عمران خان کے والد کے اپنے بیٹے بارے کیا خیالات تھے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی نے اپنے بیٹے سے زمان پارک لاہور والے گھر میں ملاقات کے لیے آنے والے ایک پرستار کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیکھیے، آپ ابھی چھوٹے ہیں۔ آپ کے سامنے ساری زندگی پڑی ہے۔ یہ عمران خان کے پیچھے بھاگنا اور اس کے ساتھ تصویریں بنانا ایک فضول کام ہے۔ اس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا لیکن نقصان ضرور ہو سکتا ہے۔ آپ کو اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ محنت کریں۔ پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔ آپ کے خاندان کو اور آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے لہذا پڑھ لکھ کر اپنا فیوچر بنائیں اور کسی بہتر آدمی کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ عمران خان کے والد سے اس ملاقات کی روداد آصف محمود نامی لکھاری نے انڈیپنڈنٹ اردو میں خود بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ تب وہ بچے ہوا کرتے تھے لیکن انہوں نے اکرام اللہ نیازی کی نصیحت کو اہمیت نہ دی اور پھر اسکا نقصان بھی اٹھایا۔
آصف محمود کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے والد سے اپنی ملاقات کا قصہ بیان کرنے پر اس لیے مجبور ہوئے کہ انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ایک ننھے مداح کی اپنے کپتان سے جذباتی ملاقات کا منظر دیکھا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ میں تب سے بیٹھا سوچ رہا ہوں، کہ اگر عمران خان کے مرحوم والد بھی حیات ہوتے تو کیا ہوتا؟
عمران کے والد سے اپنی ملاقات کا قصہ بیان کرتے ہوئے آصف محمود بتاتے ہیں کہ سالوں پہلے جب میں کپتان سے ملنے زمان پارک گیا تو میری عمر بھی شاید ویڈیو میں وائرل بچے جتنی تھی۔ میں گاؤں سے لاہور پہنچا اور اپنے کزن سے زمان پارک جانے کی فرمائش کی۔ میرے کزن نے مجھے دیکھا اور حیرت سے پوچھا، ’زمان پارک دیکھ کر کیا کرو گے، وہاں کیا ہے؟‘ میں نے جواب دیا، ’زمان پارک میں عمران خان ہے!‘
قصہ بیان کرتے ہوئے آصف محمود بتاتے ہیں کہ یہ سہ پہر کا وقت تھا۔ نہر کنارے عمران خان کا گھر تھا۔ چوکیدار چاچا خان بیگ گیٹ پر بیٹھے تھے، غالبا ًیہی نام تھا ان کا۔ میں نے انہیں بتایا کہ عمران خان سے ملنے گاؤں سے آیا ہوں۔ انہوں نے بتایا عمران تو برطانیہ میں ہیں۔ مجھے یقین نہ آیا میں نے کہا عمران گھر پر ہی ہوں گے، بس آپ مجھے ملنے نہیں دے رہے۔ چاچاخان بیگ بڑے مزے کے آدمی تھے۔ کہنے لگے، ’عمران تو سچ میں پاکستان سے باہر ہیں لیکن اگر تم چاہو تو میں تمہیں عبد القادر سے ملوا سکتا ہوں، ان کا گھر اسی نہر کے ساتھ تھوڑا آگے ہے۔‘ گگلی ماسٹر مرحوم عبد القادر کے گھر کا ایڈریس بھی میں نے انہی سے لیا تھا اور اتفاق سے اسی دن وہاں عبد القادر صاحب سے ملاقات بھی ہو گئی۔ میں ابھی چاچا خان بیگ سے عبد القادر کا ایڈریس سمجھ رہا تھا کہ انہیں کسی نے اندر سے آواز دے کر بلایا۔ تھوڑی دیر بعدوہ واپس آئے تو کہنے لگے، ’آؤ تمہیں بڑے خان صاحب سے ملواتا ہوں۔‘
آصف محمود کے بقول، سرخ اینٹوں سے بنے عمران خان کے گھر میں دائیں جانب ڈرائنگ روم میں خان چاچا نے ہمیں لے جا کر بٹھا دیا، پانی پلایا۔ چند ہی لمحوں میں وہاں بڑی عمر کے ایک بزرگ آئے، سمارٹ سے، کلین شیو، دراز قد۔ یہ عمران خان کے والد اکرام اللہ خان نیازی تھے۔ اور یہ ان سے میری پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ یہ ایک مختصر سی ملاقات تھی لیکن یہ نہ صرف آج بھی یاد ہے بلکہ زندگی کے اس سفر میں یہ بار بار یاد آتی رہتی ہے۔ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے وہ کمرے میں داخل ہوئے، مصافحہ کیا، سامنے صوفے پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے، ’میں آپ کی باتیں سن رہا تھا، اس لیے آپ کو اندر بلایا۔ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے، کیا آپ میری بات توجہ سے سن رہے ہیں؟‘ ’جی سر، توجہ سے سن رہے ہیں۔‘
