پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق پنجاب اسمبلی کے عمومی نشستوں پر منتخب ہونے والے 20 اراکین، خواتین کی مخصوص نشستوں پر 3 اور اقلیتی نشستوں پر براجمان 2 اراکین کی رکنیت ختم کی گئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صغیر احمد، ملک غلام رسول سنگھا، سعید اکبر خان، محمد اجمل، عبدالعلیم خان، نذیر چوہان، محمد امین ذوالقرنین، نعمان لنگڑیال، محمد سلمان نعیم، زوار حسین وڑائچ، نذیر احمد خان، فدا حسین، زہرہ بتول، محمد طاہر، عائشہ نواز، ساجدہ یوسف، ہارون عمران گِل، عظمیٰ کاردار، ملک اسد علی، اعجاز مسیح، محمد سبطین رضا، محسن عطا خان کھوسہ، میاں خالد محمود، مہر محمد اسلم، فیصل حیات صوبائی اسمبلی کی رکنیت ختم کردی گئی ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے 20 مئی کو وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کی حمایت کرنے والے پی ٹی آئی کے 25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا فیصلہ دیا گیا تھا جس کا اعلامیہ آج جاری کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی آرٹیکل 63 اے کی تشریح کی روشنی میں فیصلہ اتفاق رائے سے سنایا تھا، تاہم تحریک انصاف کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی تاحیات نااہل قرار نہیں دیا گیا تھا،ان میں سے متعدد اراکین کا تعلق جہانگیر ترین گروپ، علیم خان گروپ اور اسد کھوکھر گروپ سے تھے۔

منحرف اراکین کے وکیل خالداسحاق خان نے کہا تھا کہ کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہو سکتی ہے اور قانون کے مطابق 30 دن میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا جاسکتا ہے،سپریم کورٹ 90 دن میں اپیلوں پر فیصلہ کر سکتی ہے تاہم اپیلیں دائر کرنے کا فیصلہ مشاورت کے بعد ہوگا۔

ایک روز قبل اس کیس میں مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیے تھے،کمیشن نے 17 مئی کو ریفرنس پر اپنا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا اعلان آئندہ روز (بدھ) کو 12 بجے کیا جائے گا تاہم بعد میں اس اعلان کو ملتوی کردیا گیا تھا۔

تحریک انصاف کے ان 25 منحرف اراکین کے ووٹوں نے حمزہ شہباز کو اکثریت حاصل کرنے میں مدد دی، انہوں نے مجموعی طور پر 197 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 186 ووٹ درکار تھے،حمزہ شہباز کے 16 اپریل کو وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے 25 اراکین صوبائی اسمبلی کو منحرف قرار دینے کا اعلامیہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی کو بھیجا تھا، جو وزیر اعلیٰ کے لیے پی ٹی آئی،پی ایم ایل (ق) کے مشترکہ امیدوار بھی تھے۔بعد ازاں پرویز الہٰی نے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجا تھا اور اس پر زور دیا تھا کہ ان قانون سازوں کو پارٹی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حمزہ شہباز کے حق میں ووٹ ڈال کر پی ٹی آئی سے منحرف ہونے پر ڈی سیٹ کیا جائے۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے، اس کارروائی کے لیے پارٹی کا سربراہ اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اسپیکر الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھیجتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن منحرف رکن کی اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

Back to top button