16 سال سے کم عمر افراد کے لیے ٹک ٹاک پر پابندی عائد

دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے والی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے 16 سال اور اس سے کم عمر صارفین پر ایک دوسرے کو براہ راست پیغامات بھیجنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ 30 اپریل سے اس ایپ میں نئے حفاظتی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں بچے ایک دوسرے کو براہ راست پیغامات نہیں بھیج سکیں گے۔
ٹک ٹاک کے سیفٹی ہیڈ کارمیک کینن کے مطابق پہلے تو اس ایپ میں صارفین ان افراد کے پیغامات موصول نہیں کرسکتے تھے جو ان کی فرینڈز لسٹ میں موجود نہ ہوں، لیکن اب ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے صارفین پر یہ پابندی بھی لگائی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ٹک ٹاک پر صارفین کی سیفٹی کو یقینی بنائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ یہ نئی پابندی متعارف کرائی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ براہ راست پیغامات بھیجنے کا فیچر صارفین کو بےحد پسند اہے کیوں کہ اس کے استعمال کے ساتھ وہ ایپ پر نئے دوست بنا پاتے ہیں، پھر چاہے ان کا تعلق دنیا کے کسی بھی کونے سے کیوں نہ ہو، اس کے باوجود اس فیچر کا غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے جس کے باعث یہ پابندی لگائی جارہی ہے۔
آن لائن چائلڈ سیفٹی کمپنی این ایس پی سی سی کے ہیڈ اینڈی بیورو نے بھی ٹک ٹاک کی جانب سے اس اقدام کو سراہاتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک ایپ نے یہ فیصلہ بالکل ٹھیک لیا ہے کیوں کہ ایسے کئی کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں بڑی عمر کے افراد غلط نیت سے اس ایپ پر بچوں کو براہ راست پیغامات بھیجتے ہیں۔ خیال رہے کہ چینی کمپنی بائیٹ ڈانس نے 2017 میں ایک ارب ڈالرز کے عوض ایپ میوزیکلی کو خریدا تھا اور پھر اسے ٹک ٹاک میں بدل دیا۔ فیس بک نے بھی اسے خریدنے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی۔ تب سے ٹک ٹاک بہت تیزی سے دنیا بھر میں مقبول ہوئی۔اور اب تک یہ ایپ ڈیڑھ ارب بار ڈاؤن لوڈ کی جاچکی ہے۔
گزشتہ سال اس ایپ کو سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔ رواں سال فروری میں ٹک ٹاک نے فیملی سیفٹی موڈ نامی نیا فیچر والدین کے لیے متعارف کرایا تھا، یہ فیچر والدین کے ٹک ٹاک اکاﺅنٹ کو ان کے بچوں کے اکاﺅنٹ سے منسلک کردے گا، جس سے وہ نوجوانوں کی آن لائن شخصیت کے پہلوﺅں کو کنٹرول کرسکیں گے۔ اس فیچر کی بدولت والدین فیصلہ کرسکیں گے کہ ان کے بچے کتنا وقت اس ایپ پر روزانہ گزار سکتے ہیں۔ اسی طرح ڈائریکٹ میسجز کو مکمل طور پر ڈس ایبل یا محدود بھی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک نیا ریسٹرکٹڈ موڈ بھی دیا گیا جس کی مدد سے والدین یہ طے کرسکیں گے کہ ان کے بچے اس ایپ پر کس قسم کا مواد دیکھ سکتے ہیں۔ یہ سب سے پہلے برطانیہ میں متعارف کرایا گیا تھا اور چند ہفتوں میں اسے دنیا کے مختلف حصوں میں بھی پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
