عمران توشہ خانہ تحائف کیس میں بری طرح پھنس گئے

اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور ان کے خلاف تمام ادارے گھیرا تنگ کرتے چلے جا رہے ہیں. اب ایک تازہ ڈویلپمنٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو بطور وزیر اعظم ملنے والے تمام غیر ملکی تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے یہ تحائف واپس کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عمران کو اس حکم کے بعد مشکل یہ درپیش ہو گی کہ انھوں نے زیادہ تر تحائف خریدنے کے بعد کروڑوں روپے میں منافع پر فروخت کر دیئے تھے لہٰذا ان کے لیے وہ تحائف واپس توشہ خانہ میں جمع کروانا ممکن نہیں ہوگا۔ یاد رہے کہ عمران خان نے 14 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تحائف تین کروڑ روپے میں خرید کر بیرون ملک فروخت کر دیئے تھے جو کہ اب ایک سکینڈل بن چکا ہے۔
20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل اورنگزیب نے حکم دیا کہ عمران خان کی جانب سے بطور وزیراعظم حاصل کیے گئے تمام تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور انہیں واپس توشہ خانہ میں جمع کروانے کا بندوبست کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر ہائوس میں لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں، وزیراعظم آفس وہیں رہتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ تحائف گھر لے گئے ہیں، ان سے واپس لیے جائیں اور توشہ خانہ میں جمع کروائے جائیں تاکہ انہیں میوزیم میں رکھا جا سکے۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب کی عدالت میں سابق وزیر اعظم کے توشہ خانہ سے حاصل کردہ تحائف کی تفصیلات دینے کے خلاف حکومتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان انفارمیشن کمیشن کے آرڈر پر حکم امتناع نہیں ہے، لہٰذا کابینہ ڈویژن معلومات فراہم کرنے کی پابند ہے۔‘ واضح رہے کہ اسلام آباد كے صحافی رانا ابرار خالد نے گزشتہ سال معلومات تک رسائی سے متعلق قانون كے تحت کپتان حكومت كے عہدیداروں كے توشہ خانہ سے حاصل كردہ تحائف كی تفصیلات جاننے كے لیے درخواست دی تھی، جسے كابینہ ڈویژن نے مسترد كر دیا تھا۔ کابینہ ڈویژن نے موقف اختیار كیا تھا كہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے، اور ان تحائف کی تفصیلات بتانے سے ان ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
درخواست گزار رانا ابرار خالد نے كابینہ ڈویژن كے فیصلے كے خلاف انفارمیشن كمیشن آف پاكستان كا دروازہ كھٹكھٹایا تھا، جس نے حكومت كو مطلوبہ معلومات فراہم كرنے كی ہدایات جاری كی تھیں۔ تاہم وفاقی حكومت نے انفارمیشن كمیشن آف پاكستان كے فیصلے كے خلاف اسلام آباد ہائی كورٹ میں درخواست داخل كی تھی۔ 20 اپریل كو حكومتی درخواست كی سماعت كے دوران وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد کیانی اسلام آباد ہائی كورٹ میں پیش ہوئے اور ہدایت لینے کے لیے مہلت طلب کی۔ سماعت كے دوران جسٹس میاں گل حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے كہا: ’جو بھی تحفہ دیا جاتا ہے وہ اس آفس کا ہوتا ہے،گھر لے جانے کے لیے نہیں ہوتا، جو لوگ تحائف اپنے گھر لے گئے ہیں، ان سے بھی واپس لیں۔‘ انہوں نے كہا كہ توشہ خانہ سے خریدے گئے تحائف واپس حاصل كر كے عجائب گھر میں ركھے جانے چاہیئں۔
