عمران محلے کی ٹیم کا کپتان بن کر اوچھے ہتھکنڈے اپنانے لگا


تین اپریل کو تحریک عدم اعتماد میں اپنی یقینی شکست کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے اب اپنے اقتدار کے دن بڑھانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان کی زیر صدارت انکی کچن کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دوران اسپیکر پوری کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح اجلاس کو ملتوی کر دیا جائے یا پھر گنتی میں ڈنڈی ماری جائے، یعنی اسپیکر یا تو ووٹنگ کے دوران گنتی درست نہ کرے یا کوئی اور بہانہ بنا لے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایسی ہر کوشش ناکام بنا دیں گے اور سپیکر کو آئین پاکستان پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کی جانب سے شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لیے جو تجویز سامنے آئی ہے اس کے عین مطابق فواد چوہدری نے ڈی جی ایف آئی اے کو حکم جاری کیا تھا کہ وہ فوری طور پر منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانت منسوخ کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کریں اور جیسے ہی ضمانت منسوخ ہو ان کو گرفتار کر لیا جائے تاکہ دونوں باپ بیٹا وزیراعظم اور وزیراعلی نہ بن پائیں۔ ایف آئی اے نے ضمانت منسوخی کی درخواست دائر کرتے ہوئے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز اپنی عبوری ضمانت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں لہذا اسے منسوخ کیا جائے۔ تاہم جج نے ساری بات سننے کے بعد کہا کہ میں دوسری پارٹی کا موقف سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا لہذا عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل کو پیش ہونے کا وقت دے دیا ہے۔
دوسری جانب آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں عدالت شہباز شریف اور حمزہ کی ضمانت منسوخ نہیں کرے گی چونکہ یہ ایک سیاسی موو ہے جسکا بنیادی مقصد ملک میں آئینی بحران پیدا کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی حمزہ اور شہباز شریف شریف کی ضمانت منسوخ کروانے کے لیے ایف آئی اے اب عدالت کیوں پہنچی ہے جبکہ کیس کی آخری سماعت کو ایک مہینہ گزر چکا ہے۔ آئینی ماہرین کی جانب سے حکومت کی اس موو کو بچگانہ عمل قرار دیا جا رہا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی کچن کابینہ نے ایک تیسری تجویز بھی دی جس کے مطابق ملک میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا کرکے ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ چوتھی تجویز کے تحت فواد چوہدری نے وزیرقانون بنتے ہی ایک کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا ہے جس کا بنیادی مقصد پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ملنے والی دھمکی کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنا ہے۔ سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا پہلے ہی یہ بیان داغ چکے ہیں کہ غیر ملکی طاقتوں سے مل کر ایک منتخب حکومت ختم کرنے کی سازش کے الزام میں اپوزیشن قیادت کو آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت کچن کابینہ نے ایک اور عجیب و غریب تجویز بھی دی ہے جس کے تحت صدر عارف علوی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جانے کے باوجود انہیں آئین کے آرٹیکل 94 کے تحت نئے وزیر اعظم کے انتخاب تک بطور وزیراعظم کام جاری رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ عمران نئے وزیر اعظم کے انتخاب تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہ سکتے ہیں اور ان کے پاس اسمبلی توڑنے کے اختیار کے علاوہ وزیر اعظم کے تمام تر اختیارات موجود رہیں گے۔
تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون کا کہنا ہے کہ یہ تمام تجاویز ایک مذاق کے سوا کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ ان کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہوتے ہی وزیر اعظم اپنے عہدے سے فارغ ہوجائیں گے اور ان کی جگہ نئے قائد ایوان کے انتخاب کا عمل شروع ہوجائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے بھی قومی اسمبلی رولز کے قاعدہ نمبر 32 کے تحت عدم اعتماد کی تحریک میں شکست کھا جانے والا وزیراعظم فوری طور پر اپنے عہدے سے فارغ ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کا کہنا تھا کہ عمران ایک باعزت سیاستدان والی حرکتیں نہیں کر رہے بلکہ گلی محلوں کے بچوں کی طرح ضد پر اڑے ہوئے ہیں کہ میں نے گھر نہیں جانا۔
بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر قیادت کچن کابینہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ منحرف ارکان قومی اسمبلی کے گھروں پر جا کر ان کے خلاف نعرے لگائے جائیں اور دباؤ ڈالا جائے،  اس کے علاوہ آئینی اداروں پر پی ٹی آئی کی حمایت کے لیے دباؤ  ڈالا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس اجلاس میں اٹارنی جنرل اور اسپیکر کو بھی بلایا گیا تھا لیکن اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ان تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے وزیر اعظم کو استعفی دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کوئی بھی غیر قانونی قدم اٹھانے کی مخالفت کی لیکن عمران خان اپنا مؤقف منوانے پر بعد رہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف 3 اپریل کے روز اپنے کارکنان کو اسلام آباد میں اکٹھا کرے گی اور پارلیمنٹ کے باہر منحرف اراکین کے خلاف مظاہرہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب مشترکہ اپوزیشن نے 3 اپریل کو ہونے والی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے جس میں پی ٹی آئی کے منحرف قانون سازوں کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روک دیا جائے گا کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی 175 ووٹ ہیں۔
حزب اختلاف کے ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ ووٹنگ کے عمل کو متنازعہ بننے سے روکنے اور منحرف اراکین کی نشستیں بچانے کے لئے کیا گیانیے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 63-A کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر کر رکھا ہے جو قانون سازوں کی نااہلی سے متعلق ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے وضع کی گئی حکمت عملی کے مطابق پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کو پارلیمنٹ ہاؤس میں لایا جائے گا لیکن وہ ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیں گے اور ان کے ووٹ صرف اس صورت میں ڈالے جائیں گے جب مطلوبہ ووٹوں کی تعداد کم ہوتی نظر آئے۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد عددی اعتبار سے بظاہر واضح برتری حاصل کر لی ہے اور اس حوالے سے ہونے والی ووٹنگ میں ممکنہ طور پر عمران خان کی وزارت اعظمیٰ ختم ہو سکتی ہے۔
اتوار تین اپریل کو قومی اسمبلی کے 342 نشستوں والے ایوان زیریں میں تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا انعقاد ہو گا جہاں اگر عمران خان کے خلاف کم از کم 172 اراکین ووٹ ڈال دیں تو ان کی وزارت اعظمیٰ ختم ہو جائے گی۔

Back to top button