عمران عدم اعتماد کی تحریک پر آئینی راستہ کیوں نہیں اپنا رہے؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر آگے بڑھنے کا واضح طریقۂ کار آئین میں موجود ہے جس کے مطابق اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں ثابت کرنا یے کہ وزیرِاعظم اکثریت کھو چکے ہیں، آئین میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد اگر وزیر اعظم اسمبلی سے باہر اپنے دس لاکھ حامیوں کا مجمع اکٹھا کر لے تو تحریکِ عدم اعتماد ناکام قرار دے دی جائے گی، اسی طرح اگر اپوزیشن بیس لاکھ کا جلسہ بھی کر لے لیکن قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت نہ کر پائے تو وزیر اعظم عمران خان ہی رہیں گے، اپنی تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانے کے لیے اپوزیشن کو اسمبلی کے اندر 171 کا ہندسہ عبور کرنا ہوگا۔
ان خیالات کا اظہار سینئر صحافی حماد غزنوی نے روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں کیا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کا قائدہ بھی آئین میں واضح طور پر درج ہے، یعنی کون ووٹ ڈال سکتا ہے، اور کون نہیں ڈال سکتا۔ آئین پاکستان پارلیمنٹ لاجز یا سندھ ہائوس پر حملے کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا، اگر کسی پارٹی کو اپنے ممبران سے وفاداری بدلنے کی شکایت ہے تو اس کے لیے بھی آئین واضح احکامات دیتا ہے۔ بلاشبہ، آئین فلور کراسنگ کو ناپسند کرتا ہے اور اس کے لیے تادیبی کارروائی کا حکم بھی دیتا ہے، اور پھر اس کارروائی کا قانونی راستہ بھی بتاتا ہے۔ حکومت نے بہت اچھا کیا جو اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا، یہ جاننے کے لیے کہ کیا جرم سرزد ہونے سے پہلے اس کی سزا دی جا سکتی ہے؟ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر حکومت ایسا سوال کر رہی ہے جس کے بارے آج سے پہلے کبھی ابہام محسوس نہیں کیا گیا، حکومت چاہے تو اس سے بھی زیادہ معصومانہ سوال پوچھے، یہ اس کا آئینی حق ہے۔ اسی طرح قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی درخواست موصول ہونے کے چودہ دن کے اندر اجلاس بلانا بھی ایک واضح آئینی حکم ہے جس کی تعمیل میں قطعاً کوئی رکاوٹ نظر نہیں آتی تھی، نہ تو ملک حالتِ جنگ میں تھا نہ ہی قدرتی آفات کی زد میں۔ اس ضمن میں حکومت کے دلائل سراسر بودے نظر آتے ہیں۔ اور اس طرح آئین کی منشا پوری کرنے کا ایک آسان موقع ضائع کر دیا گیا۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر عمران خان کے اتحادی کا کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ اسپیکر ہمیشہ ایسے معاملات میں غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتا ہے، جو کہ اس کے عہدے کا تقاضا بھی ہے۔ اسپیکر نے ایک بیان بھی دیا جو وہ نہ دیتے تو بہت اچھا کرتے، موصوف فرماتے ہیں کہ اسپیکر جتنے دن چاہے اجلاس ملتوی کر سکتا ہے۔ غالباً اسی کو مقامِ افسوس کہتے ہیں۔ حماد غزنوی کہتے ہیں کہ حکومت تو آنی جانی شے ہے، آئین مستقل دستاویز ہے۔ فریقین بالخصوص حکومت پر یہ لازم ہے کہ آئین سے انحراف نہ کرے۔ خان صاحب سیاسی طور پر زندہ رہنے کے لیے جو ترکیبیں استعمال کر رہے ہیں وہ بطور سیاست دان ان کا حق ہے، اس لیے ان پر تنقید نہیں کی جا سکتی، وہ اگر اپنے مداحین کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ان کی حالتِ زار کا سبب ان کی حد سے بڑھی ہوئی قومی حمیت ہے، Absolutely Not کا نعرۂ مستانہ ہے، روس کا دورہ ہے، یا اسلامی دنیا کی قیادت کا تاج ہے، تو یہ ان کا حق ہے۔ اور اگر اپوزیشن کہتی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئی ایم ایف کو گروی رکھنے والا کیا عوام کو احمق سمجھتا ہے تو ان کا بھی یہ آئینی حق ہے۔
بقول حماد غزنوی، میدانِ سیاست کے دائو پیچ سر آنکھوں پر، مگر یہ زور آزمائی آئینی دائرے کے اندر رہ کر کیجیے، اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ ورنہ آئین سے سرکشی کی سزا تو ہم 75سال سے کاٹ ہی رہے ہیں۔
