دہشت گردوں کےحملے میں 122 معصوم طلبا سمیت 147 افراد شہید ہوئے،دہشت گردوں سے مقابلے میں 2 افسروں سمیت 9 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
آرمی پبلک اسکول حملےمیں ملوث 6 دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیاجنہیں ملٹری کورٹس نے موت کی سزائیں سنائیں۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول کےبعد نیشنل ایکشن پلان بنایاگیا اور قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کیاگیا۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول کےنتیجے میں جہاں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا وہیں علم دشمن عناصر کے ناپاک ارادے بھی خاک میں مل گئے۔
