تحریک عدم اعتماد کے بعد عمران کا بڑا سکینڈل سامنے آگیا


تحقیقاتی رپورٹنگ کرنے والی معروف غیر ملکی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے وزیراعظم عمران خان کا ایک بڑا سکینڈل بے نقاب کر دیا ہے۔ فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق عمران نے شیخوپورہ کے علاقے فیروز والا میں واقع اپنی ایک جائیداد کے بارے میں پندرہ برس مسلسل جھوٹ بولنے کے بعد اپنی وزارت عظمی کے دوران اسے 2019 میں متین احمد بھلہ نامی شخص کو 35 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا۔ خریدار کا ٹیکس بچانے کیلیے اس جائیداد کو ایک ہی فرد کو دو ماہ میں 80 مختلف رجسٹریوں کے ذریعے بیچا گیا اور ہر رجسٹری کی مالیت 40 لاکھ سے کم رکھی گئی۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ کے علاقے فیروزوالہ میں سابق آئی جی پنجاب شاہ نذیر عالم کی بیوہ اور جنرل شاہ عارف عالم کی سوتیلی والدہ مسمات نگہت ارم 500 کنال 9 مرلے اراضی کی مالک تھیں۔ انہوں نے اس اراضی کا مختارنامہ 1996 میں عمران خان کے والد اکرام اللہ نیازی کو دیا۔ اس مختار نامے کی بنیاد پر اکرام اللہ نیازی نے یہ اراضی 13 اکتوبر 2004 کو اپنے بیٹے عمران خان نیازی اور چار بیٹیوں کو 70 لاکھ روپے میں فروخت کر دی۔
لیکن عمران خان نے اس جائیداد کو سال 2005′ سال 2006 اور سال 2007 میں الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیل میں ظاہر نہیں کیا۔ اس جائیداد کو انہوں نے سال 2005 سے سال 2009 تک کی اپنی انکم ٹیکس ریٹرنز میں بھی ظاہر نہیں کیا۔ اس دوران 19 مارچ 2008 کو اکرام اللہ نیازی کا انتقال ہو گیا۔ سلائی مشینوں کی کمائی سے ارب پتی بننے والی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے یہ جائیداد اپنی ویلتھ سٹیٹمینٹ میں ظاہر کی لیکن غلط بیانی کرتے ہوئے اسے "وراثتی” جائیداد ظاہر کر کے اس کی مالیت صفر لکھی، حالانکہ انہوں نے یہ جائیداد اپنے والد سے خریدی تھی۔
دوسری جانب عمران خان نے یہ جائیداد سال 2010 میں ظاہر کی لیکن غلط بیانی کرتے ہوئے اسے وراثتی ظاہر کیا اور اسکی مالیت "صفر” ظاہر کی۔ 2004 میں خریدی گئی اس جائیداد کے متعلق عمران نے 15 سال مسلسل جھوٹ بولنے کے بعد اسے اپنی وزارت عظمی کے دوران 2019 میں متین احمد بُھلہ کو 35 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا۔ خریدار کا ٹیکس بچانے کیلیے اس جائیداد کو ایک ہی شخص کو دو ماہ میں 80 رجسٹریوں کے ذریعے بیچا گیا اور ہر رجسٹری کی مالیت 40 لاکھ سے کم رکھی گئی۔
فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق اسی طرح ‏عمران خان کو 2005 میں پشاور میں ایک پلاٹ "گفٹ” میں ملا تھا جسے انہوں نے دس برس چھپانے کے بعد پہلی دفعہ 2015 میں ظاہر کیا۔ 2005 میں عمران خان قومی اسملی کے رکن تھے لیکن الیکشن کمیشن کو جمع کروائی گئی گوشواروں کی تفصیل میں اس پلاٹ کو ظاہر نہیں کیا گیا۔ ‏28 دسمبر 2015 کو پشاور میں ایک تقریب کے دوران عمران خان نے اس پلاٹ کی ملکیت کو تسلیم کیا اور بتایا کہ یہ پلاٹ شوکت خانم ہسپتال کو دیدیا گیا ہے۔
1987 میں بھارت کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دینے والی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو لاہور میں رہائشی پلاٹ دینے کا اعلان کیا گیا جس کی ایک شرط یہ تھی کہ پلاٹ لینے والے کے پاس پہلے سے پنجاب میں کوئی گھر یا پلاٹ نہ ہو۔
عمران خان نے بھی 2 اپریل 1987 کو ایک پلاٹ کیلیے درخواست دی جس کیساتھ بیان حلفی لگایا کہ اس کا اسوقت کوئی ذاتی گھر یا پلاٹ نہیں جبکہ اس وقت وہ اپنے فیملی ہاؤس میں رہتے تھے اور ویسٹ وڈ سوسائٹی لاہور میں کئی پلاٹوں کے مالک تھے۔ یہ سوسائٹی اکرام اللہ نیازی نے 1980کی دہائی میں بنائی تھی۔
اسی طرح عمران خان نے 10 مئی 1983 کو جرسی آئی لینڈ میں "نیازی سروسز لمیٹڈ” کے نام سے آفشور کمپنی بنائی۔ اس کمپنی کے متعدد بنک اکاؤنٹس کھولے گئے۔ کمپنی کے نام پر لندن میں 117000 پاؤنڈ کا ایک اپارٹمنٹ بھی خریدا گیا۔ لیکن 2015 تک یہ کمپنی اور اسکے اکاؤنٹس نہ تو الیکشن کمیشن اور نہ ہی ٹیکس ریٹرنز میں ظاہر کیے گے۔
2000 میں یہ اپارٹمنٹ تب ظاہر کیا گیا جب جنرل مشرف نے کالا دھن سفید کروانے کیلیے ٹیکس ایمنیسٹی سکیم متعارف کروائی۔ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ 2002 کے الیکشن میں عمران خان وزیراعظم بننے کا امیدوار تھا۔
تاہم کپتان کو صادق اور امین قرار دینے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے فیصلے کے مطابق یہ آف شور کمپنی صرف اپارٹمنٹ خریدنے کیلیے بنائی گئی تھی اس لیے اس کا علیحدہ سے ظاہر کرنا ضروری نہیں تھا۔ دوسری جانب عمران کی طرف سے جمع کرائی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس آف شور کمپنی کے ذریعے دیگر کام بھی کیے جا رہے تھے۔
عمران کی جمع کروائی گئی بنک سٹیٹمنٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس اکاؤنٹس سے ایک لاکھ پاؤنڈز کی ٹرانزیکشنز اپارٹمینٹ سے متعلقہ نہیں تھیں اور یہ سٹیٹمنٹس بھی صرف پانچ سال کی تھیں۔ 15 سال کی بنک سٹیٹمنٹس عدالت کو فراہم ہی نہیں کی گئیں۔

Back to top button