عمران اکیلے گھر نہیں جائیں گے، کسی اور کو بھی لے جائیں گے


معروف تحقیقاتی صحافی اعزاز سید نے کہا ہے کہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد کے مکینوں کے مابین معاملات بہت زیادہ کشیدہ ہیں اور حادثے کے امکانات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ خاموشی سے ایک دوسرے کیخلاف گھاتیں لگائی جا رہی ہیں اور وارداتیں کی جارہی ہیں جو کسی وقت بھی اعلانیہ طبل جنگ میں بدل سکتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ایک طاقتور شخصیت پر سے وزیراعظم عمران خان کا اعتماد ختم ہوچکا ہے، اسی لیے وہ ایک اہم فیصلہ کرنے کیلئے دن رات سوچ بچار کر رہے ہیں۔ اگر انکا یہ مسئلہ حل ہو گیا تو اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکام ہو جائے گی لیکن اگر یہ معاملہ بگڑ گیا تو عمران کی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اعزاز کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کو واضح نظرآگیا کہ وہ گھر جا رہے ہیں تو وہ اکیلے نہیں بلکہ ’’کسی‘‘ اور کو بھی ساتھ لے کر ہی جائیں گے۔
اپنی تازہ تحریر میں اعزاز سید بتاتے ہیں کہ پچھلے دنوں عمران خان اپنے ایک پرانے مگر بااعتماد دوست کے گھر گئے جہاں خوب راز نیاز ہوا۔ ان کا یہ دوست کسی زمانے میں جنرل مشرف کا بھی خاص دوست تھا جو اقتدارکی نزاکتوں کو خوب سمجھتا ہے۔ اعزاز کہتے ہیں کہ میری عمران خان کے دوست سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا کیا وزیراعظم پر اعتماد ہیں؟ جواب آیا عمران غیر معمولی طور پر پراعتماد ہے۔ وجہ پوچھی تو انہوں نےکہا کہ’’وہ سمجھتا ہے کہ کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ خدا میرے ساتھ ہے‘‘۔ ممکن ہے عمران خان ایسا ہی سمجھتے ہوں مگرحقیقت یہ ہے کہ اب ان کی حکومت کیخلاف کھیل شروع ہوچکا ہے مگر شاید انجام کا علم کھیل شروع کرنیوالوں کو بھی نہیں۔ کھیل کا باقاعدہ آغاز تب ہوا جب آصف زرداری اور شہباز شریف اسلام آباد میں تعینات ایک افسر سے راولپنڈی میں اسکے گھر الگ الگ جاکر ملے۔
دونوں کو بتایا گیا کہ’’ہم نیوٹرل ہیں‘‘۔ نیوٹرل ہونے کے اعتماد سے ہی دونوں رہنما پرجوش نظر آئے اور پھر اگلے چند ہفتوں میں عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ سامنے آگیا، یہ الگ بات کہ فیصلہ کرتے وقت اپوزیشن رہنمائوں نے سوچا ہی نہیں کہ وہ عمران خان کو چوتھا بجٹ پیش کرنے سے روک کراسے سیاسی شہید بنانے کی کوشش کرنے لگے ہیں جو ان کے لیے سودمند ہو نہ ہو، عمران خان کیلئے بڑا فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اعزاز سید کہتے ہیں کہ اگر نئی حکومت وجود میں آئی تو اسے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی روشنی میں چار سو ارب کے نئے ٹیکسز لگانے پڑیں گے اور جونہی یہ نئے ٹیکسز لگائے گئے عمران خان، نواز شریف کی طرح ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ جیسے مزاحمتی نعرے لگا کر کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ حاصل کرلیں گے۔ لیکن عمران کو مگر کسی نقصان کے بغیر اقتدارسے نکالنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔اگر عمران کو واضح نظرآگیا کہ وہ جارہے ہیں تو وہ اکیلے نہیں بلکہ’’کسی‘‘اور کو بھی ساتھ لے کر ہی جائیں گے۔ لیکن اگر وزیراعظم کو یقین ہوا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنادیں گے تواس بار وہ آبپارہ کی بجائے اسلام آباد سیکرٹریٹ میں واقع کے بلاک سے رجوع کریں گے۔ انٹیلی جنس بیورو کے موجودہ سربراہ ڈاکٹر سلیمان کی تعیناتی تو راولپنڈی کی آشیرباد سے ہی ہوئی تھی مگر وہ اصل میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے منظور ِنظر تھے۔آج بھی دونوں افسران بعض شامیں اکٹھے ہی گزارتے ہیں۔
