کیا عمران بد زبان ہو کر خود کو خطرناک ثابت کر رہا ہے؟


اقتدار سے نکلنے کی صورت میں خطرناک ہو جانے کی دھمکی دینے والا عمران خان اب اس پر عمل کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کے خلاف بدزبانی میں اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگ رہا ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے موصوف شاید بھول گئے کہ جسم کے گھاؤ تو بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوتے اور ان کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

یاد رہے کہ اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں 23 جنوری کو عمران نے ایک جلسے میں دھمکی دی تھی کہ ’اگر میں حکومت سے نکل گیا تو زیادہ خطرناک ہو جاؤں گا۔ ابھی تک تو میں چپ کر کے اپنے آفس میں بیٹھا تماشے دیکھ رہا ہوں۔ لیکن میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی’۔ اپریل میں اپوزیشن اتحاد پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہوا تو عمران خان اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے خطرناک ہونے کا اظہار بدزبانی سے کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہی عمران خان ہے جسے پاکستانی سیاست میں گالی گلوچ اور بدزبانی کا کلچر متعارف کرانے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ اپنے اقتدار کے دوران بھی عمران خان کے قریب وہی لوگ تھے جو اپنی زبان درازی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، چاہے وہ شہباز گل ہو یا فواد چوہدری یا پھر فیاض چوہان۔ اسی لیے اپنے دور حکومت میں عمران اور ان کی ٹیم نے عوامی فلاح کی بجائے صرف بد زبانی پر زور رکھا جس کا نتیجہ پاکستانی معیشت کی تباہی کی صورت میں سامنے آیا اور موصوف کو اقتدار میں لانے والی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں اپنے کندھوں سے گرانے اور جوتے اٹھا کر بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی۔ چنانچہ اب عمران خان کی بدزبانی کا ٹارگٹ نہ صرف ان کے سیاسی مخالفین ہیں بلکہ فوجی قیادت بھی ہے جو اب اس بدزبانی کا پریشر لیتے ہوئے شہباز حکومت پر فوری الیکشن کروانے کا دباؤ ڈال رہی ہے۔

عمران کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیڈر کی اصل طاقت ہی ان کا جارحانہ زبان و بیان ہے۔ ظاہر ہے کہ عمران کی دشنام طرازیوں اور بد زبانیوں کا مقابلہ کوئی باعزت اور خاندانی سیاست دان نہیں کر سکتا اور نہ ہی حکومتی اتحاد میں سے کوئی اتنا گر کر عمران کی واحیات باتوں کا جواب دے سکتا ہے۔ یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ عمران نے اپنے اقتدار سے بے دخلی کے بعد امریکی سازش کا جو بیانیہ تشکیل دیا ہے وہ بھی ان کی زبان ہی کا مرہون منت ہے۔ اس وقت خان صاحب اپنی حکومت کے خلاف امریکی سازش کا بیانیہ لے کر سڑکوں پر نکل ہوئے ہیں اور عوامی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا کو بھی اپنا بیانیہ مقبول بنانے کے لیے منفرد انداز میں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ وہی سوشل میڈیا ہے جس پر موجود اپنے ناقدین کو خاموش کروانے کے لیے عمران نے اپنے اقتدار کے دوران ایف آئی اے کو بری طرح استعمال کیا اور درجنوں صحافیوں کو گرفتار کروایا۔

عمران نہ صرف اپوزیشن بلکہ عدلیہ اور دیگر اداروں پر بھی کھل کر تنقید کر رہے ہیں اور دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آرہے ہیں۔ اپنے اقتدار کے آخری ایام میں عمران خان نے اپوزیشن کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے کا تاثر دیئے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے فوجی قیادت کا بھی رگڑا نکال دیا تھا۔ انکا کہنا تھا کہ ’انسان کو اچھائی اور برائی میں فرق کرنا ہوتا ہے، انسان کبھی نیوٹرل نہیں ہو سکتا۔ نیوٹرل صرف جانور ہوتا ہے۔‘

