18ویں ترمیم کرنے پرمیرے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں

پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کرنے پرمیرے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔
پارک لین ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق صدرآصف زرداری نے احتساب عدالت کے جج محمد اعظم سے گزارش کی کہ وڈیو لنک کے ذریعے وہ بھی اس کیس سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ جج نے کہا کہ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں جس پرآصف زرداری نے کہا کہ میں نے پاکستان کو اٹھارویں ترمیم دی، اس لیے یہ مقدمات بنائے جارہے ہیں، نیب والوں سے کہیں کہ یہ صحیح کام کریں، بعد میں یہ مجھ سے پاؤں میں بیٹھ کر معافیاں مانگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھ پردباؤ ڈالنے کے لیے یہ کیس بنائے گئے ہیں اورسیاسی بدنامی کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے. سابق صدر نے مزید کہا کہ عدالتوں کو غیر جانبدار رہ کر فیصلہ دینا چاہیے، عدالت اصولوں پر چلے تو بہتر ہے۔ جج احتساب عدالت نے کہا ہم انشاء اللہ اصول پر ہی چلیں گے، قانون سب کے لیے برابر ہے،اسی لیے ہم نے یکم ستمبر کو گواہوں کو بلایا ہے ، جس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا. آصف زرداری نے کہا آپ اپنے آرڈر میں یہ ضرور لکھیں کہ وکیل کی غیر موجودگی میں مجھ پر فرد جرم عائد کی جا رہی ہے۔ مجھے بھی 30 سال ہو گئے ہیں ایسے کیسز لڑتے لڑتے۔ جج احتساب عدالت نے کہا پھر تو آپ کو فرد جرم عائد کرنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت نے 13 ملزمان پر فرد جرم عائد کی اور استغاثہ کے تین گواہوں احسن اسلم ، نبیل ظہور اور عبدالکبیر کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے سماعت یکم ستمبر تک ملتوی کر دی ۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں آصف علی زرداری پرویڈیو لنک کے ذریعے فردِ جرم عائد کی ہے۔
دوسری طرف سابق سابق صدر آصف علی زرداری پر وکلا کی عدم موجودگی میں فردجرم عائد کرنے پرپیپلزپارٹی نے خدشات کا اظہارکردیا،،پیپلز پارٹی کی مرکزی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وکلاء کی غیر موجودگی میں صدر آصف علی زرداری پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی،ایسا کرنا قانونی حقوق کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ شیری رحمان کے مطابق وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد کرنا آصف علی زرداری کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہےاحتساب میں اتنی عجلت کی وجہ کیا ہے؟سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نیب قوانین میں ترمیم سے پیچھے نہیں ہٹے گی،نیب اپنی ساکھ مکمل طور پر کھو چکا ہے
صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد کئے جانے پر ان کی صاحبزادیوں آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے بھی الگ الگ ٹویٹس کی ہیں۔۔سابق صدر آصف علی زرداری کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے والد پر ان کے وکیل کی عدم موجودگی میں عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آصفہ بھٹو نے ٹویٹ کیا ہے کہ ان کے والد کے خلاف آج ان کے وکیل کی عدم موجودگی میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ انہوں نے پہلے ہی 6 ماہ جیل میں گزارے ہیں اور 2 سال سے ای سی ایل میں ہیں۔ جب جج اپنے آئینی اور قانونی حقوق کو پامال کرتے ہوئے فرد جرم عائد کرتے رہے تو ناانصافی ہوتی ہے۔،
بختاور بھٹو زرداری نے ٹویٹ کیا کہ سابق صدر پر جعلی الزامات عائد کئے گئے ہیں،وہ کہیں نہیں جارہے سب کا مقابلہ کریں گے۔ ان کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں۔ صرف جمہوریت اور 18 ویں ترمیم کے لئے ستایا جاریا ہے.
Bogus charges framed on Pres @AAliZardari without his lawyer present (in SC today which takes precedence). Media tipped over weekend already. Judge did not care for proceeding without lawyer. Deprived of constitutional right to legal counsel. All charges denied but why the rush..
— Bakhtawar B-Zardari (@BakhtawarBZ) August 10, 2020
