نئی پراپرٹی ویلیوایشن،ایف بی آرریٹس مارکیٹ ویلیو کے قریب پہنچ گئے

پراپرٹی کی نئی ویلیوایشن کے بعد ایف بی آرکے ریٹس مارکیٹ ویلیو کے قریب تر پہنچ گئے ہیں .فیڈرل بورڈ آف ریونیونے2016 میں ملک کے بڑے شہروں میں زمین کی مالیت کا تعین کرنے کا اختیار ملنے کے بعد سے بتدریج اپنے پراپرٹی ویلیو ایشن ریٹس کو مارکیٹ ویلیو کے قریب لا رہا ہے.
ایک رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے اب تک 2018 اور2019 میں مالیت کے تعین میں 2 بار اضافہ کیا ہے ،تاہم جب دسمبر 2021 میں تیسرا اور تازہ ترین اضافہ کرنے کیلئے ریٹس پر نظرثانی کی گئی تو رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے پراپرٹی ریٹس میں غیر معمولی اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز اٹھائی، خاص کر اسلام آباد اور لاہور میں اس کے خلاف شور ہوا جہاں مالیت میں 600 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا۔ایف بی آر کو اس غیر منطقی اور غیر معقول ریٹس میں اضافے پر پراپرٹی ڈیلرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد حکومت نے کسی سمجھوتے پر پہنچنے تک نئی مالیت کے نفاذ کو معطل کردیا۔
رواں ہفتے کے اوائل میں ایف بی آر نے آخر کار ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے مالیت کے تعین کو معقول بنایا۔ایف بی آر حکام سمجھتے ہیں کہ لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں کے لیے مالیت کے تعین میں کمی کے بعد بھی 2019 کے مقابلے میں قیمتیں اب بھی زیادہ ہیں، جب آخری مرتبہ اس پر نظرِ ثانی کی گئی تھی۔
ایک ٹیکس عہدیار نے بتایاکہ ہم رواں مالی سال کے آخری چار مہینوں میں جائیدادوں کے لین دین سے 20 ارب روپے سے زائد اضافی آمدنی کی توقع کر رہے ہیں۔
مالیت میں اضافے کے بعد ایف بی آرکو توقع ہے کہ رئیل اسٹیٹ سے سالانہ ریونیو کلیکشن 20 فیصد سے 25 فیصد تک بڑھے گی۔مالی سال 21-2020 میں ایف بی آر نے ملک میں پراپرٹی کے لین دین سے 64 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، 17-2016 میں جب سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈارنے ایف بی آرویلیوایشن ٹیبل متعارف کرایا تھا اس وقت ٹیکس وصولی کا تخمینہ 10 ارب روپے تھا۔
ٹیکس عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے ویلیو ایشن ریٹ صوبوں کے مقابلے زیادہ ہیں لیکن پھر بھی مارکیٹ ویلیو سے کم ہیں، جس کے باعث ایف بی آر ہر مالی سال جولائی سے ویلیو ایشن ریٹس میں اضافہ کرسکتا ہے تاکہ قیمتوں کو مارکیٹ ویلیو کے برابر لایا جا سکے۔رئیل اسٹیٹ سے متعلق خرید و فروخت کو دستاویزی شکل دینا عالمی منی لانڈرنگ واچ ڈاگ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا بھی مطالبہ ہے جس نے پاکستان کو 2018 سے دہشت گردی کی مالی معاونت پر ناکافی کنٹرول والے ممالک کی اپنی ’گرے لسٹ‘ میں رکھا ہوا ہے۔
ایف بی آر نے اس سلسلے میں پہلے ہی کام شروع کردیا ہے اورمتعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ہدایات جاری کردی ہیں۔
اسحٰق ڈار نے 17-2016 کے بجٹ میں ایف بی آر کے ویلیوایشن ٹیبلز متعارف کرائے تو ابتدائی طور پراسٹیک ہولڈرزکی جانب سے اس تجویز کی مخالفت کی گئی تھی۔تاہم، حکومت اوررئیل اسٹیٹ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بعد ایک معاہدہ طے پا گیا تھا اور 31 جولائی 2016 کو ابتدائی طور پر صرف 12 شہروں کے لیے ویلیوایشن ریٹس کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد 2019 میں کوریج 20 شہروں تک اور پھر دسمبر 202 میں 40 تک بڑھا دی گئی۔قیمتوں میں پہلا اضافہ 2018 میں کیا گیا تھا، اس کے بعد 2019 میں ایک اور اضافہ ہوا، تیسری مرتبہ 2 مارچ کو اضافہ کیا گیا، جو تقریباً ڈھائی سال بعد کیا گیا ، اس تاخیر کی وجوہات وبائی بیماری کوڈ19 اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے حکومت کی ایمنسٹی اسکیم ہو سکتی ہے۔

Back to top button