مسجد نبوی واقعہ ، پی ٹی آئی پر مقدمات سےحکومتی اکابرین ناخوش

حکمران اتحاد کے اکابرین تحریک انصاف کے قائدین پر مسجد نبوی میں پیش آنیوالے افسوس ناک واقعہ پر مقدمات کے اندراج پر ناخوش ہیں۔
ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کے متعدد سینئر کےاس پس منظر میں کیے گئے انٹرویوز سے پتہ چلتا ہے کہ حکمران اتحاد کے اندر ایک عام احساس ہے کہ حکومت نے اس معاملے پر ‘زیادہ رد عمل’ کا مظاہرہ کیا ہے اور پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کے خلاف مقدمات کا اندراج اور کارروائی اب حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، ان کا خیال ہے کہ سعودی حکام کی جانب سے ‘چور، چور’ اور ‘لوٹے’ کے نعرے لگانے اور بعض ارکان کو زدوکوب کرنے پر پاکستانی زائرین کے خلاف فوری کارروائی کی گئی جو پی ٹی آئی کے حامی دکھائی دے رہے تھے، وزیر اعظم شہباز شریف کے سرکاری وفد اور اس واقعے کی وسیع پیمانے پر مذمت نے پی ٹی آئی کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن حکومتی اقدامات نے ناصرف سابق حکمران جماعت کو نقصان پر قابو پانے بلکہ خود کو ایک مظلوم کے طور پر پیش کرنے کا بھی موقع فراہم کیا ہے۔ کچھ مظاہرین کو وفاقی وزرا شاہ زین بگٹی اور مریم اورنگزیب کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا گیا جنہیں بعد میں محافظوں اور پولیس اہلکاروں نے بچایا اور وہاں سے لے گئے۔
شہبازکابینہ کے ایک اہم رکن اور مسلم لیگ(ن) کے ایک عہدیدار نے پیر کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پراعتراف کیا کہ مسجد نبویﷺ کے واقعے کے بعد شروع میں لوگوں کی ہمدردیاں ہمارے ساتھ تھیں لیکن اب جذبات دوسری طرف منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وزیر نے یاد دہانی کرائی کہ اس وقت اب حکومت میں موجودہ جماعتوں نے ماضی میں عمران خان پر مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے پر تنقید کی تھی اور کہا کہ مقدمات کے اندراج اور اس واقعے کو توہین مذہب سے جوڑنے والے سیاستدانوں کے کچھ بیانات نے ان کے بیانیے کو کافی حد تک نقصان پہنچایا ہے۔ وزیر نے کہا کہ دوسری بات یہ کہ ان اقدامات اور رد عمل نے مجرموں کو خود کو متاثرین کے طور پر پیش کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جو کہ اب سول سوسائٹی اور دیگر سمجھدار حلقوں کی طرف سے آنے والے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے جو توہین مذہب کے مقدمات کے اندراج کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انکاکہنا تھاوزیر اعظم نواز شریف نے اس حوالے سے کوئی ہدایت جاری نہیں کی اور یہ معاملہ مکمل طور پر وزیر داخلہ رانا ثنااللہ سنبھال رہے ہیں۔
قبل ازیں ن لیگ کے وفاقی وزیر جاوید لطیف نے مسجد نبویﷺ کے واقعے پر پی ٹی آئی قیادت کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی حکومتی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عمرانی فتنے کو مزید تقویت ملے گی، جاوید لطیف نے بھی کابینہ میں اس معاملے پر بات کرنے سے معذوری کا اظہار کیا کیونکہ یہ اکیلے ان کی پارٹی کی حکومت نہیں ہے۔
لاہورمیں پریس کانفرنس میں انکا کہنا تھااگر یہ حکومت مخلوط نہ ہوتی تو میں اس معاملے پر براہ راست وزیراعظم سے بات کر سکتا تھا، اس پریسر کے ذریعے میں وزیر اعظم شہباز شریف سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ مسجد نبویﷺ کے حساس معاملے پر مختلف لوگوں کی شکایات پر ایف آئی آر درج نہ کریں بلکہ ریاست کو آگے آنا چاہیے اور عمرانی فتنے سے نمٹنے کے لیے شکایت کنندہ بننا چاہیے، جاوید لطیف کی جانب سے شہباز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مبینہ روابط پر تبصرہ کرنے کے بعد سے ان کے وزیر اعظم کے ساتھ خوشگوار تعلقات نہیں ہیں۔
