علیم خان کی بلڈر سے سیاست اور پھر میڈیا میں آنے کی کہانی


وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت کر کے جہانگیر ترین سے ہاتھ ملانے والے عبدالعلیم خان بنیادی طور پر ایک بلڈر ہیں جو بعد ازاں تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں آئے اور اب سما ٹی وی چینل کے مالک بھی بن چکے ہیں۔ جہانگیر ترین کی طرح علیم خان کو بھی اسٹیبلشمنٹ کے قریب خیال کیا جاتا ہے۔ ترین کی طرح علیم نے بھی عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے تک پہنچانے کے لیے اربوں روپیہ خرچ کیا۔ ایک زمانے میں علیم خان کو بھی جہانگیر ترین کی طرح عمران خان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا اور الیکشن 2018 کے بعد پنجاب میں حکومت سازی کے وقت انھیں وزیرِ اعلٰی کا مضبوط ترین امیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔ تاہم ایسا ہوا نہیں اور بشریٰ بی بی کے مشورے پر ایک سیاسی یتیم عثمان بزدار کو وزیراعلٰی بنا دیا گیا۔ تاہم جلد ہی پی ٹی آئی کے اندر اور باہر سے عثمان بزدار کے طرزِ حکومت پر سوالات اٹھائے جانے لگے۔ اگرچہ علیم خان کی طرف سے بزدار کے خلاف براہ راست کوئی تنقید یا بیان کبھی سامنے نہیں آیا لیکن پھر بھی ان پر یہ الزام لگ گیا کہ وہ بزدار کو ہٹانا چاہتے ہیں جس کے بعد انہیں ایک کرپشن کیس میں نیب کی حراست بھگتنا پڑ گئی۔ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب علیم خان نے عمران خان سے راہیں جدا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن مناسب موقع کی تلاش میں رہے۔ اس دوران انہوں نے سماء ٹی وی چینل خریدنے کے بعد پنجاب کے سینئر وزیر کی حیثیت سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ وہ خود کو ایک بے اختیار وزیر سمجھتے تھے۔
علیم خان نے تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی اور زمانہ طالبِ علمی میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز ان کے کلاس فیلو اور بے تکلف دوست بھی رہے ہیں۔ کالج ہی میں ان کی دوستی حمزہ شہباز شریف سے بھی رہی۔ گورنمنٹ کالج کے زمانہ طالب علمی میں علیم خان ایک سرخ رنگ کی شیراڈ گاڑی پر کالج آیا کرتے تھے۔ انہی دنوں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئے اور علاج کے لیے کینیڈا چلے گئے تھے۔ علیم خان کے والد ایک بینکار تھے جبکہ ان کی شادی لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس راجہ صابر کی بیٹی سے انجام پائی تھی۔ علیم خان کے والد نے بینک سے گولڈن ہینڈ شیک سے ملنے والی رقم سے کچھ زمینیں خریدیں اور یوں علیم پراپرٹی کے کاروبار سے جڑ گے۔ سال 2002 میں پہلی مرتبہ علیم خان نے لاہور کے ٹاؤن شپ کے علاقے سے عام انتخابات میں حصہ لیا تاہم انھیں علامہ طاہرالقادری کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ بہرحال وہ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر منتخب ہو کر نہ صرف صوبائی اسمبلی کے رکن بنے بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر بھی رہے۔ اس کے بعد علیم خان نے تقریباً ہر الیکشن میں حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہو پائے۔
سال 2008 میں وہ ق لیگ کے ٹکٹ پر انتخاب لڑے لیکن ہار گئے تھے۔ لیکن 30 اکتوبر 2011 کو عمران کے لاہور میں ایک جلسے کے بعد علیم نے خان کی جماعت تحریکِ انصاف میں شمولیت حاصل کر لی۔ بعد ازاں انھوں نے پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے 2013 کے عام انتخابات، 2015 کے ضمنی انتخابات اور پھر سال 2018 میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی تشستوں پر عام انتخابات میں حصہ لیا، تاہم کامیابی انھیں صرف 2018 کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر ملی۔ علیم خان کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی زیادہ تر سرگرمیوں کو وہ مالی طور پر سپورٹ کرتے تھے۔ اس وجہ سے علیم خان کو عمران خان کے کافی قریب سمجھا جاتا تھا، چنانچہ جب سینیئر وزیر ہوتے ہوئے ہی علیم خان کو نیشنل احتساب بیورو نے مبینہ طور پر ‘ذرائع سے زیادہ آمدن’ کے الزامات میں گرفتار کیا تو لوگ کافی حیران ہوئے اور علیم خان کو خود بھی یقین نہیں آیا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری کے فوری بعد علیم نے وزیرِاعظم سے بات کرنے کی کوشش کی مگر انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ 100 دن جیل میں گزار کر رہائی کے بعد بھی علیم نے کئی بار وزیرِاعظم سے رابطے کی کوشش کی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ جہانگیر ترین کی طرح علیم خان کو بھی اس بات کا دکھ تھا کہ وزیرِاعظم نے ان کے مشکل وقت میں انھیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اسی طرح دونوں کو یہ شک بھی تھا کہ ان پر جو مشکل وقت آیا اس کے پیچھے عمران خان کا ہاتھ تھا۔

Back to top button