مسجد نبوی واقعے پر ردعمل کے بعد PTI دفاعی پوزیشن میں

مسجد نبوی میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھیوں کے خلاف نعرے بازی اور ان سے بد تہذیبی کے واقعے کی ملک گیر مذمت اور سعودی حکام کی ملزمان کیخلاف کارروائی کے بعد تحریک انصاف نے دفاعی پوزیشن لیتے ہوئے حملہ آوروں سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے یوتھیوں کی جانب سے مسجد نبویؐ کے افسوسناک واقع کا مسلسل کریڈٹ لیا جا رہا تھا، لیکن جب عمران خان اور ان کی جماعت مسجد نبویؐ کا تقدس پامال کرنے کی وجہ سے شدید عوامی تنقید کی زد میں آئی اور سعودی حکام نے واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تو پارٹی قیادت بھی فوری دفاعی پوزیشن پر چلی گئی اور پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے حملہ آوروں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔
دوسری جانب شہباز شریف حکومت نے سعودی حکام سے مسجد نبوی میں نعرے بازی اور بدتمیزی کرنے والوں کی گرفتاری اور پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے، حکومت پاکستان نے اعلان کیا کہ اس نے باضابطہ طور پر سعودی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ناگوار واقعے میں ملوث افراد کے خلاف پہلے سعودی عرب میں قانونی کارروائی کی جائے اور پھر پاکستان کے حوالے کر دیا جائے تاہم مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ واقعہ سعودی عرب کی سرزمین پر ہوا ہے لہٰذا ملزمان کے خلاف کارروائی بھی سعودی قانون کے تحت ہوگی۔
اسلام آباد میں سعودی سفارتخانے کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں حکام نے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے مقدس مسجد میں پاکستانی وزرا کو ہراساں کیا، طنز کیا اور ان پر حملہ کیا۔
سفارتخانے کے ترجمان نے گرفتاریوں کی اطلاعات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جی ہاں پاکستانیوں کی گرفتاری کی اطلاع درست ہے، گرفتار افراد کی تعداد اور تفصیلات فراہم کیے بغیر ترجمان نے کہا کہ مظاہرین کو ضابطے کی خلاف ورزی اور مقدس مسجد کے تقدس کی بے حرمتی کرنے پر حراست میں لیا گیا ہے۔ دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ لندن سے یوتھیوں کا ایک ٹولہ لے کر سعودی عرب پہنچنے اور مسجد نبویؐ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے عمران خان کے قریبی ساتھی صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو واردات ڈالنے کے بعد کامیابی سے واپس لندن پہنچ گئے ہیں اور اپنی ایک ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر میں گرفتار ہوتا تو واپس نہ پہنچ پاتا۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کلپس میں شہباز شریف کے سرکاری وفد کے مسجد نبوی میں داخل ہوتے ہی پی ٹی آئی کے حامی زائرین کی جانب سے چور، چور اور لوٹے کے نعرے لگتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
کچھ مظاہرین کو شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب کا پیچھا کرتے ہوئے اور حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا جنہیں محافظوں اور پولیس اہلکاروں نے بچایا، مظاہرین میں سے ایک کو شاہ زین بگٹی کے بال کھینچتے ہوئے بھی دیکھا گیا جس کے رد عمل کے طور پر ان کے حامیوں نے اسلام آباد میں آئین شکن قاسم سوری پر بھی حملہ کیا، قاسم سوری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان پر حملہ مسجد نبویؐ میں ہونے والے حملے کا ردعمل تھا۔
بعد ازاں ایک ویڈیو پیغام میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ زیادہ تر پاکستانی مقدس مسجد کے تقدس کا احترام کرتے ہیں، یہ فعل ایک مخصوص گروپ کی جانب سے کیا گیا، انہوں نے کہا کہ میں اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے نام نہیں بتانا چاہتی کیونکہ میں اس مقدس سرزمین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتی، انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو ان رویوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا جن سے ان لوگوں نے پاکستانی معاشرے کو نقصان پہنچایا ہے، ہم صرف ایک مثبت رویہ کے ذریعے ہی ایسا کر سکتے ہیں۔
ایک علیحدہ ویڈیو پیغام میں شاہ زین بگٹی نے بھی اس واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ خاموش رہے اور مقدس مسجد کے تقدس کے پیش نظر جوابی کارروائی نہیں کی، اس واقعے کے چند گھنٹے بعد مقامی میڈیا نے اسلام آباد کی پوش کوہسار مارکیٹ میں سحری کے وقت قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری اور ان کے کچھ دوستوں پر حملے کے حوالے سے رپورٹیں نشر کرنا شروع کر دیں۔ مدینہ میں ہونے والے اس واقعہ کی ویڈیو کلپس زیادہ تر پی ٹی آئی کے حامیوں اور رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئیں جن میں عمران خان کی کابینہ کے کچھ سابق وزرا بھی شامل تھے اور وہ ان زائرین کے اس عمل کو جواز فراہم کرتے ہوئے پائے گئے اور اسے لوگوں کا فطری ردعمل قرار دیا۔
تاہم واقعے پر تقریباً ہر جانب سے شدید ردعمل دیکھنے اور وسیع پیمانے پر مذمت کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو مقدس مقامات کی حرمت کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیا۔ پی ٹی آئی کے نائب صدر اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے سعودی عرب میں پاکستانی وفد کے ارکان پر اس طرح کے حملے کی منصوبہ بندی نہیں کی، انہوں نے اسے عوام کی جانب سے خود دکھایا گیا ردعمل قرار دیا۔
سابق وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دیوار سے نہ لگایا جائے اور اس قانون کا اطلاق تمام جماعتوں پر یکساں ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کسی ایک سیاسی جماعت کو کارنر کرنے سے معاشرے میں تقسیم ہو گی، مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں قاسم سوری پر حملے کی مذمت کی اور الزام عائد کیا کہ یہ حملہ شاہ زین بگٹی کے محافظوں نے کیا۔ فواد چوہدری نے سعودی عرب میں کچھ پاکستانیوں کی گرفتاریوں کی تصدیق کی اور سعودی حکام کے ایک سرکاری اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5 پاکستانی شہریوں کو مسجد نبوی کے صحن میں ایک پاکستانی خاتون اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ نازیبا الفاظ کے ساتھ حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم انہوں نے گرفتار شدگان کو تحریک انصاف کے حامی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
