مودی سرکار پاک بھارت عوام کی قربتوں میں بڑی رکاوٹ

بات عام افراد کی ہو یا فنکاروں کی، بھارتی حکومت پاک بھارت عوام کے قریب آنے میں ہمیشہ بڑی رکاوٹ ثاتب ہوئی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے قریب آنے سے بھارتی حکومت کی ساری دکانداری چوپٹ ہو جائے گی، اب بھارتی سرکار نے مقبول سکھ اداکار گپی گریوال کو پاکستان آنے سے روکتے ہوئے اپنی مفنی رویے کی ایک اور جھلک دکھائی ہے۔
سکھ اداکار گپی گریوال دو روزہ دورے پر پاکستان آ رہے تھے کہ انہیں بھارتی بارڈر سیکیورٹی حکام نے عطاری کے قریب سرحد پر روک دیا اور پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ گپی گریوال 28 جنوری کو 2 روزہ دورے پر پاکستان آ رہے تھے اور انہیں کرتارپور صاحب دربار جاکر زیارت کرنی تھی، نارووال میں کرتارپور صاحب دربار کی زیارت کے بعد گپی کو دیگر سکھ مذہبی مقامات کی بھی زیارت کرنی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ گپی دیگر 7 افراد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آ رہے تھے مگر انہیں عطاری سرحد پر بھارتی حکام نے روک لیا، گلوکار کو گورنر پنجاب چوہدری سرور کی دعوت پر گورنر ہاؤس میں تقریب میں شرکت بھی کرنی تھی۔
تاریخ جسٹس گلزار کو کن الفاظ میں یاد کرے گی؟
ذرائع کے مطابق گپی گریوال کی گورنر ہاؤس میں مختلف شوبز شخصیات سے ملاقاتیں طے تھیں اور ممکنہ طور پر وہ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ فلم بنانے پر تبادلہ خیال بھی کرتے، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی حکام نے گپی گریوال کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت کیوں نہیں دی؟اس سے قبل گپی گریوال ماضی میں پاکستان کے دورے کر چکے ہیں اور وہ اپنے سکھ مذہبی مقامات کی زیارت بھی کر چکے ہیں، سکھوں کے زیادہ تر اہم مذہبی مقامات صوبہ پنجاب میں موجود ہیں اور سکھ شوبز شخصیات سمیت عام افراد بھی پاکستان زیارت کے لیے آتے رہتے ہیں۔
گپی گریوال جنوری 2020 میں بھی ننکانہ صاحب دربار کی زیارت کے لیے آئے تھے اور ایک انٹرویو میں مہوش حیات کے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، یاد رہے کہ گپی بھارتی پنجاب کے معروف اداکار و گلوکار ہیں، انہیں پاکستانی پنجاب میں بھی کافی پسند کیا جاتا ہے۔
گپی گریوال کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے پر پاکستانی شوبز شخصیات نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اداکار تو دو مختلف ممالک کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، ان کے ساتھ تفریق روا رکھنا اچھی بات نہیں۔