13 سیٹوں والے مولانا آخری وقت کس کے ساتھ یاری نبھائیں گے؟

قومی اسمبلی میں صرف 8 اور سینیٹ میں صرف 5 سیٹوں والے جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنی 13 نشستوں کے بل پر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ فوج اور عدلیہ کو بھی آگے لگا رکھا ہے۔ حکومت بھی خوشامد کے چکر میں مولانا کی امامت میں نماز ادا کرنے کےلیے ان کے گھر پہنچ جاتی ہے اور پی ٹی آئی والے بھی ان کی دہلیز پر ماتھا ٹیک رہے ہیں۔ ایسے میں وہ دن دور نہیں جب فوج اور عدلیہ والے بھی مولانا کی امامت میں کھڑے ہونے کو تیار ہو جائیں گے۔ لہٰذا مولانا اس وقت ملک کے شاطر ترین سیاست دان قرار دیے جا سکتے ہیں۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ماضی میں جنرل مشرف کا ساتھ دیتے ہوئے اس کا غیر آئینی لیگل فریم ورک آرڈر پاس کروانے والے مولانا آج جمہوریت کے چیمپیئن ہونے کے دعوے کر رہے ہیں۔ موصوف اس وقت جو بھی مطالبہ کریں گے وہ آدھ گھنٹے میں پورا ہو چکا ہو گا جب کہ ان کے مقابلے میں عمران خان کے پاس قومی اسمبلی میں 90 اور سینیٹ میں 17 نشستیں ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ان کی دو تہائی اکثریت کے ساتھ مضبوط ترین حکومت ہے اور انھیں جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف سے بھی زیادہ عدالتی سپورٹ حاصل ہے، لیکن خان صاحب اس سب کے باوجود جیل میں پڑے ہیں، لہٰذا پھر ان دونوں میں سے بڑا سیاست دان کون ہوا؟ وہ مولانا فضل الرحمن جو پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنی امامت میں نماز پڑھا رہے ہیں یا پھر وہ عمران خان جس کی تمام امیدوں کا مرکز اس وقت مولانا ہیں۔
جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر مولانا کے نام سے ملک میں سیاسیات کی پہلی یونیورسٹی قائم کر دینی چاہیے اور اس میں داخلہ لے لینا چاہیے‘ عمران کو بھی آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلر کا الیکشن لڑنے کے بجائے مولانا کی یونیورسٹی میں کلرک کے لیے اپلائی کرنا چاہیے‘ کیوں کہ ملک میں اس وقت سیاست دان صرف مولانا ہیں باقی سب ریلو کٹے ثابت ہو رہے ہیں۔ سینئر صحافی کہتے ہیں کہ یہ سب تب سٹارٹ ہوا جب عمران نے جیل میں جسٹس منصور علی شاہ‘ جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی سے امیدیں وابستہ کر لیں‘ انھوں نے جولائی میں کہا تھا کہ اکتوبر 2024 کے آخر میں جب جسٹس فائز عیسیٰ ریٹائر ہو جائیں گے اور جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس بن جائیں گے تو 8 فروری کے الیکشن پر جوڈیشل کمیشن بن جائے گا۔ انکا کہنا تھا کہ یہ کمیشن فارم 45 اور فارم 47 نکلوائے گا اور حکومت ختم ہو جائے گی لہٰذا پارٹی نئے الیکشن کی تیاری کر لے۔ عمران خان کے اس دعوے کے دو نتائج نکلے۔ جسٹس منصور شاہ جیسا دبنگ جج بھی متنازع ہو گیا‘ وہ اب اگر چیف جسٹس بنتے ہیں تو آپ خود سوچیے کیا یہ چاہتے ہوئے بھی جوڈیشل کمیشن بنا سکیں گے؟ کیا وہ عمران کو ریلیف دے سکیں گے اور اگر ایسا ہوا تو آج کی حکومت اور مستقبل کی اپوزیشن یہ بیان قوم کے سامنے رکھ کر بار بار سوال نہیں کرے گی کہ عمران کو جولائی میں کیسے پتا چل گیا تھا کہ نومبر 2024 میں جوڈیشل کمیشن بنے گا اور حکومت چلی جائے گی؟ لہٰذا ہمیں ماننا ہوگا عمران نے جسٹس منصور شاہ کی پوزیشن نازک بنا دی‘ دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت ڈر گئی اور اب آئینی ترامیم کا ایک ایسا پیکیج لے کر پھر رہی ہے جسکا بنیادی مقصد جسٹس منصور شاہ کو روکنا اور عدلیہ کو حکومت یا پارلیمنٹ کے ماتحت بنانا ہے۔ شہباز حکومت اس کوشش میں آئین‘ اخلاقیات اور دماغ تینوں کا توازن کھو بیٹھی ہے۔ اس منظر نامے میں بھی ہمیں ایک اور حقیقت ماننا ہو گی کہ ملک میں سیاست دان صرف ایک ہی ہے اور اس کا نام مولانا فضل الرحمن ہے۔
جاوید چوہدری کے مطابق عمران خان دس سال مولانا کو ڈیزل کہتا رہا‘ وہ سٹیج پر کھڑا ہو کر مولانا کی نقلیں اتارتا تھا‘ اس نے دس سال مولانا سے ہاتھ نہیں ملایا، لیکن آج پی ٹی آئی بار بار مولانا کے در پر جاتی ہے‘ مولانا ہنس کران کی درخواست سنتے ہیں اور آخر میں اپنی امامت میں انھیں نماز پڑھاتے ہیں‘ تصویر بنواتے ہیں اور اسے میڈیا میں ریلیز کر دیتے ہیں۔
آج عارف علوی‘ اسد قیصر‘ گوہر خان‘ عمران خان اور سلمان اکرم راجہ دن رات مولانا کی جمہوریت پسندی کی تعریف کرتے نہیں تھکتے اور آپ کمال دیکھیں‘ مولانا نے ابھی تک پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں کیا‘ یہ بس انھیں چارہ بنا کر‘ انھیں دکھا کر روز حکومت کو ڈرا دیتے ہیں اور حکومت دوڑ کر ان کے دروازے پر پہنچ جاتی ہے‘ مولانا کو بڑا شکوہ یہ تھا کہ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف انھیں استعمال کر گئے‘ ان کا موقف یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں نے بنائی‘ عمران کے خلاف عدم اعتماد میں لے کر آیا اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی عمران سے دور میں نے کیا، لیکن الیکشنز کے تمام فوائد ان دونوں نے سمیٹ لیے‘ مجھے کسی نے پوچھا تک نہیں، لہٰذا وہ زرداری صاحب اور میاں صاحب دونوں سے ناراض تھے۔ لیکن آج کی سیاست میں انھوں نے قومی اسمبلی میں 8 اور سینیٹ کی 5 سیٹوں کے ساتھ سب کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے علاوہ آصف زرداری‘ شہباز شریف اور بلاول بھٹو بار بار ان کے دروازے پر آنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اتوار 15 ستمبر کی رات میاں نواز شریف بھی مولانا کے گھر آنے کے لیے تیار بیٹھے تھے لیکن وہ پی ٹی آئی کی امامت میں مصروف تھے‘ دوسرا میاں صاحب کو پارٹی نے سمجھایا کہ مولانا نے آپ کو بھی انکار کر دیا تو ہم مزید ڈائیلاگ نہیں کر سکیں گے لہٰذا آپ ابھی نہ جائیں‘ اب صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی ساری امیدیں مولانا سے وابستہ ہیں اور حکومت بھی مولانا کی محتاج ہے۔ مولانا سب سے مل رہے ہیں‘ سب کو چائے پلا رہے ہیں اور سب کے لیے دعائے خیر کر رہے ہیں اور کھل کر مسکرا رہے ہیں‘ آج سے ایک ماہ پہلے تک مولانا کی گلی سونی ہوتی تھی‘ ان کے گھر میں بھی رونق نہیں تھی لیکن اب پوری گلی میں ڈی ایس این جیز کھڑی ہیں اور ایک کے بعد دوسرا وفد آ رہا ہے اور مولانا اس میلے کو طول دیتے جا رہے ہیں۔ لہٰذا سوال یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں اصل سیاست دان کون ہے؟ کیا اس کا نام مولانا فضل الرحمن نہیں ہے؟
