حکومت سنیارٹی کی بنیاد پرآرمی چیف کیوں لگانا چاہتی ہے؟


تحریر: عامر میر

پاکستانی سیاسی تاریخ میں اس مرتبہ نئے آرمی چیف کا انتخاب سنیارٹی کی بنیاد پر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سنیارٹی لسٹ سے ہٹ کر تعینات ہونے والے زیادہ تر آرمی چیفس سیاست اور اقتدار کے شوقین نکلے اور ان میں سے کئی ایک نے تو خود کو لانے والے وزراء اعظم کی حکومتیں ہی الٹا ڈالیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اب تک تعینات ہونے والے 16 آرمی چیفس میں سے صرف چار کو سنیارٹی کی بنیاد پر لگایا گیا۔ ان میں جنرل ٹکا خان، جنرل اسلم بیگ، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اشفاق کیانی شامل تھے۔ ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں مارشل لاء نافذ کرنے والے چاروں آرمی چیفس اپنی تعیناتی کے وقت جونیئر شمار ہوتے تھے۔ ان آئین شکن جرنیلوں میں جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف شامل تھے۔

قیام پاکستان کے بعد آرمی چیف لگنے والے پہلے دو سربراہان کا تعلق برٹش آرمی سے تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل سر فرینک والٹر میسروی کو پاک فوج کا پہلا سربراہ نامزد کیا گیا جو 1947 سے 1948 تک اس عہدے پر رہے۔ میسروی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل سر ڈگلس ڈیوڈ گریسی اگلے کمانڈر انچیف بن گئے جو 1948 سے 1951 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ان کے بعد 1951 میں جنرل ایوب خان پہلے پاکستانی آرمی چیف تعینات ہوئے حالانکہ محمد علی جناح اپنی زندگی میں موصوف کی سیاست میں دلچسپی پر تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔ ایوب سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھا۔ 1958 میں سکندر مرزا کی جانب سے مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنائے جانے کے تین روز بعد ایوب خان نے ٹیک اوور کر لیا اور پھر 1969 تک بطور فوجی صدر اقتدار سے چمٹا رہا۔ اس دوران 1958 میں ایوب صدر بن گیا تو اس نے جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف بنا دیا جو جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھے۔ موسیٰ کے بعد 1966 میں جنرل یحییٰ آرمی چیف بنے جو سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے اور شراب اور شباب کے رسیا تھے لہذا 1971 میں ان کے دور میں پاکستان کے دو ٹکڑے ہوگئے۔

سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد 20 دسمبر 1971 کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل گُل حسن کو آرمی چیف تعینات کیا جو سنیارٹی میں دوسرے نمبر پر تھے اور انہوں نے جنرل ٹکا خان کو سپر سیڈ کیا تھا۔ لیکن تین ماہ بعد ہی گل حسن کے سیاسی عزائم بھانپتے ہوئے ذوالفقارعلی بھٹو نے ان سے زبردستی استعفیٰ لے لیا۔ ان کی جگہ بھٹو نے 1972 میں جنرل ٹکا خان کو فوج کا سربراہ تعینات کر دیا جو کہ سنیارٹی میں پہلے نمبر پر تھے۔ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی جرنیل کو سنیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف بنایا گیا۔

ٹکا خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1976 میں ذوالفقار علی بھٹو نےاپنی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرتے ہوئے جنرل ضیاالحق کو آرمی چیف تعینات کر دیا۔ سنیارٹی لسٹ میں آٹھویں نمبر پر موجود ضیا احسان فراموش اور آئین شکن ثابت ہوا۔ اس نے نا صرف بھٹو حکومت کا خاتمہ کیا بلکہ انہیں ایک جھوٹے مقدمہ قتل میں پھانسی بھی دے دی جسے تاریخ نے جوڈیشل مرڈر قرار دیا۔ اگست 1988 میں جنرل ضیا کے ایک طیارہ حادثے میں بھسم ہو جانے کے بعد جنرل مرزا اسلم بیگ آرمی چیف بنے جو سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر تھے۔ یہ دوسرا موقع تھا کہ کسی جرنیل کو سنیارٹی کی بنیاد پر آرمی چیف بنایا گیا تھا۔ 1991 میں وزیراعظم نواز شریف نے جنرل آصف نواز جنجوعہ کو آرمی چیف تعینات کیا جو کہ سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر تھے۔ 1993 میں جنرل آصف نواز کی اچانک ہارٹ اٹیک سے موت کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے سنیارٹی میں پانچویں نمبر پر موجود جنرل وحید کاکڑ کو آرمی چیف تعینات کیا جنہوں نے بعد ازاں ان سے اور صدر غلام اسحاق خان دونوں سے استعفیٰ لیا۔ اسکے بعد نواز شریف نے بطور وزیر اعظم 1996 میں جنرل جہانگیر کرامت کو آرمی چیف لگایا جو سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر پر تھے۔ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ میں تیسرا موقع تھا کہ کسی آرمی چیف کو سنیارٹی کی بنیاد پر تعینات کیا گیا۔

لیکن 1998 میں جنرل جہانگیر کرامت کی جانب سے نیشنل سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز کے ردعمل میں وزیر اعظم نواز شریف نے ان سے استعفیٰ مانگ لیا جسکے بعد میاں صاحب نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی غلطی کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف تعینات کر دیا جو سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھا۔ اس بدبخت جرنیل نے نا صرف نواز حکومت کا خاتمہ کیا بلکہ دو مرتبہ آئین شکنی بھی کی۔ مشرف وہ واحد آرمی چیف ہے جسے آئین شکنی کے جرم پر بغاوت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی گئی۔

2007 میں مشرف کے دور صدارت میں ہی اسکے وردی اتارنے کے بعد سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھال لیا تھا۔ تاہم جب 2010 میں ان کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو کیانی نے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے ساتھ مل کر میمو گیٹ سکینڈل کھڑا کر دیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کی زرداری حکومت کو جنرل کیانی کے عہدے میں تین سال کی توسیع کرنا پڑ گئی۔ 2013 میں جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ پر نواز شریف نے بطور وزیر اعظم جنرل راحیل شریف کو نیا آرمی چیف مقرر کر دیا۔ راحیل شریف جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر تھے اور ان کے دور میں عمران نے اسٹیبلشمنٹ کے ایما پر اسلام آباد میں 2014 کا دھرنا دیا۔ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ پر نومبر 2016 میں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنایا جو کہ سنیارٹی لسٹ میں چوتھے نمبر پر تھے۔ تاہم 2017 میں ایک سازش کے نتیجے میں نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے نااہل کروا کر ان کی حکومت ختم کردی گئی اور 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں عمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا گیا جس کے بعد ایک ہائبرڈ نظام حکومت وجود میں آیا۔

نومبر 2019 میں جب جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کا وقت آیا تو عمران نے اپنے محسن کو تین سال کی توسیع دے دی اور ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کروا دی۔ لیکن جنرل باجوہ کے چھ سالہ طویل دور میں عمران خان دوسرے وزیر اعظم تھے جنہیں اپنے اقتدار کی مدت پوری کئے بغیر گھر جانا پڑا۔ ایسے میں حکومتی حلقے سمجھتے ہیں کہ اس مرتبہ کسی جونیئر جرنیل کو آرمی چیف بنانے کی بجائے سنیارٹی کے اصول پر عمل کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ کل کو ماضی کی طرح پچھتاوا نہ ہو۔

Back to top button