پالتو کتا اپنے مالک کو کاٹنے کا فیصلہ کب کرتا ہے؟


اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پالتو کتا آپ کو نہ کاٹے تو اسے وقتاً فوقتاً یہ احساس دلاتے رہیں کہ اس کے اصل مالک آپ ہیں، آپکا ملازم نہیں، ورنہ کافی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو سکتی ہے.
کتا پہلا جانور ہے جسے انسان نے پالنا شروع کیا۔ یہ بنیادی طور پر بھیڑیے کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ یوں بھیڑیے کی طرح وہ بھی ایک گروہ میں رہنے کا عادی تھا جہاں وہ اپنے سردار کی اطاعت کیا کرتا تھا۔ جب انسان نے اسے پالنا شروع کیا تو کتے نے اسے اپنا سردار مان لیا۔ انسان تب اپنی خوراک تبدیل کر رہا تھا اور اس کی خوراک کا انحصار پھول پھل سے ہٹ کر شکار کیے گئے گوشت پر طرف ہو رہا تھا۔
کتا اس معاملے میں انسان کا ایک بہترین ساتھی ثابت ہوا۔ مالک جس جانور کی طرف اشارہ کرتا، کتا اس پر ٹوٹ پڑتا اور اپنے تحفظ کی بھی پرواہ نہ کرتا۔ کتا بس یہ چاہتا تھا کہ اس کا مالک اس سے خوش ہو کر اسے ایک تھپکی دے، اور ساتھ ہی شکار کیے ہوئے جانور سے اتنا حصہ اسے بھی ڈال دے کہ اس کے جسم و روح کا رشتہ برقرار رہے۔
انسان اور کتے کے تعلق کی یہ کہانی بیان کرتے ہوئے معروف لکھاری عدنان خان کاکڑ بتاتے ہیں کہ خرگوش اور لومڑی جیسے چھوٹے جانوروں کا شکار تو کتا اکیلا بھی کر لیتا تھا، مگر ہرن گائے اور ریچھ جیسے بڑے جانوروں کا شکار وہ گروہ بنا کر کیا کرتا تھا۔ اکنے شکار کی آدھی جان تو شکاری کتوں کا غول بھونک بھونک کر ہی نکال دیتا تھا۔ گروہ میں زیادہ بھاگ دوڑ تو کتے ہی کیا کرتے تھے مگر مالک کبھی پیچھے رہ کر اور زیادہ برا وقت آنے پر ساتھ مل کر بھی شکار میں ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔ آج کل مغرب میں تو کتے زیادہ تر تنہائی دور کرنے کے لیے پالے جاتے ہیں۔ وہاں پاؤ بھر کا کتا بھی اتنا ہی مقبول ہے جتنا دو سو کلو کا۔ انسانوں سے زیادہ کتے کے نخرے اٹھائے جاتے ہیں۔ انہیں اپنے کمروں میں بلکہ بستروں میں بھی رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں عموماً کتے کو نجس جانور سمجھا جاتا ہے۔ اس وجہ سے بیشتر اسے گھر سے باہر صحن میں یا لان میں رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کتا پالنے کا بڑا مقصد عموماً پہرے داری ہوتا ہے یا آس پاس والوں پر رعب ڈالنا۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ اپنے کتے کی خود ہی ٹہل سیوا کرتے ہیں۔ انہیں کھانا ڈالتے ہیں۔ ساتھ لے کر پھرتے ہیں۔ اپنی گاڑی میں لاد کر ڈاکٹر کے پاس بھی لے جاتے ہیں۔ اس سے کتے کو واضح طور پر علم ہو جاتا ہے کہ اس کا اصلی مالک کون ہے۔
لیکن عدنان خان کاکڑ کہتے ہیں کہ طاقتور طبقے کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ اپنے کتوں کو اس حد تک سر چڑھائیں۔ ان کے پاس کرنے کو بہت سے دوسرے کام بھی ہوتے ہیں، اس لیے کتوں کی پرورش کے لیے وہ ملازمین پر انحصار کرتے ہیں جنہیں کوتکی کہا جاتا ہے۔ طاقتور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ گھر کے اندر رکھنے کے لیے خوبصورت سا کتا پالتے ہیں جس کی قیمت ہزاروں لاکھوں روپے میں ہوتی ہے۔ اس سے وہ دن میں دو چار مرتبہ شفقت کا اظہار کر لیتے ہیں مگر باقی ٹہل سیوا ملازموں کے ذمے ہوتی ہے۔ گھر کے اندر رہنے والا کتا ملازمین کا رویہ دیکھ کر جان لیتا ہے کہ اس گھر میں نمبر ون کون ہے۔ یوں وہ مالک کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا صلہ پاتا ہے۔ دوسری قسم کے کتے پہریداری کی نیت سے پالے جاتے ہیں اور گھر میں نہیں رکھے جاتے۔ وہ مالک کے رہائشی حصے سے دور سگ خانے میں پالے جاتے ہیں۔ عام طور پر طاقتور افراد کی حفاظت کے لیے آتش گیر اسلحے سے مسلح افراد موجود ہوتے ہیں اور انہیں ان مہیب حلیے اور غصیلی غراہٹوں والے کتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر یہ بھی ایک سٹیٹس سمبل ہوتے ہیں اور مالک کے ملاقاتیوں اور ارد گرد سے گزرنے والوں کو مرعوب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی بنیادی ڈیوٹی مالک کے مخالفین پر خوب زور زور سے بھونکنا ہوتی ہے۔ کوتکی ان کی ٹہل سیوا پر مامور ہوتے ہیں۔ کتوں کے کھانے پینے، روزی روٹی، تربیت اور دیگر امور کی ذمہ داری ان کے سپرد ہوتی ہے۔ یوں مالک ان حفاظتی کتوں کی پرورش اور ان کی ٹہل سیوا پر ماہانہ لاکھوں روپے تو خرچ کر دیتے ہیں مگر ان کتوں پر ذاتی توجہ نہیں دیتے۔ خود سامنے آئے بغیر سب کام کوتکیوں سے ہی کرواتے ہیں۔
بقول عدنان خان کاکڑ، اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتے یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کوتکی ہی ان کا سردار ہے۔ یوں وہ اصل مالک کی بجائے اس کے اشاروں پر ناچتے ہیں کیونکہ ان کو یہ دکھائی دیتا ہے کہ کوتکی ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرتا ہے۔ پھر کبھی یوں ہوتا ہے کہ اصل مالک کسی بات پر ناراض ہو کر کوتکی سے ڈانٹ ڈپٹ کرے تو اس کے پالتو کتوں کا پورا غول جو اس غرض سے پالا گیا ہوتا ہے کہ مالک کے مخالفین پر بھونکے، اس کوتکی کا ساتھ دیتے ہوئے اصل مالک پر بھونکنے لگتا ہے۔ یہ کتے بسا اوقات تو اصل مالک کو کاٹ کھانے پر بھی اتر آتے ہیں۔ لہذا اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا پالتو کتا آپ کو نہ کاٹے تو اپنے کتوں کو وقتاً فوقتاً یہ احساس دلاتے رہیں کہ ان کے اصل مالک آپ ہیں، کتوں کو ہینڈل کرنے والا کوتکی نہیں۔ ورنہ ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

Back to top button