عمران خان وہ چوہا ہے جس نے پورا ملک کتر کر رکھ دیا

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان سے سرکاری خزانے سے جلسے کرنے کا حساب لیا جائے گا، آپ کو سرکاری وسائل استعمال کرکے جلسے کرنے کا حق کس نے دیا ہے، یہ آپ کا خاندانی پیسہ تو نہیں ، یہ پاکستان کے عوام کی محنت کی کمائی ہے جو اس طرح آپ جلسوں میں اڑا رہے ہیں۔ سرکاری وسائل کا جس طرح بے دریغ استعمال ہوا ہے، اس پر شرم آنی چاہیے، یہی پیسہ اگر آٹا، چینی، پیٹرول، بچوں کی تعلیم، صحت پر لگتا تو آج لوگوں کو ریلیف ملتا۔اگر کوئی ایک شخص ڈیزل کہلانے کا حق دار ہے تو وہ عمران خان ہے کیونکہ اس کے دور میں جس طرح سے جتنی قیمتیں بڑی ہیں تو ڈیزل کا نام ہمیشہ کے لیے عمران خان سے منسوب ہونا چاہیے۔
گوجرانوالہ میں حمزہ شہباز کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے وفاقی حکومت پر جلسے کے لیے سرکاری ذرائع استعمال کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جلسوں پر خرچ ہونے والے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا حساب لیا جائے گا۔
مریم نواز کا کہنا تھا یہ وہی لوٹے ہیں جن سے 3 سال وضو کرتے رہے، 2018 میں سب سے بڑے چوہے آپ تھے، سب سے بڑے چوہے آپ خود ہیں، قوم کا آٹا، چینی، گھی اور سکون بھی کھاگئے، بلاول کو اردو نہ سیکھنے کے طعنے دیتے ہو، خود 75 برس میں تمیز بھی نہ سیکھ سکے، نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ 16 ضمنی الیکشن بھی ہارے، کیوں اقتدار سے چپکے ہوئے ہو کونسا ٹرمپ کارڈ ہے، آپ کے پاس ایک ہی کارڈ استعفیٰ دو اور گھر جاؤ، آپ کا مستقبل پاکستان کی سیاست میں نہیں ہے، بھاشن دیتے ہیں طاقت ور اور کمزور کے لیے الگ، الگ قانون ہے، فارن فنڈنگ کیس میں جھوٹ بولا گیا۔
انہوں نے کہاکہ کاوے موسوی نے بھی نوازشریف سے معافی مانگی، نیشنل کرائم ایجنسی نے بھی کہا منی لانڈرنگ ثابت نہیں ہوئی، جج ارشد ملک نے معافی مانگی، وہ وقت دور نہیں جب عمران خان ، نوازشریف، شہبازشریف سے معافی مانگے گا، جو الزام تم نے نوازشریف، شہبازشریف پر لگائے وہ آج تم پر لگ رہے ہیں، کل بڑی چالاک لومڑی بن کر کہہ رہے تھے نوازشریف آئے گا تو یہ کر دے گا، نوازشریف، شہبازشریف کا سب کچھ اسی ملک میں ہے، نواز شریف پاکستان کا بیٹا اور ادارے اس کے اپنے ہیں، تم اداروں کو ڈرا رہے ہو۔
ان کا کہنا تھاکہ لگتا ہے کہ ووٹنگ تاخیر کرکے وقت لینا چاہتے تھے، جانتے تھے کہ جلسوں میں کوئی نہیں آئیں گے، مجھے ڈی سیز اور کمشنرز نے بتایا کہ ہمیں دو،دو سو بسیں لانے کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی بلکہ ایک نے تو یہ بھی کہا کہ 200 بسیں تو پکڑ دھکڑ کرکے اکٹھی کرلی ہیں لیکن اس میں بندے کیسے بھردیں۔
مریم نواز نے کہا کیا لوگوں کے منہ سے روٹی چھین لینا امر بالمعروف ہے، ان سے چینی، آٹا، بجلی اور گیس چھین لینا امر بالمعروف ہیں یا بدتمیزی اور بد تہذیبی کے نئے ریکارڈ قائم کرنا امر بالمعروف ہے۔ انہوں نے کہا آپ سیاسی انتقام میں اتنا بوکھلا گئے ہیں کہ آپ کو پتہ نہیں کہ ٹی وی پر کھڑے ہو کر کیا کہہ رہے ہیں، ہمیں والدین نے اس طرح کے القابات استعمال کرنا نہیں سکھایا لیکن آپ نے بات کی ہے تو اب آپ جواب سننے کے لیے تیار ہوجائیں۔

Back to top button