پنجاب کابینہ کی تشکیل گورنر کی بر طرفی تک موخر کرنے کا فیصلہ

پنجاب کی نئی کابینہ کی تشکیل موجودہ گورنر عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینئر رہنما نے اتوار کے روز انکشاف کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی زیرقیادت پنجاب کابینہ کے لیے ناموں کو حتمی شکل دینے کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم گورنر کی برطرفی تک یہ عمل ایک دو ہفتے کے لیے مؤخر ہوسکتا ہے۔مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما کا کہنا تھا جب تک عمر چیمہ عہدے پر ہیں، وہ یقینی طور پر پنجاب کی نئی کابینہ کو حلف نہیں دلائیں گے، جس کے بعد ہمیں مجبوراً عدالت سےرجوع کرنا ہوگا، اس لئےہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مقصد کے لیے دوبارہ عدالت کی مداخلت کے بجائے، اس مہینے کے وسط تک ان کی برطرفی تک انتظار کیا جائے۔
ن لیگی رہنما نے دلیل دی کہ ان کی جماعت پنجاب کی نئی کابینہ کے حلف برداری کے معاملے کو حمزہ کی طرح عدالت میں لے کر ہیں جانا چاہتی اور حکمران اتحاد کے اپنے گورنر کے چارج سنبھالتے تک 10 دن یا اس سے زیادہ انتظار کر سکتا ہے۔ انہو ں نے وضاحت کی کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں عمر سرفراز چیمہ گورنر کے عہدے پر مزید براجمان نہیں رہیں گے، جس کے بعد پنجاب کی نئی کابینہ حلف اٹھائے گی۔
ن لیگ نے پہلے ہی پنجاب کا گورنر آفس اپنی اتحادی پیپلز پارٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا جس نے اس نشست کے لیے اپنے جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمود کو نامزد کیا تھا، مخدوم محمود پیپلز پارٹی کے سابقہ دور حکومت میں بھی گورنر پنجاب رہ چکے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی برطرفی کی سمری 16 اپریل کو صدر عارف علوی کو ارسال کی تھی۔
یادر ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی اور گورنر عمر چیمہ نے حمزہ شہباز کے حلف اٹھانے میں رکاوٹ پیدا کی تھی، یہاں تک کہ حمزہ شہباز کو منتخب ہونے کے دو ہفتے بعد بھی اسمبلی اجلاس میں بے مثال ہنگامہ آرائی کا سامنا کرنا پڑا تھا،3 اپریل کو چوہدری محمد سرور کی جگہ لینے والے گورنر عمر سرفراز چیمہ نے حمزہ سے حلف لینے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ہفتہ کو قومی اسمبلی کے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے ان سے حلف لیا تھا۔
واضح رہے کہ آئین کے مطابق صدر، وزیراعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کو 14 دن تک بغیر کسی فیصلے کے روک سکتے ہیں تاہم مدت ختم ہونے پر وزیر اعظم اس سلسلے میں اپنے مشورے کی دوبارہ توثیق کر سکتے ہیں اور صدر اپنا فیصلہ مزید 10 دن تک روک سکتے ہیں، تاہم مزید 10 روز کی مدت کے بعد گورنر کو ہٹا دیا جائے گا اور وزیر اعظم کو نیا گورنر مقرر کرنے کا اختیار ہوگا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی کابینہ کے مناسب امیدواروں کے حوالے سے پارٹی کے ایک رکن کا کہنا تھاوزیراعظم شہباز شریف اپنی پارٹی سے کابینہ کے اراکین کے انتخاب کریں گے، ’پسندیدہ‘ اراکین میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز بھی شامل ہوسکتی ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما جہانگیر خان ترین اپنے گروپ سے نام تجویز کریں گے جبکہ پی ٹی آئی کے دیگر منحرف افراد جیسے علیم خان اور اسد کھوکھر پنجاب کی نئی کابینہ کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں،تاہم پی ٹی آئی کے 26 منحرف افراد پر ڈی سیٹنگ کی تلوار ابھی تک لٹک رہی ہے جنہوں نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو ووٹ دیا تھا۔ ایسی صورت میں پی ٹی آئی کے منحرف افراد سے کابینہ میں شامل کیے جانے والوں کا مختصر وقت ہو سکتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اس ماہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر الہٰی کے ذریعے پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس کا فیصلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا تھاپیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) سے دو وزارتوں کے علاوہ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ بھی طلب کیا ہے، علاوہ ازیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے منی لانڈرنگ اور رمضان شوگر ملز کیسز میں 20 ماہ تک قید کی سزا بھگتنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز 14 مئی تک 14 ارب روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت قبل از گرفتاری پر ہیں، اُن پر یہ کیس ایف آئی اے کی جانب سے بنایا گیا تھا۔

Back to top button