پی ایس ایل 7 کا فاتح کون،لاہورقلندرز یا ملتان سلطانز؟

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے ساتویں ایڈیشن کے فائنل میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کوفتح کے لیے 181 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں سلطانز کی بیٹنگ جاری ہے۔
تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں میزبان لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو پہلے باؤلنگ کی دعوت دی۔قلندرز نے اننگز کا آغاز تو اننگز کے تیسرے ہی اوور میں آصف آفریدی کو چھکا مارنے کی کوشش میں فخر زمان وکٹ دی بیٹھے جن کا شاہنواز دھانی نے شاندار کیچ لیا۔ابھی قلندرز اس نقصان سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ اگلے ہی اوور میں ڈیوڈ ولی کی باہر جاتی گیند کو کھیلنے کی کوشش میں ذیشان اشرف وکٹ کیپر کو کیچ دے کر چلتے بنے۔
سلطانز کو جلد ہی ایک اور وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن پوائنٹ پر کھڑے فیلڈر کامران غلام کا کیچ نہ تھام سکے۔
تاہم آصف آفریدی نے اپنے اگلے اوور میں ٹیم کو ایک اور بڑی کامیابی دلاتے ہوئے گزشتہ میچ میں نصف سنچری بنانے والے عبداللہ شفیق کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا جو کریز سے باہر نکل کر کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپ ہو گئے۔تین وکٹیں گرنے کے بعد کامران غلام کا ساتھ دینے محمد حفیظ آئے اور دونوں نے آہستہ آہستہ اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا۔حفیظ گزشتہ میچوں کی نسبت اب تک آج اچھی فارم میں نظر آ رہے ہیں اور کامران غلام کے ہمراہ چوتھی وکٹ کے لیے 54رنز کی شراکت قائم کی۔
اس سے قبل کہ یہ شراکت خطرناک ثابت ہوتی، سلطانز نے 20 گیندوں پر 15 رنز بنانے والے کامران غلام کی وکٹ حاصل کر کے چوتھی کامیابی حاصل کر لی۔کامران غلام نے آصف آفریدی کو چھکا مارنے کی کوشش کی لیکن باؤنڈری پر شان مسعود اور ٹم ڈیوڈ نے مل کر عمدہ کیچ لے کر کامران کو چلتا کردیا۔دوسرے اینڈ پر موجود تجربہ کار محمد حفیظ نے بڑے میچ میں نصف سنچری اسکور کی۔
حفیظ اور ہیری بروک نے پانچویں وکٹ کے لیے 58 رنز کی شراکت قائم کی ، حفیظ 46 گیندوں پر ایک چھکے اور 69 رنز بنانے کے بعد دھانی کی وکٹ بنے۔اختتامی اوورز میں ایک مرتبہ پھر ڈیوڈ ویزے نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ہیری بروک نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔دونوں کھلاڑیوں نے آخری دو اوورز میں بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 40 رنز بٹورے جس کی بدولت قلندرز نے مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 180رنز بنائے۔ہیری بروک نے 22 گیندوں پر 41 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ڈیوڈ ویزے نے صرف 8 گیندوں پر 28رنز بنائے۔اس سے قبل میچ کے لیے لاہور قلندرز کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے اور فل سالٹ کی جگہ ذیشان اشرف کو فائنل الیون کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سلطانز کی ٹیم میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے اور جانسن چارلس کی جگہ ٹم ڈیوڈ کی واپسی ہوئی ہے۔میچ دیکھنے کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی اسٹیڈیم میں موجود ہیں۔پاکستان سپر لیگ کی فاتح ٹیم 8 کروڑ روپے کی انعامی رقم ملے گی جبکہ رنر اپ ٹیم کو تین کروڑ 20لاکھ روپے دیے جائیں گے۔گزشتہ سال ملتان سلطانز کو ٹرافی جیتنے پر ساڑھے 7کروڑ روپے کی انعامی رقم دی گئی تھی جبکہ رنر اپ پشاور زلمی نے 3کروڑ روپے کا چیک وصول کیا تھا۔اس کے علاوہ سب سے زیادہ، سب سے زیادہ وکٹیں، بہترین فیلڈر، وکٹ کیپر، ابھرتے ہوئے کھلاڑی، بہترین آل راؤنڈر اور امپائر کو بھی 30، 30 لاکھ روپے کے انعام دیے جائیں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس کے علاوہ 35لاکھ روپے کا اسپرٹ آف کرکٹ ایوارڈ بھی دے گا۔
فائنل سے قبل شاہین شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کھیلے گئے ٹورنامنٹ کے دوسرے ایلیمینٹر میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف سنسنی خیز میچ میں کامیابی کے بعد ان کی ٹیم کی نظریں اب صرف ٹورنامنٹ کی ٹرافی پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے اس عرصے کے دوران لاہور قلندرز نے لاجواب کرکٹ کھیلی ہے۔انہوں نے کہا کہ تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں کھیلنا اور پھر کامیاب حاصل کرنے سے بڑی خوشی اور کوئی نہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ہر میچ کے لیے ایک بڑی تعداد میں اسٹیڈیم کا رخ کرنے پر لاہور کی عوام کے مشکور ہیں۔
انہوں نے لاہور کے باسیوں سے درخواست کی تھی کہ وہ فائنل کے روز بھی سٹیڈیم کو بھریں تاکہ وہ ان تمام فینز کے سامنے ٹرافی اٹھا کر ان کا شکریہ ادا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ ’ملتان کی ٹیم ایک بھرپور فارم میں ہے تاہم لاہور قلندرز اسے ہرانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔‘
ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم کے لیے یہ ٹورنامنٹ شاندار رہا ہے اور ایک کپتان کی حیثیت سے وہ اپنے کھلاڑیوں سے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں مانگ سکتے۔’دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے کسی ٹورنامنٹ میں شرکت کرنا ہمیشہ دباؤ کا شکار رکھتا ہے تاہم ملتان سلطانز کی مینیجمنٹ اور تمام کھلاڑیوں نے اس دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔‘انہوں نے کہا کہ لاہور نے اب تک ایونٹ میں بہترین کرکٹ کھیلی ہے اور اتوار کو انہیں کراؤڈ سے بھی بھرپور سپورٹ میسر ہوگی۔’لاہور کا کراؤڈ بہت شاندار ہے اور امید ہے کہ فائنل کے روز ملتان سلطانز کے فینز بھی بڑی تعداد میں سٹیڈیم کا رخ کریں گے۔‘انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال ملتان سلطانز نے ابوظہبی کے خالی سٹیڈیم میں ٹرافی اٹھائی تھی مگر اللہ کی مدد سے اس مرتبہ ان کی ٹیم تماشائیوں سے بھرے قذافی سٹیڈیم لاہور میں فائنل جیت کر ٹرافی اٹھائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ پورے ٹورنامنٹ میں بھرپور اسپورٹ کرنے پر ملتان سلطانز کے تمام فینز کے شکر گزار ہیں۔

Back to top button