داعش پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ بن گئی


پشاور کی امامیہ مسجد پر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری داعش یا دولت اسلامیہ کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد سکیورٹی ایجنسیز کے ان خدشات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ گروہ تحریک طالبان پاکستان سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز اہل تشیع کی امامیہ مسجد میں خودکش حملے سے 65 افراد شہید ہوگئے تھے۔ افغانستان میں داعش کے وجود کے بعد سے سرحد کے اس پار خیبر پختونحوا میں اس خون آشام تنظیم کی یہ سب سے بڑی کارروائی سمجھی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2015 میں پہلی مرتبہ افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان کا وجود عمل میں لایا گیا تھا۔ اس تنظیم کا ابتدائی ڈھانچہ پاکستان کے اورکزئی ایجنسی کی وادی تیراہ میں تیار کیا گیا تھا۔ تب تحریک طالبان سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر جنگجووں نے پاکستانی فوج کے ملٹری آپریشن سے بچنے کے لیے اس میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ داعش خراسان کی تنظیم کا باقاعدہ اعلان افغان سرزمین سے کیا گیا۔ اس تنظیم کے قیام میں تحریک طالبان پاکستان کے منحرف کمانڈر شاہداللہ شاہد نے اہم کردار ادا کیا جو بعد ازاں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ 2013 میں جب ٹی ٹی پی میں نئے امیر کے انتخاب پر اختلافات کھل کر سامنے آئے تو تنظیم سے کئی اہم گروپ جدا ہو گئے جن میں اورکزئی، مہمند، خیبر، کرم اور باجوڑ کی شاخیں قابل ذکر ہیں۔ حافظ سعید خان اورکزئی، جو اس وقت ٹی ٹی پی اورکزئی شاخ کے سربراہ تھے، نے مرکزی تنظیم سے علحیدگی اختیار کرتے ہوئے دیگر اہم ٹی ٹی پی کمانڈروں کی معاونت سے افغانستان میں داعش خراسان کی بنیاد رکھی اور وہ اس کے پہلے امیر بھی مقرر کیے گئے۔ ٹی ٹی پی اورکزئی کی پوری شاخ اور باجوڑ کے آدھے طالبان جنگجو اور کمانڈر داعش خراسان کا حصہ بن گئے۔
تب پاکستانی عسکری قیادت نے داعش کے حوالے زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنائی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار خان سے جب کوئی پاکستان میں داعش کے وجود کے بارے پوچھتا تو وہ سختی سے تردید کر دیا کرتے تھے۔ پھر کچھ ہی عرصے کے بعد پشاور کے نزدیک واقع افغان مہاجر کمیمپوں میں پہلی مرتبہ داعش خراسان کی طرف سے اپنا پروپیگنڈا مواد تقسیم کیا گیا جہاں سے سرحد کے اس پار تنظیم کی سرگرمیوں کا اشارہ بھی ملا۔ لیکن حکام پھر بھی داعش کے وجود سے انکاری تھے۔دوسری طرف سرحد پار افغانستان میں داعش کی سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں۔ ابتدا میں دو سرحدی صوبوں کنہڑ اور ننگرہار کے ان علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی جہاں افغان طالبان کا اثر و رسوخ زیادہ تھا۔ اس دوران کئی مہینوں تک دونوں تنظیموں کے مابین وقتاً فوقتاً شدید جھڑپیں ہوتی رہیں جن میں دونوں جانب سے سینکڑوں جنگجو مارے گئے۔ ابتدا میں افغان طالبان ان کے سامنے تھوڑے سے پسپا ہوتے بھی نظر آئے لیکن بعد میں امارت اسلامی نے انہیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے کر ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کیں جس سے ان کی کمر ٹوٹ گئی۔
