عدم اعتماد:”باپ”پارٹی نے بھی کپتان کو آنکھیں دکھا دیں

بلوچستان عوامی پارٹی نے کپتان کو تحریک عدم اعتماد پر ساتھ دینے کے حوالے سے فوری یقین دہانی کرانے سے انکار کر دیا. حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی باپ نے وزیر اعظم کے سامنے شکایتوں کے انبار لگا دئیے . باپ پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ خالد خان مگسی نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری حکومت ختم ہوگئ آپ نے کچھ نہیں کیا،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری پارٹی بھی تقسیم ہوگئی اس وقت آپ نے کچھ نہیں کیا. نوابزادہ خالد خان مگسی نے کہا کہ عدم اعتماد میں ووٹ ڈالیں گے یا نہیں، فیصلہ بعد میں کرینگے۔ ہم آپ کو اپنے تعاون کا یقین نہیں دلا سکتے، نوابزادہ خالد خان مگسی نے وزیراعظم سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ تین سال گزر گئے آج ہماری یاد کیسے آگئی.
وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے لاجز میں وزیراعظم عمران خان نے بی اے پی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں وزیر دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، ارکان قومی اسمبلی روبینہ عرفان، سردار اسرار ترین، میر احسان ریکی،مخدوم شاہ محمود قریشی، اسد عمر، ڈاکٹر شہباز گل نے بھی شرکت کی۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو اتحادیوں سے متعلق بیان بازی سے روک دیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اتحادیوں سے متعلق معاملات کو افہام و تفہیم سے دیکھا جائیگا، حکومت کہیں جا رہی نہ اتحادی کہیں جا رہے ہیں، تحریک عدم اعتماد ہی نہیں پاکستان کے خلاف سازش بھی ناکام ہو گی۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 مارچ کو اسلام آباد کے ڈی چوک میں ہونے والے جلسے کی ذمہ داریاں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر اور پی ٹی آئی رہنما عامر کیانی کے سپرد کردی ہیں۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک سے کوئی پریشانی نہیں، عوام ہمارے ساتھ ہیں، کیسز منطقی انجام تک پہچنے کے باعث اپوزیشن کو جلدی ہے۔تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ پی ٹی آئی نے جارحانہ پالیسی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم کی زیر صدارت کور کمٹی کے اجلاس میں عزم کا اظہار کیا گیا کہ کرپٹ ٹولے کو عوام میں بے نقاب کیا جائے گا، حکمران جماعت نے ملک بھر میں سیاسی جلسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا، ملک کے مزید شہروں میں جلسے کیے جائیں گے، ملک کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں کور کمیٹی نے حتمی فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا۔
اجلاس میں اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس ضمن میں وزراء کوٹاسک سونپ دیا گیا، تحریک انصاف کی حکومت کو اتحادیوں کے ساتھ کھڑا رہنے کی امید کا اظہار کیا گیا جبکہ شرکا کو بتایا گیا ابھی حکومت کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی جلد ی نہیں، حکومت کو کوئی مسئلہ نہیں، اتحادی ساتھ ہی ہیں۔
کور کمیٹی اجلاس کو بتایا گیا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں، ہمارے ارکان کو خرید نے کے لئے کروڑوں کی پیشکش کی جا رہی ہے، ہمارے ارکان کو دنیا کے کسی بھی ملک میں پیسے پہنچانے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ ڈی چوک پر ملکی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ عمران خان نے ملک بھر سے کارکن لانے کی ہدایت کر دی۔

Back to top button