حکومت کو ایک اور دھچکا، جمہوری وطن پارٹی ساتھ چھوڑ گئی

جمہوری وطن پارٹی حکومت کا ساتھ چھوڑ گئی۔پارٹی کے صدر شاہ زین بگٹی نے وفاقی کابینہ سے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپوزیشن کے ساتھ کھڑ ہیں، اور تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کا ساتھ دیں گے۔
بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ زین بگٹی کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کے ساتھ ساڑھے تین سال چلے اور اپنا کام ذمہ داری سے کیا، ہمیں مینڈیٹ ملا تھا کہ حالات بہتر کرینگے،بلوچستان میں امن وامان اور بہتری آئے، ہمیں جو ذمہ داری دی گئی تھی ہم نے اس کیلئے بڑی کوشش کی ، لیکن حکومت کچھ ڈلیور نہ کر سکی ،ملکی حالات دیکھتے ہوئے اہم حکومت سے استعفیٰ دیتے ہیں۔ حکومت نے نعرہ لگایا تھا کہ ہم تبدیلی لائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پسماندہ علاقوں کی طرف توجہ نہیں کی، وزیر اعظم بہتر بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے کس علاقے پر توجہ دی۔ انہوں نے کہا ہم سے لاپتا افراد کی واپسی اور بلوچستان میں امن وامان کے حوالے سے وعدے کیے گئے مگر ہمیں صرف دلاسے دیئے گئے، جس سے بلوچ عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی، پاکستانی قوم کے ساتھ وعدوں کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔
انکا کہنا تھاجس پر یہ اپوزیشن پر تنقید کر رہے ہیں یہ سیاسی اخلاقیات سے باہر ہے،اگر سب کرپٹ ہیں تو ثبوت سامنے رکھیں، غلط الفاظ کے چنائو سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سرپرائز کے اعلان میں بہت دیر ہو چکی ہے ، اب وزیر اعظم عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں اور ان کا وقت ختم ہوچکا ہے ، جو کرنا تھا پہلے 3 سال کرتے اب پروپیگنڈا اور دبائو کو ششیں نہیں چلیں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا حکومت نے اپوزیشن اور عوام کو دھوکا دیا، تبدیلی کااصل چہرہ تباہی ہے، وزیراعظم کاوقت ختم ہوچکا،اکثریت کھوچکےہیں ،عمران خان نےاپنے اتحادیوں کوبھی استعمال کیا، عمران خان نےاتحادیوں کواستعمال کیااوروعدوں پرپورےنہیں اترے، وزیراعظم اوراس کی حکومت کااپوزیشن کیساتھ رویہ سب کےسامنےہے، بلوچستان کے مسائل بہت پیچیدہ ہیں ،جمہوری وطن پارٹی نےبہادرفیصلہ لیکرپورےپاکستان کوپیغام بھیجا، پاکستان کےعوام ہم سب کی طرف دیکھ رہےہیں۔
ا نہوں نے کہا شاہ زین بگٹی حکومت کے ساتھ 3 سال کام کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے، ہماری حکومت کے دیگر اتحادیوں سے بھی بات چل رہی ہے،میرا خیال ہے کہ وہ وب اپنا فیصلہ کر چکے ہیں، یہ اب ان کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کب اور کس طرح اپنا اپنا فیصلہ قوم کے سامنے رکھیں گے۔
