عمران کس طرح امریکی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں؟


معروف اینکر پرسن اور صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف کے کارندے رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر لگا کر اسکے ذریعے ملکی معیشت کا جنازہ نکلوا دیا ہے چونکہ انکل سام کو معاشی طور پر آزاد، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان نہیں بلکہ بحرانوں کا شکار ایک محتاج پاکستان چاہیئے۔لہٰذا اب کیا امریکہ کا دماغ خراب ہے کہ وہ عمران کو اقتدار سے نکلوانے کی سازش کرے گا؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کا کہنا ہے کہ بھاڑے پر لیے گے وزیر خزانہ شوکت ترین خود یہ گواہی دے چکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے قرضوں کے معاہدے نہایت نا مناسب شرائط پر کیے گے جن کا خمیازہ اب پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔ اسی طرح چین نہیں چاہتا تھا کہ سی پیک کے معاملات آئی ایم ایف اور اس کے ذریعے امریکہ تک پہنچیں لیکن آئی ایم ایف کی کنٹری ڈائریکٹر کا یہ بیان آ چکا ہے کہ عمران حکومت نے سی پیک کے سارے منصوبوں کی تفصیلات اس کے ساتھ شیئر کرتے دی ہیں۔ آئی ایم ایف اور امریکہ کے کہنے پر ڈکٹیٹڈ قانون سازی ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان کی معاشی مہار آئی ایم ایف کے ذریعے مکمل طور پر امریکہ کے ہاتھ میں چلی گئی۔ لہذا اب کیا امریکہ کا دماغ خراب ہے کہ وہ عمران کو اقتدار سے نکلوانے کی سازش کرے گا جیسا کہ موصوف نے اپنے خلاف اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سے شور مچا رکھا ہے؟
صافی کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اس لیے نکلنا چاہتا تھا کہ ساری توجہ چین پر رکھ سکے۔ افغانستان سے امریکی انخلا میں عمران خان نے نہ صرف تعاون کیا بلکہ اس کا کریڈٹ بھی لیتے رہے۔
امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ سی پیک پروجیکٹ اس اسپیڈ سے آگے بڑھے جس طرح کہ چین اور پاکستان نے سوچا تھا۔ پروگرام کے مطابق چین کے صدر نے دوسرے مرحلے کے افتتاح کے لیے 2019 میں پاکستان آنا تھا لیکن عمران حکومت نے اپنی حرکتوں سے انہیں اتنا مایوس کیا کہ وہ ڈھائی سال سے پاکستان کے دورے پر نہیں آئے۔ پھر فوج نے کوشش کی کہ عمران چین کا دورہ کریں لیکن بیجنگ نے انہیں دو طرفہ دورے کی دعوت نہیں دی۔ اس دوران ونٹر اولمپکس میں شرکت کے بہانے سے عمران نے جین کا جوڑا تو کیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ جہاں تک عمران کے دورہ روس کا تعلق ہے تو صرف دوروں سے امریکہ یا یورپ ناراض نہیں ہوتے۔ روس کا سب سے پہلا دورہ سابق صدر زرداری نے کیا تھا۔ اصل دورے ہمارے آرمی چیفس کے ہوا کرتے ہیں، روس کا دورہ جنرل پرویز کیانی نے بھی کیا، جنرل راحیل شریف نے بھی کیا اور حال ہی میں جنرل قمر باجوہ بھی روس کے دورے پر گئے تھے۔ امریکہ جیسی طاقتیں صرف دوروں سے ناراض نہیں ہوتیں۔ جب اسے پاکستان کی ضرورت تھی تو چین کے ساتھ ہماری قربت پر اسے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اب انڈیا امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے اور چین کے مقابلے میں اسے اسی طرح استعمال کیا جائے گا جسطرح سوویت یونین کے خلاف پاکستان کو استعمال کیا گیا، لیکن چینی قیادت انڈیا کے اور بھارتی قیادت چین کے دورے کرتی رہتی ہے۔
سلیم صافی نے عمران کے اس موقف کو بھی جھوٹ پر مبنی قرار دیا کہ امریکہ اور ائی سی کے اجلاس کی وجہ سے ان کی حکومت الٹانا چاہتا ہے۔ انکا کہنا یے کہ او آئی سی کو تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک موثر فورم شاہ فیصل اور ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا۔ بھٹو نے سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد کروایا تھا جبکہ حالیہ اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح کا اجلاس تھا۔ اوآئی سی کا بنیادی لیڈر اور فنانسر سعودی عرب ہے اور اگر او آئی سی کی وجہ سے امریکہ نے کسی حکومت کو گرانا ہوتا تو پھر تو اسے شیزادہ محمد بن سلمان کی حکومت کے خلاف سازش کرنی چاہئے۔
جہاں تک اسلاموفوبیا کا تعلق ہے تو اس کے خلاف موجودہ اسلامی حکمرانوں میں سب سے زیادہ آواز ترکی کے صدر طیب اردوان نے اٹھائی۔ اب اگر امریکہ نے اس بنیاد پر کسی حکومت کے خلاف سازش کرنی ہوتی تو وہ ترکی کے خلاف کرتا۔ اسی طرح سعودی عرب امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے، تو کیا اس کی خواہش اور فرمائش پر چلنے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس پر امریکہ اتنا برہم ہوگا کہ وہ عمران حکومت گرانے کی سازش کرے گا؟
سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان کی کابینہ وہ واحد کابینہ ہے جس میں امریکہ اور برطانیہ سے آئے ہوئے مشکوک لوگ سب سے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اگر واقعی امریکہ ان سے اتنا سخت ناراض تھا تو پھر انہوں نے کچھ عرصہ قبل امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کی پیشکش کس بنیاد پر کی تھی ؟ امریکہ ناراض ہے اور واقعی ناراض ہے لیکن وہ پاک فوج سے ناراض ہے۔
اس کی دلچسپی کے جو ایشوز یعنی افغانستان، انڈیا اور چین وغیرہ، ہیں ان میں عمران کا کوئی کردار نہیں۔لیکن عمران ان حالات میں امریکہ اور یورپ کے خلاف بیانات دے کر اصل میں فوج کی مشکلات بڑھانا اور اسے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی اس حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں چنانچہ ان حالات میں کیا امریکہ کا دماغ خراب ہے کہ وہ عمران کے خلاف سازش کرے؟ ہمیں تو ہر حوالے سے معاملہ الٹ نظر آتا ہے۔ صافی کے بقول اس وقت پاکستان میں اگر کوئی عمران کے اقتدار کا سب سے بڑھ کر متمنی ہے تو وہ امریکہ ہے اور اگر کسی ملک کے لیے وہ بوجھ بنے ہوئے ہیں تو وہ چین ہے، لیکن چین کا یہ اصول رہا ہے کہ وہ کبھی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا۔

Back to top button