یہ کس قسم کا کپتان ہے جو وکٹ‌چھوڑ‌کر بھاگ رہا ہے

چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کی بوٹ پالش ختم ہوچکی تو اب وہ بوٹ چاٹنے پر اتر آئے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے پارا چنار میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ خودکشی کرلوں گا مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا اور وزیراعظم بنتے ہی وہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ لوگ باہر ممالک سے نوکریاں کرنے یہاں آئیں گے لیکن یہاں کے لوگوں کو بھی بے روزگار کردیا،ہم نے پہلے دن سے دھاندلی زدہ حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔
عمران خان عوام کے نہیں کسی اور کے وزیراعظم ہیں، ہم نے انہیں جب سلیکٹڈ کا نام دیا تو وہ تالیاں بجارہے تھے، عمران خان اکثریت کھوچکے، کٹھ پتلی ختم ہوچکی اس لیے بزدلوں کی طرح بھاگ رہے ہیں، یہ کس قسم کا کپتان ہے جو مقابلے کے بجائے پچ چھوڑ کر بھاگ رہا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں تو آٹھ مارچ سے مقابلے کا منتظر ہوں لیکن عمران سامنے نہیں آرہا، عمران اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کریں اور ہمت ہے تو سامنے آئیں مگر وہ جلسہ جلسہ کھیل رہے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ عمران فارن پالیسی کی تعریف اس لیے کرتے ہیں کہ ان کی اور عمران کی پالیسی ایک ہی ہے کہ صدر زرداری کی بنائی گئی سی پیک پالیسی کو تباہ کرو۔
چیئرمین نے کہا کہ عمران خان نے میرے ناشتے تک کے بلوں کی تحقیقات کرادیں لیکن وہ خود کرپٹ ہیں، عمران خان کرکٹ کے کھلونے بیچ کر تو اپنا کچن نہیں چلارہے ان کا خرچہ کہاں سے پورا ہورہا ہے؟
بلاول نے کہا کہ عمران خان نے پٹرول اور ڈیزل کو تاریخ کا مہنگا ترین کردیا اور دوسروں کو ڈیزل ڈیزل کہہ رہے ہیں، دراصل عمران خان خود ڈیزل ہیں، اسی طرح دوسروں کو بوٹ پالش کہنے والے عمران خان خود بوٹ پالش کرنے والے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ آئندہ انتخابات شفاف ہوں گے اور کوئی ادارہ متنازع نہیں ہوگا، یہ ادارے کسی ایک شخص کے نہیں بلکہ عوام کے ہیں، ہم اداروں کو متنازع بنانے نہیں دیں گے اور امید کرتے ہیں کہ کسی ایک شخص کے لیے ادارہ اپنے آپ کو متنازع نہیں بنائے گا۔

Back to top button