14 روز بعد پاک ایران سرحد کو تجارت کیلیے کھول دیا گیا

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر بند کی گئی پاک ایران سرحد کو 14 روز بعد تجارتی سرگرمیوں کےلیے کھول دیا گیا۔
پاکستانی حکام ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد نے حفاظتی انتظامات کے تحت بلوچستان کے ضلع تفتان میں پاک ایران بارڈر کو بند کردیا تھا اور شروع میں ایران سے آنے والے زائرین کی آمدو رفت بھی روک دی گئی تھی تاہم زائرین کو بعد میں پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
لیویز حکام نے تفتان میں پاک ایران سرحد 14 روز بعد تجارت کےلیے کھولنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں۔
مقامی انتظامیہ کی جانب سے بارڈر کے دروازے کھلنے کے بعد تجارت کی بحالی سے مال بردارٹریلرز کی آمدورفت شروع ہوگئی ہے۔
واضح رہےکہ تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے پاکستان آنے والے زائرین کو پاکستان ہاؤس میں قرنطینہ میں رکھا جارہا ہے جہاں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جب کہ پاکستان ہاؤس بھرنے کے باعث دیگر لوگوں کو ٹاؤن ہال منتقل کردیا گیا۔
دوسری جانب افغانستان میں بھی کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد چمن پر پاک ایران بارڈر 6 روز سے بند ہے جہاں باب دوستی سے ہر قسم کی دوطرفہ آمدورفت معطل ہے۔
ایف آئی اے حکام کا کہنا ہےکہ چمن سے پاک افغان سرحد اتوار تک کھلنے کا امکان ہے، سرحد کھلنےکے بعد افغانستان سے آنے والے افراد کی اسکریننگ ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button