1000 شینیگن ویزے چوری ہونے کے ایئر پورٹس پر ہائی الرٹ

اسلام آباد میں اٹلی کے سفارتخانے سے 1000 شینیگن ویزا سٹِیکرز چوری ہونے کے بعد ملک بھر کے ایئرپورٹس کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت خارجہ نے وزارتِ داخلہ اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملک کے داخلی اور خارجی راستوں پر ایسے افراد پر نظر رکھیں جو اٹلی کے سفارت خانے سے چوری ہونے والے شینیگن ویزا سٹِیکرز پر سفر کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ یاد رہے کہ شینیگن ویزا یورپ کے 26 ملکوں کے سفر کے لیے کارآمد ہوتا ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع اٹلی کے سفارت خانے نے پاکستانی وزارتِ خارجہ کو آگاہ کیا تھا کہ اس کے سفارت خانے کے لاکر سے 1000 شینگن ویزا سٹِیکرز چوری کر لیے گئے ہیں۔ اٹلی کے سفارتخانے کی جانب سے پاکستانی حکام کو چوری ہونے والے ویزا سٹیکرز کے سیریل نمبرز بھی فراہم کیے گئے ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سفارتخانے کے حکام اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ وزارت خارجہ کے حکام نے اس واقعے سے متعلق اٹلی کے سفارت خانے کی جانب سے ملنے والے خط کی تصدیق کی ہے تاہم متعلقہ پولیس سٹیشن چوری کی اس واردات سے ابھی تک لا علم ہے۔
تاہم ایس پی سٹی اسلام آباد رانا وہاب نے اٹلی کے سفارت خانے سے 1000 ویزا سٹیکرز چوری ہونے کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک اٹلی کے سفارت خانے کی جانب سے اس واقعے کی رپورٹ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج نہیں کروائی گئی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بتایا کہ اُن کے علم میں یہ معاملہ آ گیا ہے اور معلومات اکٹھی ہونے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس بارے پیش رفت سے میڈیا کو کس حد تک آگاہ کرنا ہے۔ وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق اٹلی کے سفارتخانے نے اس واقعے کی بابت آگاہ کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ چوری ہونے والے شینیگن ویزا سٹیکرز کے سیریل نمبرز کو پاکستان کے تمام ایئر پورٹس پر آویزاں کر دیں تاکہ اگر کسی شخص کے پاسپورٹ پر یہ سٹیکر موجود ہو تو اسکو گرفتار کیا جا سکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اٹلی کا سفارت خانہ ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع ہے جہاں عام آدمی کا داخلہ ممکن نہیں ہے۔ ڈپلومیٹک انکلیو کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد پولیس کا ایک الگ وِنگ ہے۔ اس علاقے میں رہائش پذیر لوگوں کو خصوصی پاس جاری کیے جاتے ہیں اور متعدد خفیہ اداروں کے اہلکار اس علاقے میں مقیم رہائشیوں کو پاسز اور ان کے زیر استعمال گاڑیوں کو سٹیکرز جاری کرنے سے پہلے ان کی مکمل چھان بین کرتے ہیں۔
لہذا اتنے ہائی سکیورٹی ایریا میں واقع ایک سفارت خانے سے ویزا کے سٹیکرز اتنی بڑی تعداد میں چوری ہو جانا حیران اور پریشان کن عمل ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق ملکی تاریخ میں کسی بھی غیر ملکی سفارت خانے سے اتنی بڑی تعداد میں ویزا سٹیکرز چوری ہونے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ انھیں وزارت داخلہ کی طرف سے اس بارے ایک خط موصول ہوا ہے جس کے بعد تحققیات کا اغاز کر دیا گیا ہے اور تمام ایئرپورٹس پر چوری ہونے والے شینیگن ویزا سٹیکرز کے سیریل نمبر بھی شیئر کیے گئے ہیں۔ایف آئی اے اہلکار کے مطابق یہ معاملہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اسلام آباد زون کو بھیجا گیا ہے۔ اس اہلکار کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ ایف آئی اے کا پاسپورٹ سیل ہی اس معاملے کی چھان بین کرے گا۔
یاد رہے کہ اٹلی کے سفارت خانے سے چوری ہونے والے سٹیکرز شینگن ویزا کے سٹیکرز ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاسپورٹ پر یہ سٹیکر ہو گا وہ اٹلی کے علاوہ پورپی یونین کے 36 ممالک میں بھی سفر کر سکتا ہے۔اسلام آباد میں ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے منسلک ندیم بیگ کا کہنا ہے کہ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اتنی بڑی تعداد میں سٹیکرز چوری ہونے میں انسانی سمگلرز کا بہت با اثر گروہ ملوث ہو۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر اس واقعے میں انسانی سمگلرز کا کوئی گینگ ہی ملوث ہو سکتا ہے جس کے اس سفارت خانے کے اندر بھی رابطے ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سفارت خانے کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ چوری ہونے والے سٹیکرز کو بلیک لسٹ میں ڈال دیں جس کے بعد اگر کسی شخص کے پاسپورٹ پر یہ سٹیکر چسپاں ہوا تو اس کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ندیم کا کہنا تھا کہ اٹلی کے سفارت خانے کے عملے کے نوٹس میں یہ معاملہ آنے سے پہلے اگر یہ سٹیکرز استعمال ہوگئے ہیں تو کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر ان سٹیکرز پر سفر کرنے والوں کو باآسانی ٹریس کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ کے حوالے سے اور بالخصوص لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے یورپی ملکوں میں بھجوانے کے سلسلے میں بہت سے گروہ متحرک ہیں جن کے بارے میں ایف آئی اے ہر سال ریڈ لسٹ بھی جاری کرتا ہے۔ایف آئی اے کے حکام کے مطابق اس ریڈ لسٹ میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق صوبہ پنجاب کے وسطی شہروں سے ہے جن میں گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ قابل ذکر ہیں۔ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ٹریول ایجنٹس اور دوسرے گروہ لوگوں کو یورپی ممالک میں بھیجنے کے لیے بیس سے پچیس لاکھ روپے فی کس کے حساب سے لیتے ہیں اور لوگ بیرون ملک جانے کے لیے خوشی خوشی یہ رقم دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

Back to top button