’دیکھیے، آپ ابھی بچے ہیں۔ آپ کے سامنے ساری زندگی پڑی ہے۔ یہ عمران خان کے پیچھے بھاگنا اور اس کے ساتھ تصویریں بنانا ایک فضول کام ہے۔ اس کا آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا لیکن نقصان ضرور ہو سکتا ہے۔ آپ کو اپنی تعلیم پر توجہ دینی چاہیے۔ محنت کریں۔ پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل بہتر بنائیں۔ آپ کے خاندان کو اور آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے لہذا پڑھ لکھ کر اپنا فیوچر بنائیں اور کسی بہتر شخص کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ یہ ملاقات اس مختصر سی ہدایت کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔
آصف محمود بتاتے ہیں کہ بچوں کو بڑوں کی باتیں کب اچھی لگتی ہیں۔ لہذا کچھ وقت گزرا، تو میں پھر لاہور پہنچا اور کیمرا لے کر زمان پارک پہنچ گیا۔ میں چاچا خان بیگ کے ساتھ زمان پارک والے گھر کے گیٹ پر کھڑا تھا کہ اچانک عمران خان آ گئے۔ وہ جاگنگ کر کے آ رہے تھے اور ان کا کتا ان کے ساتھ تھا۔
میں عمران کے ساتھ اپنے بھائی کی تصویر بنانے لگا تو کتے نے مجھ پر حملہ کر دیا۔ عمران نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا، ’ٹائیگر!‘ تو وہ وہیں دبک کر بیٹھ گیا لیکن تب تک میرا کندھا زخمی ہو چکا تھا اور کپڑے پھٹ چکے تھے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ ہو رہی تھی اور میں نے بھی ’عمرانز ٹائیگرز‘ کا بیچ سینے پر لگایا ہوا تھا۔ میرے لیے یہ حیرت اور صدمے کی بات تھی کہ اس کتے کا نام بھی ’ٹائیگر‘ ہے اور ہم جیسے ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے رضاکاروں کو بھی عمران خان ’ٹائیگر‘ کہتے ہیں۔ چنانچہ وہ بیج میں نے اسی وقت اتار کر چاچا خان بیگ کے سامنے ہی پھینک دیا تھا، لیکن اس روز مجھے اکرام اللہ خان صاحب کی باتیں بہت یاد آئی تھیں۔ بعد میں جب جب عمران خان اپنے کارکنان کو ’ٹائیگر‘ کہہ کر پکارتے مجھے مرحوم اکرام اللہ خان صاحب یاد آ جاتے۔
بقول آصف محمود، اگلے روز اس ننھے مداح کی عمران خان سے جذباتی ملاقات دیکھی تو مجھے ایک بار پھر جناب اکرام اللہ خان نیازی یاد آ گئے۔ عمران خان نے بچے کے جذبات کو دیکھ کر جس رسان سے کہا کہ ’اسے ہم اپنی یوتھ ونگ میں ذمہ داری دیں گے، یہ سن کر یہ خیال دیوار دل سے آ لگا کہ یہاں اکرام اللہ خان نیازی ہوتے تو کیا وہ اس معصوم بچے کو بھی عمرانڈو بریگیڈ کا حصہ بننے سے روکتے؟
ابوالکلام آزاد نے درست کہا تھا، کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ لوگ اپنے معصوم بچوں کو پیدل لے کر بنی گالہ حاضر ہو رہے ہیں اور اس کی یوں تشہیر کی جا رہی ہے جیسے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔ بقول آصف محمود، کیسی پتھر دل سیاست ہے، کلٹ کی آسودگی کا سامان مہیا ہو رہا ہو تو بچوں کو سارے اہتمام سے شرفِ ملاقات بخشا جاتا ہے لیکن ساہیوال کی سڑک پر یتیم ہو جانے والے بچوں کا وزیر اعظم آج تک قطر کے دورے سے واپس نہیں آیا۔ جب تک وہ اپنے مقتول والدین کی قبروں پر ’امپورٹڈ حکومت نا منظور‘ کا کتبہ نہیں گاڑ دیتے، شرف ملاقات کے معیار پر نہیں پہنچ سکیں گے۔ ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ جہالت اور جنون سے کبھی قوم کی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ قومیں شعور اور حریت فکر سے بنتی ہیں۔ اندھی وابستگی کو ڈرامائی انداز سے پیش کرتے ہوئے ’کلٹ‘ تو کھڑا کیا جا سکتا ہے، قوم نہیں۔ قوم کو عقیدت میں لتھڑے مبالغے کی بجائے منطق اور کریٹیکل تھنکنگ کی ضرورت ہے۔ روایت ہے کہ ننھے مداح نے عمران خان کے دستخطوں والی شرٹ کو بیچنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرت مند لوگ تحفے نہیں بیچتے۔ لیکن وہ ایسا کہتے ہوئے شاید بھول گیا کہ اس کے ہیرو نے تو باہر سے ملنے والے تمام قیمتی تحائف توشہ خانہ سے نکلوا کر بیچ ڈالے۔۔۔۔
