18ویں آئینی ترمیم کے تحت آئین میں کیا تبدیلیاں ہوئیں؟

پچھلے کچھ عرصہ سے ملک میں اٹھارویں آئینی ترمیم زیربحث ہے اور پاکستان کے طاقتور ترین حلقوں کے ایما پر پر وزیراعظم عمران خان بھی اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین میں لائی جانے والی کچھ تبدیلیوں کو واپس کیا جانا چاہئے خصوصا صوبوں کے بڑھائے گئے اختیارات کو۔ 18ویں آئینی ترمیم دراصل ہے کیا اور اس کے ذریعے آئین میں کونسی بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں۔ آئیے جانتے ہیں۔

آئین کی 18ویں ترمیم کے ذریعے فوجی آمر جنرل ضیاالحق کے دور کی گئی ترامیم کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے، جنرل ضیا کے دور میں 8ویں ترمیم کے تحت 1973 کے وفاقی آئین میں 90 سے زیادہ آرٹیکلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ اسی ترمیم کے تحت ایک اور فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں کی گئی 17ویں آئینی ترمیم کے تحت ہونے والی تبدیلیوں کو بھی قریب قریب ختم کر دیا گیا ہے۔

اٹھاوریں آئینی ترمیم کے تحت شمال مغربی سرحدی صوبہ (صوبہ سرحد) کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخواہ رکھا گیا۔
دو صوبہ جات کے نام کے انگریزی ناموں کے سپیلنگز میں تبدیلی کے تحت Baluchistan کو تبدیل کر کے Balochestan اور Sind کو Sindh کیا گیا ہے۔ گو کہ اس تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی البتہ آئینی ترمیم کے لیے قائم کمیٹی کے صوبہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے اراکین نے کہا کہ اس تبدیلی کا مقصد برطانوی راج کے دور میں استعمال شدہ ناموں سے چھٹکارا پانا تھا۔
1973 کے آئین میں شامل آرٹیکل 6 ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد کے لیے سخت سزائیں تجویز کی گئی تھی، 18ویں ترمیم کے تحت اس میں مزید تبدیلی کر کے آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کر سکتی ، جیسا کہ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ آرمی ڈکٹیٹروں نے مارشل لا لگانے کے بعد اپنے اقدامات کو عدالتی تحفظ فراہم کیا اور بعد میں آنے والی اسمبلیوں سے اپنے دور میں کیے جانے والے اقدامات سے استثنا حاصل کیا۔ لہٰذا آئینی طور پر مستقبل میں کسی بھی مارشل لا کا راستہ بند کر دیا گیا ہے۔

آرٹیکل 25 الف کا اضافہ کر کے 5 سے 16 برس کی عمر تک تعلیم کی لازمی اور مفت فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
آرٹیکل 38 کے تحت صوبائی اکائیوں کے درمیان موجود وسائل اور دیگر خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کیا گیا ہے۔

بدنام زمانہ آرٹیکل 58 (2) بی جو کہ فوجی آمر ضیا الحق نے متعارف کروائی تھی اور بعد ازاں ایک اور آمر پرویز مشرف کے دور میں اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے، اس بد نیتی پر مبنی آرٹیکل کے تحت صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کا اختیار دیا گیا تھا جس سے پارلیمانی نظام حکومت صدارتی نظام حکومت میں تبدیل ہو کر رہ گیا تھا۔ بالاآخر دور آمریت کی بھونڈی ترمیم کو مکمل طور پر ختم کر کے چور دروازے سے پارلیمان تحلیل کرنے کا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔

ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی گئی ہے، پہلے یہ اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل تھا، اب اس کا اختیار جیوڈیشل کمشن اور پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ (گو کہ بعد میں 19ویں ترمیم کے تحت اس میں تبدیلی کی گئی ہے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعض حصوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں 17 رکنی بینچ نے ججوں کی تعیناتی کے اختیار میں بہت حد تک تبدیلی کر دی گئی ہے، جو کہ بعد میں 19ویں آئینی ترمیم میں شامل کی گئی ہے).

اس ترمیم کے تحت صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت آرٹیکل 70، 142، 143، 144، 149، 158، 160، 161، 167، 172، 232، 233 اور 234 کو جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔

‏a. اس میں بجلی کی پیداوار کا معاملہ مکمل طور پر صوبائی اختیار میں دیا گیا ہے

‏b. قومی فنائنس کمیشن ، قدرتی گیس، صوبائی قرضہ جات، ہنگامی صورتحال کا نفاذ اور دیگر قانون سازی جیسے معاملات کو صوبائی اختیار میں دے دیا گیا ہے۔

‏i. اس میں سب سے اہم معاملہ ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کے متعلق ہے۔ اب ہنگامی صورتحال کا نفاذ صدر اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کو دے دیا گیا ہے۔