ڈاکٹر سلیمان وقت گزرنے کیساتھ عمران کا اعتماد بھی جیت چکے ہیں حالانکہ مالی طور پر انکی ایمانداری ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ ان کا نام نیب کے ایک مقدمے میں بھی گونجتا رہاہے۔ مگر ایسی نازک صورتحال میں وہ وزیراعظم کے کام کے ہیں۔ شنید ہے کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی فہرستیں بنا رکھی ہیں اور ان پر کڑی نظربھی رکھی جارہی ہے۔
اعزاز سید کا کہنا ہے کہ عمران مخالف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے پہلے پی ٹی آئی کے مشکوک اراکین کی شکایات دور کی جائیں گی اور انہیں رام کیا جائے گا۔ جو لوگ رام نہیں ہونگے شاید وہ تحریک عدم اعتماد کے روز غائب کردئیے جائیں کیونکہ اس روز ایوان میں اکثریت ثابت کرنا حکومت کی نہیں بلکہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت تو شاید ایوان میں بھی نہ آئے۔ اس وقت پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم و بیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے گوکہ قومی اسمبلی کے 342 ارکان کے ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپر نیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حکومت مختلف پیشکشوں کے ذریعے ان ناراض ارکان کو خرید نہیں سکتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض ارکان ایسے ہیں جو وزیراعظم سے اصولوں کی بنیاد پر ناراض ہیں، یہ وہ خاندانی لوگ ہیں جو عزت کی خاطر کسی بھی پیشکش کو ٹھکراسکتے ہیں، ان کی تعداد البتہ کم ہے، تاہم مراعات لینے والوں کی تعداد ہمیشہ ہی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا حکومت کے پاس اس میدان میں کھیل کرجیتنے کا امکان بھی زیادہ ہے۔ جن ارکان کی نظراگلے انتخابات میں پنجاب سے ن لیگ اور سندھ سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ہے وہ البتہ مسئلہ پیدا کرسکتےہیں۔
بقول اعزاز سید، ایسا نہیں کہ دوسری طرف سب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں، فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی عمران خان کی طرح سوچ بچار میں ہے۔ ہر دل میں طاقت کیساتھ دیر تک جمے رہنے کی خواہش تو ہوتی ہے مگر ایسا ہونا مشکل سے مشکل تر ہوگیا ہے، تاہم اگر عمران خان نے مقررہ وقت سے پہلے ہی کوئی ہاتھ دکھا دیا تو مسئلہ صرف جونیئر اور متنازع شخص کی تعیناتی سے ہی ہوگا، لیکن اگر اس عہدے پر کسی سینئر بندے کو لگا دیا گیا تو شاید اتنا ردِعمل نہ آئے۔ سنا یہ ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے کسی ممکنہ حکم نامے سے ’’نمٹنے‘‘ کیلئے شاہراہ دستور پر انصاف کی عمارت میں بیٹھے قاضی کو بھی ہنگامی صورتحال میں ریلیف دینے کیلئے تیار رہنے کا اشارہ ہے۔
ان منظر ناموں میں سب سے آئیڈیل صورتحال یہ ہوگی کہ وزیراعظم اوراسٹیبلشمنٹ اگلے 9 مہینے ایک دوسرے کو برداشت کرلیں اورپھرایک پر وقار انداز میں گھر چلا جائے، اسکے بعد ایک نیا اور غیر متنازع شخص سامنے آئے۔حکومت اپنی پانچ سالہ مدت ختم کرکے وقت پرگھرجائے اور مداخلت سے پاک صاف اور شفاف انتخابات منعقد ہوں جن میں لوگ اہنی من پسند جماعت اور اسکے رہنما کو منتخب کرلیں، مگر یہ سب سوچنا اب کسی دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔
اعزاز سید کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازعے میں فریقین کے باہمی مفادات بھی نمایاں ہیں اور انکے ٹکرائو کا امکان بھی واضح، ایسے میں کسی ایک کی جان چلی جائے یا کوئی اور حادثہ رونما ہوجائے تو یہ ملک و عوام کےفائدے میں نہیں ہوگا۔ حادثے کے امکانات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ اسلام آباد اورراولپنڈی دونوں کےمکین خوف کا شکار ہیں اور خاموشی سے ایک دوسرے کیخلاف گھاتیں اور وارداتیں کی جارہی ہیں جو کسی وقت بھی طبل جنگ میں بدل سکتی ہیں۔

Back to top button