حکومت کا بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنےکا دعویٰ

وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر خان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے عزم کے مطابق یکم مئی صبح 5 بجے سے بجلی کی لوڈشیڈنگ مکمل ختم کر دی گئی ہے۔
ایک ٹویٹ میں انکا کہناتھا بہتر بحالی والے فیڈر پر لوڈشیڈنگ الحمدللہ صفر ہے، سسٹم میں 2500 میگاواٹ بجلی کا اضافہ کردیا گیا ہے، وزارت توانائی عید کے دوران اور بعد میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے لیے کوشاں ہے
دوسری جانب پاور ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سسٹم میں ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ کرکے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کردیا ہے۔
ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں سے رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ بڑے شہری مراکز کو درحقیقت بجلی کی بندش سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے کیونکہ فرٹیلائزر پلانٹس اور صنعتی کیپٹیو پاور پلانٹس سے تقریباً 120 ملین مکعب فٹ گیس جنریشن کمپنیوں کی طرف موڑ دی گئی تھی اور اس کے ساتھ کچھ نجی بجلی کی دستیابی بھی تھی تاہم دیہاتی علاقوں میں لوگ اب بھی بجلی کی بندش کی شکایات کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نے 26 اپریل کو فرٹیلائزر اور کیپٹیو پاور پلانٹس سے قدرتی گیس کی منتقلی اور پاور سیکٹر کو فنڈز کی بروقت ادائیگی کا حکم دیا تھا تاکہ یکم مئی سے بجلی کی بندش کو صفر کرنا یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے عید کے ان اہم دنوں میں مزید پاور پلانٹس چلانے کے لیے پاور ڈویژن کی جانب سے فرٹیلائزر پلانٹس اور صنعتی شعبے کے کیپٹیو پاور پلانٹس سے قدرتی گیس کو 120 ایم ایم سی ایف ڈی کی حد تک سات دنوں کے لیے منتقل کرنے کی درخواستوں کی منظوری دی ہے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو عید کے دوران زیادہ نقصان اٹھانے والے علاقوں کو بھی مکمل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا کہ شارٹ فال اور ہیٹ ویو جیسے مسائل کا سامنا ہونے کے باوجود بھی وزیر اعظم نے لوڈشیڈنگ پر عدم برداشت کی پالیسی اپنائی ہے۔
اس کے علاوہ ایل این جی گیس میں اضافہ اور بندرگاہوں پر فرنس آئل کے کارگو اترنے کے بعد 8 مئی سے حالات میں مزید بہتری کا امکان ہے کیونکہ پاور سیکٹر کو 700 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی گیس فراہم کی جائے گی جس کو اس وقت 500 ایم ایم سی ایف ڈی تک موصول ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ ایل این جی گیس میں اضافہ اور بندرگاہوں پر فرنس آئل کے کارگو اترنے کے بعد 8 مئی سے حالات میں مزید بہتری کا امکان ہے کیونکہ پاور سیکٹر کو 700 ایم ایم سی ایف ڈی ایل این جی گیس فراہم کی جائے گی جس کو اس وقت 500 ایم ایم سی ایف ڈی تک موصول ہو رہی ہے۔
گزشتہ جمعہ کے روز وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے تقریباً 7900 میگاواٹ کے ان پلانٹس کو چلانے کے لیے فوری طور پر 329 ارب روپے کی ادائیگی کی درخواست کی جو اس وقت ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے سسٹم سے باہر ہیں اور اس کے نتیجے میں پورے پاکستان کو کم از کم 8 گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاور سیکٹر کا قرضہ 2.46 ٹریلین روپے ہے اور تقریباً 5 ہزار 740 میگاواٹ کے پاور پلانٹس ایل این جی، کوئلہ اور فرنس آئل سمیت ہر قسم کے ایندھن کی قلت کی وجہ سے سسٹم سے باہر ہیں، معمول کی دیکھ بھال اور مرمت کے مسائل کی وجہ سے مزید 2 ہزار 156 میگاواٹ دستیاب نہیں تھے۔ انکا کہنا تھالوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کے لیےان فنڈز کو فوری طور پر بروئے کار لانے کی ضرورت ہے اور امید ظاہر کی کہ اگلے 10 دنوں میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو 25 مئی تک تقریباً 108 ارب روپے، 7 جون تک 136 ارب روپے اور 15 جون تک 85 ارب روپے اس شعبے کے لیے درکار ہیں تاکہ لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختلف معاہدوں پر عمل کیا جا سکے۔

Back to top button