ویڈیو لنک سےسینیٹ رکنیت کاحلف اٹھانے کیلئےلاہورہائیکورٹ سے رجوع

مسلم لیگ ن کے رہنما اورسابق وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے سینیٹ رکنیت کا حلف ویڈیو لنک کے ذریعےاٹھانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا.
اسحٰق ڈار نے سینئروکیل سلمان بٹ کے توسط سے لاہورہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی، جس میں وفاقی حکومت، چیئرمین سینیٹ اورالیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔دائردرخواست میں مؤقف اپنایاگیا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے خلاف مقدمے کی وجہ سے حلف نہیں لے سکا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے بعد ازاں 21 دسمبر 2021 کو کامیابی کے خلاف دائراپیل خارج کی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے 10 جنوری 2022 کو کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔اسحٰق ڈارعلاج کی غرض سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور دوران علاج حلف لینے کے لیے واپس ملک آنا ممکن نہیں ۔ انکا کہنا تھا چیئرمین سینیٹ کے پاس کسی رکن کا حلف لینے کے لیے کسی کو بھی نامزد کرنے کا آئینی اختیار ہے اور ویڈیو لنک کے ذریعے حلف لینے کے لیے بھی چیئرمین سینیٹ کو خط لکھا جس کو بلاجواز مسترد کردیا گیا۔
اسحاق ڈارنے استدعا کی ہے کہ اراکین پارلیمان کو مقررہ مدت میں حلف لینے کے لیے پابند کرنے کے ترمیمی آرڈیننس کا اطلاق اسحٰق ڈار پر کرنے سے روکا جائے۔ چیئرمین سینیٹ کا ویڈیو لنک کے ذریعے حلف نہ لینے کا فیصلہ غیر آئینی اور غیرقانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو حلف لینے کے لیے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کا نمائندہ مقرر کرنے اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں ویڈیو لنک پر بطور سینیٹر حلف لینے کے لیے انتظامات کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت سے مزید استدعا کی گئی ہے کہ درخواست پر حتمی فیصلے تک اسحٰق ڈار کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے بھی روکا جائے۔
