عمران حکومت نے سی پیک پروجیکٹ کو کیسے نقصان پہنچایا؟

عمران خان کے دور میں سی پیک پروجیکٹ کے تحت کئی منصوبے حکومتی نا اہلی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوئے اور لٹک گئے جس کا خمیازہ آج پاکستان کو لوڈ شیڈنگ اور دیگر مسائل کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سی پیک کے تحت لگائے گئے تکمیل شدہ کئی بجلی گھر گزشتہ دور حکومت میں عدم ادائیگی کی وجہ سے بند ہو گئے تھے چنانچہ پانچ ہزار میگا واٹ کے بجلی گھروں میں سے تقریبا دوہزار میگا واٹ کے بجلی گھر اس وقت غیر فعال ہیں اور بجلی کی بھاری لوڈشیڈنگ کا باعث بن رہے ہیں۔
ستمبر 2021 وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار سست ہونے کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ کرونا کے باعث منصوبے میں کچھ مسئلے آئے، لیکن اب سی پیک پر دوبارہ تیزی سے کام جاری ہے۔ لیکن دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے ایسے سب دعوے بے بنیاد تھے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق سی پیک کے تحت چین کے تعاون سے لگنے والے تقریبا 38 فیصد بجلی گھر بند پڑے ہیں جس کے باعث دو ہزار میگا واٹ بجلی پیدا نہیں ہو رہی اور ملک میں لوڈ شیڈنگ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس حوالے سے سی پیک اتھارٹی کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں 300 ارب روپے کی عدم ادائیگی کے باعث کئی بجلی گھر بند ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سی پیک کے علاوہ بجلی گھروں کا بھی ہے اور بند ہونے والے کچھ بجلی گھر کوئلے پر چلتے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں کوئلے کی قیمت میں اضافے اور دیگر وجوہات کی بنا پر ادائیگیاں نہیں ہو پائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے یہ مسئلہ اب نئی حکومت کے تحت حل کر لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ حکومت نے ضمنی بجٹ کے ذریعے سی پیک کے تحت بجلی بنانے والے کارخانوں پر بھی سترہ فیصد درآمدی ٹیکس کی چھوٹ ختم کر دی تھی جس کے باعث بجلی گھر مشکلات کا شکار ہو گئے۔ اس طرح سات زیر تعمیر بجلی گھر متاثر ہوئے۔ معلوم ہوا ہے کہ نئی حکومت ایف بی آر کے ذریعے ٹیکس چھوٹ بحال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ سی پیک بجلی گھروں کے لیے ریوالونگ اکاؤنٹ، جو 2014 سے زیر التوا ہے، کھولنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزارت سنبھالتے ہی چین کی قائم مقام سفیر پینگ چونزوئی سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد سے سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں میں تیز لائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں اور جے سی سی مینٹگ کا اجلاس عید کے فوراً بعد طلب کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ’حکومت کی اوّلین ترجیح چینیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سی پیک منصوبوں میں تیزی لانا ہے جو بدقسمتی سے پچھلے دور میں عدم توجہ کا شکار رہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پچھلے چار سالوں کے دوران سی پیک کے منصوبوں پر خاص طور پر صنعتی اقتصادی زونز IEZs پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جس سے چینی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی۔ یاد رہے کہ سی پیک کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان صنعتی تعاون کا سب سے اہم منصوبہ 9 عدد خصوصی معاشی زونز کا قیام تھا جہاں چینی کمپنیوں نے صنعتیں لگا کر پاکستان میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرنا تھی اور روزگار فراہم کرنا تھا۔ ان سپیشل اکنامک زونز کو 2020 تک مکمل ہونا تھا تاہم اب تک ایک بھی منصوبے پر کام مکمل نہیں ہو سکا۔ بتایا گیا ہے کہ 9 میں سے 4 اکنامک زونز کو فاسٹ ٹریک پر جلدی مکمل ہونا تھا، مگر ان میں سے کسی ایک پر بھی 50 فیصد کام بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