دورانِ سماعت رانا عابد ایڈووکیٹ كا كہنا تھا کہ حکومتی درخواست میں موقف اختیار كیا گیا ہے كہ تحائف کی معلومات ظاہر كرنے سے دیگر ممالک سے تعلقات متاثر ہوں گے، جبكہ اب توشہ خانہ میں موجود تحفوں كی فروخت كا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے كہا كہ توشہ خانہ کے تحفوں كی فروخت كا معاملہ عوام كے سامنے آنے سے ملک اور حكمرانوں كی کیا عزت رہ جاتی ہے؟ رانا عابد کے مؤقف پر عدالت نے عمران خان کو ملنے والے تحائف کی تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔
عدالت نے واضح كیا کہ پاکستان انفارمیشن کمیشن کے حكم پر اسلام آباد ہائی كورٹ نے حکم امتناع نہیں دیا تھا، اس لیے کابینہ ڈویژن معلومات فراہم کرنے کی پابند ہے۔
سماعت كے دوران جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مزید ریمارکس دیئے کہ ’لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں، وزیراعظم آفس وہیں رہتا ہے، جو بھی تحفہ دیا جاتا ہے وہ اس آفس کا ہوتا ہے،گھر لے جانے کے لیے نہیں، جو لوگ تحائف اپنے گھر لے گئے ہیں، ان سے بھی واپس لیں۔‘ جج نے کہا کہ ’ایک حد تک پیسے دے کر تحفہ رکھ لینا کوئی بات نہیں ہے، لیکن ہر تحفہ اٹھا کر گھر لے جانا زیادتی ہے، ایک پالیسی بنائیں کہ وصول ہونے والا ہر تحفہ صرف خزانے میں جمع ہو گا، بیرون ملک سے تحائف صرف ملتے نہیں، بلکہ عوام کے ٹیکس کے پیسے سے غیر ممالک کے سربراہان کو بھجوائے بھی جاتے ہیں، اسلئے یہ عوامی ملکیت ہیں اور ایسے سب تحائف عوامی جگہ پر رکھنے چاہئیں۔‘عدالت كا كہنا تھا كہ ’یہ پالیسی ہونی ہی نہیں چاہیے کہ کچھ فیصد رقم دے کر تحفہ گھر لے جائیں، ایسی پالیسی بنانے کا مطلب تو یہ ہوا کہ تحفوں کی سیل لگا دی جائے۔‘
عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ ہدایات لیں لیکن تب تک انفارمیشن کمیشن کے حکم پر عمل کریں، انفارمیشن کمیشن نے تحائف کی معلومات شہری کو دینےکا کہا ہے تو وہ معلومات فراہم کریں۔ دوسری طرف درخواست گزار صحافی رانا ابرار خالد نے بتایا کہ وہ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب كے ریماركس كو عدالتی حكم كا حصہ بنانے كے لیے درخواست داخل كریں گے۔ انہوں نے مزید كہا كہ جج نے فروكت كیے گئے تحائف واپس حاصل كر كے انہیں عجائب گھر میں ركھنے سے متعلق جو ریماركس دیئے ہیں انہیں عدالتی فیصلے كا حصہ ہونا چاہیے۔
یاد رہے کہ ماضی میں عمران حکومت توشہ خانہ سے عمران خان كے حاصل كردہ تحائف كی تفصیلات دینے سے انكار كرتی رہی ہے۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے كے فورا ًبعد ان تحفوں كی فروخت سے متعلق انكشافات کیے تھے۔ اس پر سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل كردہ تحفوں كی فروخت كو تسلیم كرتے ہوئے كہا كہ انہوں نے تحفے توشہ خانہ سے خریدے تھے اور انہیں آگے بیچنے كا اختیار ركھتے تھے۔ یعنی میرا تحفہ میری مرضی، میں رکھوں یا بیچوں۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد نے بھی سابق وزیر اعظم كے حاصل كردہ تحفوں كی فروخت کا جواز پیش كرنے كی كوشش كی تھی۔
دوسری طرف معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیكٹ فوكس نے تحریک انصاف کی حكومت كے دوران توشہ خانہ سے حاصل كردہ تحفوں كی تفصیلات لیک كی تھیں، جن میں زیورات، گھڑیاں، ایک گولڈ پلیٹڈ كلاشنكوف اور دوسری قیمتی اشیا شامل تھیں۔ خیال رہے کہ صدر، وزیر اعظم، اور وزرا كو بیرون ملک سے ملنے والے تحفوں كو توشہ خانہ میں ركھا جاتا ہے، قواعد كے مطابق قیمت كا 20 فیصد ادا كر كے وہ تحفے خریدے بھی جا سكتے ہیں۔ تاہم سابق تحریک انصاف كی وفاقی حكومت نے توشہ خانہ كے قواعد میں ترمیم كرتے ہوئے قیمت خرید كو بڑھا كر 50 فیصد كرنے كا دعویٰ كیا تھا۔