انہوں نے نام لیے بغیر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو کہا تھا کہ ‘میں نے نیوٹرلز کو خبردار کیا تھا کہ اگر میری حکومت کے خلاف سازش کامیاب ہوئی تو پاکستانی معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی۔‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملکی معیشت ان کے ہوتے ہوئے ہی برباد ہوگئی تھی اور وہ جاتے جاتے اگلی حکومت کے لیے بھی بارودی سرنگیں بچھا گئے تھے جو اب پھٹنا شروع ہو چکی ہیں۔

اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ عمران نے جن دیگر اداروں کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ان میں سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن بھی شامل ہیں۔ جب سپریم کورٹ نے تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد عمران کی جانب سے مسلسل آئین شکنی کا نوٹس لیا تو موصوف نے عدلیہ پر بھی حملہ کر دیا اور رات کو 12 بجے عدالتیں کھولنے پر سوالات اٹھا دیئے۔

خان صاحب نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ساری زندگی یاد رہے گا کہ میرے خلاف رات کو 12 بجے عدالتیں کھولی گئیں حالانکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ لیکن ایسا کہتے ہوئے موصوف شاید بھول گئے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کے احکامات کو روندنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ ویسے بھی اگر آدھی رات کو عدالتیں کھلیں بھی تو انہوں نے عمران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔

بدزبانی اور الزامات پر مبنی عمران کے بیانات پر عدلیہ سمیت آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی متعدد بار وضاحت سامنے آئی ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کیسز کی سماعت کے دوران رات کو 12 بجے عدالتیں کھولنے پر وضاحت دے چکے ہیں۔ اسی طرح جب سپریم کورٹ کی جانب سے تفتیشی اداروں میں تبادلوں کا سوو موٹو نوٹس لیا گیا تو مخلوط حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا کہ سپریم کورٹ نے عمران کے دباؤ میں آ کر ایسا کیا ہے کیونکہ ماضی میں عمران کی وزارت عظمیٰ کے دوران جب اپوزیشن رہنماؤں کو بلا وجہ گرفتار کر کے کئی کئی ماہ تک قید رکھا جاتا تھا تب بھی سپریم کورٹ کوئی نوٹس نہیں لیتی تھی۔ اسی طرح جب ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف عمران خان کے عزائم کو بے نقاب کیا تب بھی سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس نہیں لیا۔ اسی لیے مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن نے اپنے جلسوں میں عدلیہ کی جانب سے سو موٹو نوٹس لینے پر سوالات اٹھائے ہیں اور پوچھا ہے کہ یہ نوٹس کس کے کہنے پر لیے گئے؟‘

ایسے میں سوال یہ ہے کہ عمران کیا واقعی خطرناک ہو چکا ہے؟ سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے عمران زیادہ خطرناک ہو گئے ہیں کیونکہ اب انہیں کسی کا کوئی دید لحاظ نہیں رہا اور وہ شتر بے مہار کی طرح بولے چلے جارہے ہیں۔

ان کے مطابق عمران اب اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کے لیے خطرناک ہو چکے ہیں اور خطرناک کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت سے نکلنے کے بعد زیادہ شدت پسند اور بے قابو ہو چکے ہیں۔ اسی لیے اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ بھی انکا دباؤ لیتے ہوئے فیصلے کرتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق عمران کا بیانیہ عوام میں مقبول تو ضرور ہو رہا ہے لیکن وہ ملک کی سیاست میں کوئی اچھی روایت نہیں ڈال رہے۔ جس طرح وہ صدر اور گورنر کے عہدوں کو استعمال کر رہے ہیں وہ آئین کے ساتھ کچھ اچھا نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران کو پانچ سال پورے کرنے دیئے جاتے تو شاید ان کو دوبارہ اتنی سیٹیں نہ ملتی لیکن اب انہوں نے ذہن میں دو تہائی اکثریت رکھ لی ہے لہذا اگر انہیں اگلے انتخابات میں اقتدار نہ ملا تو وہ الیکشن نتائج تسلیم نہیں کریں گے اور ملک کو ایک نئے بحران کا شکار کر دیں گے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اس وقت ملک میں عمران کے ذریعے نئی حکومت کے لیے جو سیاسی بحران پیدا کیا جا رہا ہے اس سے تحریک انصاف کو فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، لیکن اس سے ملک کا نقصان ضرور ہو رہا ہے۔

Back to top button