تاہم پاکستان میں دو سال پہلے داعش کی کارروائیوں میں اچانک سے تیزی آئی۔لیکن حکومتی سطح پر تب بھی اس تنظیم سے نمٹنے بارے زیادہ سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ لیکن اب اچانک سے پاکستان بھر میں حکام کی طرف سے داعش کے خطرے سے بار بار خبردار کیا جا رہا ہے۔ دسمبر 2021 میں وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پہلی مرتبہ او آئی سی کانفرنس کے موقع پر داعش کے ممکنہ خطرے کے بارے میں بات کی گئی اور یہاں تک کہا گیا کہ داعش کے جنگجو افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کر رہے ہیں۔ اس کے چند ہفتے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ معظم جاہ انصاری نے یہ اعلان کیا کہ داعش ٹی ٹی پی سے بڑا خطرہ ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان میں اشرف غنی حکومت کے آخری سالوں میں داعش کا اثر و رسوخ کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔ تب تک بیشتر اہم کمانڈر یا تو امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے یا پھر ہتھیار ڈال کر افغان حکومت کو تسلیم ہو گئے تھے۔ تنظیم کو اس سے بھی بڑا دھچکا اس وقت لگا جب اپریل 2020 میں داعش خراسان کے سربراہ اسلم فاروقی افغان سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں گرفتار ہوئے۔ اس گرفتاری کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید وجود کو لاحق خطرے سے دوچار شدت پسند تنظیم افغانستان میں پھر کبھی کھڑی نہیں ہو پائے گی اور شاید امیر کی گرفتاری ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو۔ لیکن یہ تمام تجزیے اور تبصرے تب غلط ثابت ہوئے جب 15 اگست 2021 کے بعد امارت اسلامی کی طرف سے کابل پر قبضے کے بعد داعش کی طرف سے نئے سرے سے کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ سب سے بڑا اور شدید حملہ کابل ائرپورٹ پر کیا گیا جس میں لگ بھگ 150 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔ اس واقعہ میں 17 کے قریب امریکی فوجی بھی مارے گئے۔ کابل ائر پورٹ حملے نے جیسے داعش کی وجود میں ایک نئی روح پھونک دی اور تنظیم غیر متوقع طور پر پہلے سے زیادہ مضبوط شکل میں سامنے آئی۔
گذشتہ چھ مہینوں کے دوران جب سے طالبان افغانستان پر قابض ہوئے ہیں داعش کی کارروائیوں میں مسلسل تیزی آ رہی ہے۔ تنظیم نے قندہار اور قندوز میں اہل تشیع کی امام بارگاہوں اور سردار محمد داؤد خان اسپتال کو خودکش حملوں میں نشانہ بنایا جس میں مجموعی طورپر سینکڑوں افراد شہید ہوئے۔
ان واقعات کے بعد امارت اسلامی کی طرف سے افغانستان بھر میں داعش جنگجوؤں کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں شروع کی گئیں جن میں ان کا وسیع نیٹ ورک توڑنے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس کے باجود سرحد پار دولت اسلامیہ کی کارروائیاں ناصرف بدستور جاری ہیں بلکہ ان جنگجوؤں کی تعداد اقوام متحدہ کے سکیورٹی کونسل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2000 سے بڑھ کر 4000 ہو گئی ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی تنظیم جسے امارت اسلامی سر اٹھانے کی مہلت نہیں دے رہی وہ سرحد کے دونوں جانب کیسے اتنے بڑے بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتی ہے؟ پاکستان اور افغانستان کو اس سوال پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ داعش پاکستان اور افغانستان میں واحد ایسی تنظیم ہے جس کی بنیاد اس خطے سے نہیں جڑی ہوئی بلکہ یہ مشرق وسطیٰ سے آئی ہوئی تنظیم ہے جب کہ اس کو اس طرح کی مقامی اور قبائلی مدد و حمایت بھی حاصل نہیں جس طرح ٹی ٹی پی یا دیگر عسکری تنظیموں کو حاصل ہے لیکن پھر بھی ان کی دہشت روز بروز بڑھتی جار رہی ہے۔

Back to top button