عمران کا لانگ مارچ پشاورسے شروع کرنے کا مقصد کیا ہے؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز لاہور کی بجائے خیبر پختونخواسے شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے حیران کن ہے کہ ماضی میں عمران نے نواز شریف حکومت کے خلاف لانگ مارچ کا آغاز لاہور سے کیا تھا اور جلوس کی شکل میں اسلام آباد پہنچے تھے۔ اس مرتبہ پشاور سے لانگ مارچ کا آغاز کرنے کی یہ توجیہہ پیش کی گئی ہے کہ کپتان کو گرفتاری کا خدشہ ہے لہذا وہ ایسے صوبے سے اپنی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ان کی اپنی جماعت کی حکومت ہے اور انکی گرفتاری کا کوئی امکان نہیں۔
اتوار کو پشاور سے پریس کانفرنس میں عمران خان نے عوام کو 25 مارچ کو اسلام آباد سری نگر ہائی وے پر دن کے تین بجے پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو وہیں پر ملیں گے۔ تاہم بعد میں انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ وہ خیبر پختونخوا سے مارچ کی قیادت کریں گے۔ عمران نے کہا کہ ان کے مطالبات میں قومی اسمبلی کو تحلیل کرنااور دوبارہ انتخابات کروانا شامل ہے۔ یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کو تحریکِ انصاف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے لہذا توقع کی جارہی ہے کہ سب سے زیادہ عوام بھی وہیں سے نکلیں گے۔ لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ لانگ مارچ کی کال بہت کم وقت کے نوٹس پر دی گئی ہے۔ اس بارے جب خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور کارکنان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ پچھلے 40 دن سے اسکی تیاریوں میں مصروف ہیں، جن میں عوام اور کارکنان کو متحرک کرنا، انتظامات کی مختلف حلقوں، اضلاع اور گروپوں کی سطح پر تقسیم سرفہرست ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے لیے ان کی تیاریاں اتنی منظم ہیں کہ اس مرتبہ لانگ مارچ میں حصہ لینے والے اہم کارکنان کی ایک ڈیٹا فہرست بھی تیار کی گئی ہے، جس میں ان کے نام اور رابطہ نمبر ودیگر معلومات شامل ہیں، جب کہ لانگ مارچ کی حکمت عملی کے لیے صوبائی، ضلعی، نیبرہڈ کونسل، یونین کونسل، میں پارٹی کے عہدیداران سمیت جنرل یوتھ پلیٹ فارم کو متحرک کرکے ان کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ عوام میں شعور پھیلانے کے ساتھ ساتھ انہیں متحرک بھی کیا جائے۔
صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن کامران بنگش نے بتایا کہ ان کی حکومت اور پارٹی کے کارکنان ذہنی طور پر پارٹی قیادت کی اس ’کال‘ کے لیے تیار تھے۔ ‘ہم 27 مارچ سے ان تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پارٹی کے ڈاکٹر فورمز اور وکلا فورمز کو بھی متحرک کرلیا گیاہے، جن میں سے کچھ فرنٹ لائن پر اور کچھ پس پشت کام کریں گے۔‘
کامران بنگش نے بتایا کہ ان کی جماعت نے لانگ مارچ کی تیاری اور انتظامات کے لیے ایک ’مانیٹرنگ سیل‘ بھی بنائی ہے، جو تمام اضلاع کی کارکردگی پر نظر رکھتی رہی ہے، اور ان کے متحرک یا غیر فعال ہونے سے متعلق رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر پارٹی کے چیئرمین کے ساتھ شیئر کی جاتی تھی۔ کامران بنگش نے کہا: ’فی الحال لانگ مارچ کا ہی اعلان ہوا ہے، لہذا آگے کی حکمت عملی عمران خان اسی دن عوام کو بتائیں گے کہ آیا دھرنا دینا ہے یا آگے بڑھنا ہے۔‘
انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی، جن کے مطابق، خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل اور فنڈز کو پی ٹی آئی جلسوں یا لانگ مارچ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ’ہم تمام ارکان صوبائی اسمبلی نے اپنی جیبوں سے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ٹرانسپورٹ، کھانے اور دیگر اخراجات بھی ہم اپنی جیبوں سے ادا کررہے ہیں۔ صرف تین دن قبل ایک کنونشن میں ہم سب ارکان اسمبلی نے فی بندہ 50 ہزار روپے کا حصہ ڈالا۔ ہمارا کام چندوں پر ہی چلتا ہے۔‘
سکیورٹی اور دیگر انتظامات کے حوالے سے بھی تحریک انصاف کے عہدیداران کے مطابق کافی کام کیا گیا ہے اور صرف 500 کے قریب کارکنان کو صرف عمران خان کی سکیورٹی کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ لانگ مارچ کے شرکا اور پارٹی قیادت کی سکیورٹی کا ٹاسک سنبھالنے والے مینہ خان آفریدی نے بتایا کہ موجودہ وقت میں کارکنان کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی بنی گالہ میں عمران خان کے گھر کے پاس پڑاؤ ڈالے ہوئے ان کی حفاظت پر معمور ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی کارکنان لانگ مارچ کے دوران بھی سکیورٹی کے فرائض سنبھالیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ’خیبر پختونخوا میں یونین کونسل اور ویلیج ونیبرہڈ کونسل کی سطح پر بازاروں میں آگہی پھیلانے کے لیے پمفلٹس تقسیم کرلیے گئے ہیں۔ عوام انتہائی پرجوش ہیں۔ ہمارے نوجوان کب سے اس اعلان کے منتظر تھے، 25 کی تاریخ تک انتظار کرنے پر وہ راضی نہ تھے۔‘ لیکن پی ٹی آئی پشاور سٹی کے صدر عرفان سلیم نےبتایا کہ’ یہ سچ ہے کہ ہم سب اس اعلان کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے، لیکن یہ اعلان اس قدر شارٹ نوٹس پر ہوگا، یہ ہم میں سے کسی نے نہیں سوچا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ٹرانسپورٹ کے معاملات کافی وقت پر طے کیےگئے تھے، البتہ کسی غیر متوقع صورت حال سے نمٹنے کے لیے کارکنان کو کیا احتیاطی اور دفاعی تدابیر اختیار کرناہوں گی، یہ معاملات دو دن میں دیکھنا کافی چیلنجنگ بن گیا ہے۔‘
