11 ارب روپے کا جہاز: پنجاب حکومت دھمکیوں پر اتر آئی

 

 

 

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے آرام دہ سفر کو یقینی بنانے کے لیے 11 ارب روپے کی مالیت سے خریدا گیا پُرتعیش سرکاری طیارہ پنجاب حکومت کے گلے پڑ چکا ہے اور اس سے جڑے تنازعات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ چنانچہ پنجاب حکومت نے یہ دھمکیاں آمیز اعلان کیا ہے کہ اس معاملے پر ’بدنیتی پر مبنی منفی مہم‘ چلانے والے افراد اور اداروں کے خلاف ہتکِ عزت کے قانون کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 

یہ معاملہ گزشتہ چند ہفتوں سے سماجی رابطوں کی ویب گاہوں اور سیاسی حلقوں میں زیرِ بحث ہے، جہاں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ جہاز پنجاب حکومت کی مجوزہ صوبائی فضائی کمپنی کے لیے خریدا گیا ہے یا اسے وزیراعلیٰ پنجاب کے سرکاری سفر کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس تنازعے نے اس وقت شدت اختیار کی جب سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر یہ دعوے گردش کرنے لگے کہ گلف سٹریم پانچ سو طیارہ آسٹریا کے شہر ویانا میں موجود ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے جنید صفدر اسے استعمال کرتے ہوئے یورپ گئے ہیں۔ ان الزامات کے بعد جنید صفدر نے اپنے سماجی رابطے کے صفحے کے ذریعے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت لاہور میں موجود ہیں اور انہوں نے گلف سٹریم طیارہ استعمال نہیں کیا۔ تاہم ان کی وضاحت کے باوجود سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر قیاس آرائیوں اور افواہوں کا سلسلہ جاری رہا۔

 

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے طیارے کی ویانا میں موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے وضاحت دی کہ طیارہ معمول کے فنی معائنے کے لیے وہاں بھیجا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کا جہاز فنی معائنے کے لیے ویانا گیا ہے اور اس بارے میں جاری قیاس آرائیاں نہ صرف حقائق کے برعکس ہیں بلکہ افسوسناک بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طیاروں کا ایک متعین مدت کے بعد فنی معائنہ معاہدے کا لازمی حصہ ہوتا ہے اور معمول کے معائنے پر بے بنیاد باتیں پھیلانے کے بجائے بامقصد کاموں پر توجہ دینی چاہیے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود سماجی رابطوں کی ویب گاہوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رہا کیونکہ پچھلی مرتبہ اس معاملے پر عظمی بخاری کا جھوٹ پکڑا گیا تھا۔

 

جب سوشل میڈیا پر اس بارے تنازعہ بڑھا تو سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے ٹوئیٹر پر ایک بیان جاری کیا۔ انہوں نے لکھا کہ پنجاب حکومت کے سرکاری طیارے کے استعمال کے بارے میں جھوٹ اور من گھڑت کہانیوں پر مبنی ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس میں بعض عناصر اور جھوٹی خبریں پھیلانے والے اکاؤنٹس شامل ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی حکومت اس مہم میں ملوث ہر فرد اور ذریعے کے خلاف ہتکِ عزت کے قانون کے تحت کارروائی کرے گی۔

 

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب گاہوں کے صارفین کا مؤقف ہے کہ پنجاب حکومت کو قانونی کارروائی کی بجائے شہریوں کے سوالات کے واضح جوابات دینے چاہییں۔ سابق سفیر اور زبیر عمر نے کہا ک اگر ابتدا میں مکمل شفافیت کے ساتھ جہاز کی تفصیلات فراہم کر دی جاتیں تو تنازع اس حد تک نہ پہنچتا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ وزیر اطلاعات نے پہلے کہا تھا کہ یہ جہاز پنجاب کی مجوزہ فضائی کمپنی کے لیے خریدا گیا ہے جس کے بعد حکومتی مؤقف مزید الجھ گیا۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ادارے محکمہ تعلقاتِ عامہ پنجاب نے گزشتہ برس اپریل میں ایک اعلامیے میں پاکستان کی پہلی صوبائی فضائی کمپنی ایئر پنجاب کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس فضائی کمپنی کے قیام کی منظوری دی اور حکام کو ہدایت کی کہ ابتدائی مرحلے میں چار ایئر بس طیارے کرائے پر حاصل کیے جائیں۔

 

حکومت کے مطابق ایئر پنجاب پہلے مرحلے میں ملک کے اندر پروازیں چلائے گی جبکہ ایک سال بعد بیرونِ ملک پروازیں بھی شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم تاحال زیرِ بحث گلف سٹریم طیارہ نہ تو پنجاب حکومت کے نام درج کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے کسی فضائی کمپنی کے بیڑے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ معرعف ماہرِ معیشت ڈاکٹر علی حسنین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب کے ٹیکس دہندگان کو اس جہاز کی خریداری اور اس کی قیمت کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت واضح کرے کہ اس طیارے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے بجائے کسی چھوٹے جہاز، ہیلی کاپٹر یا دیگر سفری ذرائع پر غور کیوں نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ طیارے کی پروازوں سے متعلق معلومات بھی عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں۔

 

معروف صحافی روف کلاسرا نے بھی پنجاب حکومت کے قانونی کارروائی کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر سیاستدان عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ استعمال کرتے ہیں تو انہیں سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، نہ کہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دینی چاہییں۔ یاد رہے کہ متنازع طیارہ دراصل امریکہ کی کمپنی گلف سٹریم ایئرو سپیس کا تیار کردہ پُرتعیش کاروباری جیٹ طیارہ ہے۔ کمپنی کی ویب گاہ کے مطابق یہ طیارہ جدید سہولیات اور مسافروں کی آسائش کے لیے خصوصی طور پر تیار کیا گیا ہے۔ یہ طیارہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور ایک ہی سفر میں تقریباً آٹھ ہزار تین سو چونتیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں تقریباً تیرہ مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی ہے جبکہ طویل سفر کے دوران آرام کے لیے خصوصی نشستیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایک نیا گلف سٹریم پانچ سو طیارہ تقریباً ساڑھے چار کروڑ ڈالر تک میں فروخت ہوتا ہے۔

کیا روبوٹس انسانی ترقی کے لیے فائدہ مند ہیں؟ سہیل وڑائچ کا تجزیہ

ایک نجی فضائی کمپنی سے وابستہ ایک پائلٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گلف سٹریم جیسے طیارے دراصل کاروباری جیٹ کہلاتے ہیں اور دنیا بھر میں بڑے کاروباری افراد، حکومتی شخصیات اور عرب ریاستوں کے حکمران انہیں ذاتی سفر کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان طیاروں میں نشستیں محدود ہوتی ہیں اور انہیں عام مسافروں کی تجارتی فضائی سروس کے طور پر استعمال کرنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کسی طیارے کو خریدنے یا کرائے پر لینے کے لیے پہلے سول ہوا بازی کے ادارے کو درخواست دینا پڑتی ہے، پھر اجازت نامہ جاری ہوتا ہے، اس کے بعد پائلٹ مقرر کیے جاتے ہیں اور دیگر انتظامات مکمل کیے جاتے ہیں۔

Back to top button