ن لیگ کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر جاوید لطیف واحد آدمی نہیں ہیں جنہوں نے وزیر اعظم شہباز سے جارحانہ موقف اختیار کرنے کے خلاف ‘درخواست’ کی ہے کیونکہ اس سے عمران خان کو مزید سیاسی فائدہ مل سکتا تھا۔ ن لیگ کے سینئر رہنماؤں کا خیال ہے کہ عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ان کی بدعنوانی کے لیے بے نقاب کیا جانا چاہیے اور انہیں مذہبی معاملات میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے، پیپلز پارٹی بھی اس واقعے میں پی ٹی آئی کی قیادت کو کھل کر مقدمات میں پھنسانے کی شہباز شریف کی پالیسی کی مخالفت کر رہی ہے، سیاسی مفاہمت کے لیے مشہور وزیر اعظم شہباز شریف کو وزیر داخلہ رانا ثنااللہ جیسے افراد کے مشورے پر عمل نہیں کرنا چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے مذہب کا استعمال کریں۔
مسلم لیگ ن کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی حکومت کو تصادم سے بچنے کا مشورہ دیا، انہوں نے پیر کو ایک نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے حق میں نہیں ہوں، حکومت میں ہونے کے ناطے ہمیں تصادم سے گریز کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے پی ٹی آئی کے حریف رہنماؤں کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات بنانے کے مبینہ ارادے کو ‘انتہائی پریشان کن، پاگل پن اور قابل مذمت’ قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ انہوں نے ماضی میں ہمیشہ ‘مذہب پر مبنی قوانین کو ہتھیار بنانے’ کی مخالفت کی ہے، اب بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں اور مستقبل میں بھی کریں گے۔
فرحت اللہ بابر نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سعودی حکام کی جانب سے حراست میں لیے گئے پاکستانی زائرین کو کونسلر کی رسائی فراہم کرے، دلچسپ بات یہ ہے کہ تجربہ کار سیاستدان نے یہ مطالبہ اپنی پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وزیر خارجہ ہونے کے باوجود کیا ہے۔
واضح رہے کہ فیصل آباد، اٹک اور اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان اور پارٹی کے اہم رہنما فواد چوہدری، شہباز گل، قاسم سوری، صاحبزادہ جہانگیر اور انیل مسرت سمیت 150 سے زائد افراد کے خلاف مقدس مقام کی بے حرمتی پر الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق کو اتوار کو سعودی عرب سے وطن واپسی پر گرفتار کر لیا تھا، پیر کے روز اٹک کی ایک ضلعی عدالت نے اسے انہیں مسجد نبویﷺ واقعے میں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں بھیج دیا تھا، ان کے چچا شیخ رشید کی طرح راشد شفیق پر بھی مدینہ میں واقعے کو بھڑکانے اور اس کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔
ادھرپی ٹی آئی رہنماؤں نے مسجد نبویﷺ کے واقعے کو عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی کے خلاف اچانک ردعمل قرار دیا ہے، پارٹی نے اپنے نائب صدر اور سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ذریعے پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر رکھی ہے جس میں اس کی قیادت کے خلاف مقدمات کو ‘غیر قانونی’ قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے، درخواست میں فواد چوہدری نے رانا ثنااللہ پر پی ٹی آئی قیادت کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگایا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک سرکاری وفد کے دورے کے دوران مسجد نبویﷺ میں غنڈہ گردی کے تناظر میں مختلف شہریوں کی شکایات پر سعودی حکومت نے کچھ پاکستانیوں کو گرفتار کیا تھا۔

Back to top button