مسجد نبوی کے واقعہ پرعمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے

مسجد نبوی کے واقعہ پرعمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مسجد نبی میں ہونیوالے افسوس ناک واقعہ پر سابق وزیر اعظم عمران خان کو بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثنا اللہ کاکہنا تھا مسجدِ نبوی میں ہونے والے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’اس طرح کی منصوبہ بندی ماضی میں کبھی نہیں ہوئی اور یہ 100-150 لوگ تھے۔ان افراد کو قطعی طور پر معافی نہیں دی جا سکتی‘ اور وہ اس سلسلے میں وہ سودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں گرفتار ’کچھ افراد کو ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے اور دیگر کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے،باقی لوگوں کے خلاف تفتیشی ٹیم سارے ثبوت اکھٹے کرے گی اور جس جس کے خلاف کوئی ثبوت ملے گا، اس کےخلاف قانون اپنا راستہ لے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا جی بالکل عمران خان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز فیصل آباد پولیس نے توہین مذہب کے الزام میں سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت جماعت کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، فواد چوہدری، شیخ رشید، شہباز گل، شیخ راشد شفیق، صاحبزادہ جہانگیر چیکو، انیل مسرت، نبیل نسرت، عمیر الیاس، رانا عبدالستار، بیرسٹر عامر الیاس، گوہر جیلانی، قاسم سوری اور تقریباً 100 کے قریب لوگوں نے سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی حرمت و تقدس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قران کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کی ہے۔مزید تحقیق پر علم ہوا کہ عمران احمد، فواد احمد چوہدری، شیخ رشید احمد، شہباز گل اور قاسم سوری کی ایما پر اعانت اور سازش مجرمانہ فعل ہے۔چند پاکستانی شر پسندوں کا وفد سعودی عرب کیا گیا تھا اور اس حوالے سے ویڈیو ریکارڈ پر موجود ہے جو دوران تفتیش پیش کر دی جائے گئی۔اس سازش میں شریک ہونے کے لیے ایک وفد برطانیہ سے سعودی عرب پہنچا اور بطور ثبوت ان کی وڈیوز بھی دوران تفتیش پیش کر دی جائے گئی۔
فیصل آباد پولیس نے مقدمہ کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہےمقدمہ درج کر لیا گیا اور اس ابتدائی اطلاعی رپورٹ پر تفتیش کی جائے گی جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ وقوعہ کیا ہے، کہاں پر ہوا ہے اور کیسے ہوا ہے۔ ’اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ اس مقدمے کو خارج کرنا ہے یا زیرِ تفتیش رکھنا ہے۔
قبل ازیںسعودی عرب کے شہر مدینہ کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مسجدِ نبوی میں جمعرات کو پیش آنے والے واقعے کے تناظر میں پانچ پاکستانی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی نے مدینہ پولیس کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ سکیورٹی حکام نے پاکستانی شہریت کے حامل پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے جنھوں نے پاکستانی شہریت کی حامل خاتون اور اس کے ساتھیوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مسجد نبوی کے صحن میں موجود تھے،ترجمان کے مطابق ان افراد کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی مکمل کی گئی اور معاملے کو مجاز حکام کو بھیج دیا گیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف نے ان الزامات کی تردیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مقدمہ سیاسی انتقال ہے۔
پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ھوٹے پرچوں سے بھی کبھی حکومتیں بچی ہیں؟ ہم دیکھیں گے کہ یہ ٹولہ چند ہفتوں میں اپنے انجام کو پہنچے گا۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے اور قومی اسمبلی کے رکن شیخ راشد شفیق کو ایئرپورٹ سے اغوا کیا گیا اور شیخ رشید کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔
یاد ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں شیخ رشید اور شیخ راشد شفیق کے نام بھی درج ہیں اور رانا ثنا اللہ کے مطابق انھوں نے مسجد نبوی واقعے کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
واضح رہے کہ جمعرات کی شام پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ان کے وفد میں وزیرِ اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیرِ نارکوٹکس شاہ زین بگٹی کو مسجد نبوی کے صحن میں موجود پاکستانیوں کی جانب سے بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا تھا،ان افراد نے پاکستانی وزرا اور ان کے ساتھیوں کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی کی تھی اور جہاں مریم اورنگزیب کے لیے نازیبا زبان استعمال کی تھی وہیں شاہ زین بگٹی کے بال بھی کھینچے گئے تھے اور انھیں دھکے دیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں کسی بھی قسم کے مظاہرے کرنا ممنوع ہے۔ مسجد نبوی اور مسجد الحرام میں آنے والے زائرین کو بھی وہاں کے تقدس کا خیال رکھنے کو کہا جاتا ہے اور لڑائی جھگڑے اور بحث و مباحثے سے روکا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں حرم کے اندر یا باہر سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہے۔
