کراچی میں حملہ کرنے والی خاتون کا شوہر گرفتار نہ ہو سکا


سکیورٹی ذرائع نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش دھماکا کر کے تین چائنیز کی جان لینے والی بلوچ قوم پرست شاران بلوچ کے شوہر کی گرفتاری کی خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ہیبتان بلوچ اپنے دونوں بچوں کے ساتھ روپوش ہے اور اس کی تلاش میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر شاران بلوچ کا شوہر بھی اس واردات کہ منصوبہ بندی میں شامل تھا چونکہ دھماکے کے دس گھنٹے بعد اس نے ایک ٹویٹ میں اپنی بیوی کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بلوچستان کی پارلیمانی سیکریٹری برائے اطلاعات بشریٰ رند نے دعوی کیا تھا کہ دھماکا کرنے والی خودکش بمبار کے زیر حراست شوہر کا دعویٰ ہے کہ اسکی بیوی ذہنی مریض تھی۔ لیکن وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کے بعد اب سکیورٹی ذرائع نے بھی تردید کی ہے کہ شاران بلوچ کا شوہر ایجنسیوں کی حراست میں ہے۔ جامعہ کراچی کے خودکش حملے میں تین چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔
حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک برقعہ پوش خاتون کو چائنیز اساتذہ کی وین کے انتظار میں کھڑے دکھایا گیا تھا، جیسے ہی وین اسکے قریب پہنچی، خاتون نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے بعد ازاں حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا تھا کہ چین کو بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب اس دھماکے کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چینی لینگویج سینٹر کے باہر خودکش دھماکہ کرنے والی خاتون شاری بلوچ کے خاندان کے زیادہ تر افراد یا تو سرکاری ملازم ہیں یا ماضی میں رہ چکے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق شاری بلوچ کا آبائی تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تمپ سے ہے اور ان کے والد تربت یونیورسٹی میں 2018 اور 2019 میں رجسٹرار کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں۔
30 سالہ خاتون خودکش حملہ آور کے شوہر ہیبتان بلوچ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹسٹ ہیں اور مکران میڈیکل ڈینٹل کالج میں بحیثیت پروفیسر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔تحقیقاتی ادارے شاری بلوچ کے شوہر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں لیکن اس سلسلے میں اب تک انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ سکیورٹی ذرائع سے موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق شاری بلوچ کے تین بھائی اور چار بہنیں سرکاری اداروں میں ملازمتیں کر رہی ہیں۔ ان کا ایک بھائی بلوچستان میں سیندک پروجیکٹ کا ڈپٹی ڈائریکٹر ہے، دوسرا تحصیل دار اور تیسرا بلوچستان کے علاقے تمپ میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ ان کی ایک بہن تربت یونیورسٹی میں انگلش کی لیکچرار ہیں جبکہ ان کے شوہر بلوچستان حکومت کے ملازم ہیں۔ شاری بلوچ کی دوسری بہن اپنے آبائی علاقے تمپ میں نادرا سینٹر کی انچارج ہیں۔ شاران عرف شاری بلوچ کی ایک اور بہن تمپ میں لیویز سکیورٹی فورس میں ملازم ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق خاتون خودکش بمبار شاری بلوچ کے بارے میں بی ایل اے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ زوالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی تھیں اور تعلیم کے شعبے میں ایم فل کررہی تھیں۔ شاری بلوچ کے خاندانی ذرائع کے مطابق وہ پانچ اور چھ سال کے دو کم عمر بچوں کی ماں تھیں جن میں ایک بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔ وہ تربت کے ایک سرکاری سکول میں بحیثیت ٹیچر پڑھاتی بھی رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گلستان جوہر کراچی بلاک 13 کے ایک فلیٹ کے بعد سکیم 33 میں بھی شاری بلوچ کے والد کے گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے میں محکمہ انسداد دہشت گری نے لیپ ٹاپ اور دیگر دستاویزات قبضے میں لے کر مکان کو سیل کردیا ہے۔تفتیش سے منسلک ایک پولیس افسر نے بتایا کہ خاتون تین سال سے کرائے کے فلیٹ میں رہ رہی تھیں، فلیٹ مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور ایک مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ تحقیقات کرنے والے ادارے کے ایک اور سینیئر افسر کے مطابق شاری بلوچ کراچی کے علاقے دہلی کالونی سے حملے کے لیے جامعہ کراچی پہنچی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ خاتون نے دہلی کالونی میں ایک فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا۔ اسی علاقے سے خاتون رکشہ میں سوار ہوئیں اور کراچی یونیورسٹی کے سامنے اتریں جنہیں سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

Back to top button