عمران خان کی چودھریوں سے سیاسی ملاقات غیر سیاسی رہی

ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد عمران خان بھی متحرک ہو گئے، چودھری برادران سے ملاقات کی۔ چودھری برادران سے ملاقات کے دوران وزیراعظم کویقین دلایا کہ ہم آپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے چوہدری شجاعت حسین اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی سے ملاقات کی جس میں چوہدری برداران نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر ڈٹ کرساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیراعظم عمران خان وفد کے ہمراہ چوہدری برادران سے ملاقات کے لیے اُن کی رہائش گاہ پہنچے جہاں چوہدری پرویز الہی اور چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے ملاقات میں چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور اُن کی جلد صحت یابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔عمران خان کے ہمراہ وفد میں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وفاقی وزراء عبدالرزاق داؤد، فواد چوہدری، مخدوم خسرو بختیار، شفقت محمود، حماد اظہر اور عامر ڈوگر شامل تھے۔
دوسری طرف وزیراعظم عمران خان اور چودھری برادران کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔ جس میں چودھری برادران نے یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔چودھری برادران کا کہنا تھا کہ 14 سال بعد شہباز شریف کو ہمارا خیال آگیا، شہباز شریف کو بتا دیا تھا عمران خان کو ہٹا نہ سکے تو وہ پہاڑ پر اور ہم زمین کے نیچے دھنس جائینگے، ایسی چال کا کیا فائدہ جس کی کامیابی کا کوئی چانس ہی نہ ہو، آپ کے ساتھ سیاست کریں گے، عدام اعتماد کی باتیں افسانے ہیں۔ اس دوران وزیراعظم نے چودھری برادران کو روس اور چین کے دورے پر اعتماد میں لیا اور کہا کہ بہت لوگ کہہ رہے تھے روس نہ جائیں جس پر میں نے جواب دیا اب دورہ کینسل کرنا نامناسب ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ دعاگو ہوں اللہ تعالیٰ چودھری شجاعت حسین کو جلد مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔ اس دوران مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم چوہدری پرویز الہیٰ اور چوہدری شجاعت سے موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلۂ خیال بھی کیا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اتحادی جماعت مسلم لیگ ق سے رابطے کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد وہ ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کریں گے۔
علاوہ ازیں عمران خان نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژنز سے منتخب ہونے والے اراکین پارلیمنٹ سے گھنٹوں ملاقات ہوئی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نے اپوزیشن کی تحریک کو غیر فعال کرنے کے لیے خود رابطوں کا محاذ خود سنبھال لیا ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر ہی وزیراعظم نے گزشتہ روز اپنے پرانے ساتھی جہانگیر ترین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور صحت سے متعلق دریافت کیا تھا۔
خیال رہے کہ ملک میں سیاسی محاذ سرگرم ہے جس کے باعث متحدہ اپوزیشن وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے سرگرم ہے جس کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اسمبلی، جہانگیر ترین گروپ، حکومتی اتحادیوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد شہباز شریف، امیر جمعیت علمائے اسلام اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان ، سابق صدر آصف علی زرداری، ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ سب سے پہلے وزیراعظم کو گھر بھیجا جائے گا اور آئندہ وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی صورت حال کے پیش نظر ہی وزیراعظم نے گزشتہ روز اپنے پرانے ساتھی جہانگیر ترین سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور صحت سے متعلق دریافت کیا تھا۔