‏ii. ایک اور بہت بڑی تبدیلی یہ کی گئی کہ آرٹیکل 142 ب اور ج کے تحت صوبائی اسمبلیوں کو کریمینل قوانین، طریقہ کار اور ثبوت اور شہادت جیسے قوانین کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 280 الف الف کے تحت موجودہ قوانین اس وقت تک نافذ العمل رہیں گے جب تک کہ متعلقہ صوبائی اسمبلیاں ان قوانین کے بدلے میں نئے قوانین پاس نہیں کرتیں۔

اس ترمیم کا ایک اور بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت کو واپس لاگو کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 46، 48، 75، 90، 91، 99، 101، 105، 116، 129، 130، 131، 139، 231 اور 243 میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مختلف تبدیلیوں کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات میں خاطرخواہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اب صدارتی اختیارات، عوام کے منتخب و نمائندہ وزیر اعظم، پارلیمان، صوبائی اسمبلیوں کو منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کا کیا اثر پڑا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ پہلے وزیر اعظم پر یہ فرض تھا کہ وہ کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے صدر کو آگاہ کرے، اور ضرورت پڑنے پر صدر کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ ان فیصلوں پر نظر ثانی کے لیے انہیں جزوی یا کلی طور پر منسوخ کر دے، اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس سے قبل اہم عوامی أمور کے لیے ریفرنڈم کے انعقاد کا اختیار صرف صدر مملکت کے پاس تھا، اب یہ اختیار صدر سے واپس لے کر پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے وزیراعظم کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے تحت آئین سے آمر ضیاالحق کے لیے “صدر” کے لفظ کو نکال دیا گیا ہے۔
وسائل اور فنڈز اور اختیارات کو وفاق سے لے کر صوبوں کو منتقل کرنا، صدراتی اختیارات کو پارلیمان اور وزیر اعظم کو منتقلی اس ترمیم کو وہ سنہری کارنامہ ہے جس کے نتائج ہم نے پچھلے پانچ برس میں دیکھے کہ کتنی ہی کوششوں کے باوجود اسمبلیاں تحلیل نہیں ہو سکیں، آئین کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکا۔
1985ء کے انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی پارلیمنٹ نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور میں کی جانے والی تبدیلیوں کو منظور کیا اور 2002ء کے انتخابات کے نتیجے میں تشکیل پانے والی پارلیمنٹ نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے آئین میں کی گئی چھیڑ چھاڑ کی منظوری دی۔ تاہم، پیپلز پارٹی کی زیر قیادت پارلیمنٹ نے اس کے بالکل الٹ کام کیا۔ مشرف کا عبوری آئینی حکم نامہ (لیگل فریم ورک آرڈر) 2002ء، اس کے ترمیمی ورژن اور آئین میں کی گئی 17ویں ترمیم کو 18ویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا۔ آرٹیکل 270-A کا کچھ حصہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں آئین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ فوجی آمر کا نام شامل کیا گیا تھا: ’’۔۔۔ جس کے تحت، 19؍ دسمبر 1984ء کو کرائے جانے والے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں جنرل محمد ضیا الحق پاکستان کے صدر بن گئے ۔۔۔۔‘‘ آئین سے یہ حصہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مستقبل میں کسی بھی مارشل لاء کے امکانات کو ختم کر دیا گیا۔ اگرچہ جنرل ایوب خان نے 1956ء کے آئین کو منسوخ کر دیا تھا، لیکن 1973ء کے آئین کے ساتھ ایسا کسی فوجی آمر نے نہیں کیا۔ اس کی بجائے، اسے معطل کیا گیا یا اس پر عمل روک دیا گیا تاکہ اقتدار پر قبضہ کیا جا سکے، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ان مہم جوئیوں کی منظوری دی۔ 18ویں ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 6؍ میں ترمیم کرکے غداری کی تشریح کو وسیع کیا اور جرنیلوں کے ساتھ ایسے ججوں کو بھی دائرے میں شامل کیا جو اس کی منظوری دیتے ہیں، لہٰذا نظریۂ ضرورت کا دور ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا۔ آرٹیکل 6(2A) میں لکھا ہے کہ ’ذیلی شق نمبر ایک یا شق نمبر دو میں وضع کردہ سنگین غداری کا اقدام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سمیت کوئی عدالت منظور نہیں کرے گی۔‘‘ اس ترمیم کے ذریعے صدر پاکستان کے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے اور گورنر صاحبان کا تقرر کرنے کے اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، یہ اقدام ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کیا گیا ہے جو مارشل لا کا سوچتے ہیں کیونکہ ماضی میں ایسا بہت آسان تھا کیونکہ اس کیلئے مرکز میں اقتدار پر قبضہ کرنے کی ضرورت ہوتی تھی۔ اب 18ویں ترمیم کے بعد، صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس کے بغیر پارلیمنٹ تحلیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی گورنر صاحبان متعلقہ وزیر اعلیٰ کی ایڈوائس کے بغیر صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button