کیا کبھی چوکیدار کی تقرری بھی چور کی مرضی سے ہوئی ہے؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ عمران خان نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے کیونکہ نیا فوجی سربراہان ان کی مرضی سے نہیں لگنے والا۔ اس تقرری کو وہ پہلے ہی متنازع کر چکے ہیں جو کہ پاکستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا، لہذا وہ اس تنازعے پر مزید پٹرول ڈالیں گے۔ لہازا نئے آرمی چیف کو کئی محاذوں پر لڑنا ہو گا اور عمران کے انتشار کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں اس وقت عمران خان کا سب سے بڑا مسئلہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا ہے۔ جلدی الیکشن ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ جلدی الیکشن کے شور غوغا کے پیچھے جو مقاصد ہیں وہ بھی یہی ہیں کہ کسی طرح حالات کی کایا پلٹ جائے اور وزارت عظمی کا ہما ایک دفعہ پھر ان کے سر پر بیٹھ جائے۔ خان صاحب چاہتے ہیں کہ وہ بلا شرکت غیرے اقتدار کے مالک ہوں، جس کو چاہے جیل بھجوائیں، جس کی مرضی وڈیو چینلز پر چلوائیں، اور جس سے نفرت کریں اس کا میڈیا ٹرائل شروع ہو جائے۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ بھی ان کے ہاتھ میں آجائے جو اس ملک میں بدقسمتی سے جمہوریت کی کنجی ہے۔ اسکے بعد وہ اپنی من مانی کریں اور کھل کھیلیں۔

لیکن عمار مسعود کے خیال میں اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہی لوگ جو عمران خان کو لانے کا سبب بنے تھے وہی اب خان صاحب سے سب سے زیادہ نالاں نظر آتے ہیں۔ اب وہی اس کمبل سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ اب کمبل ان کی جان کو آ گیا ہے۔ ان کے گھر والوں کے ذہنوں تک پہنچ گیا ہے۔ اسلئے کہ انہیں گزشتہ پانچ برس سے ایک ہی کہانی سنائی گئی ہے، ایک ہی قصہ بارہا دہرایا گیا ہے۔ انہیں تو خلافت کی مثالیں دے کر عمران کی شبیہہ دکھائی گئی ہے۔ ایک ایسی سوچ تخلیق کی گئی ہے جس کا پہلے وجود نہیں تھا۔ ایک کردار تخلیق کیا گیا ہے جو پہلے موجود نہیں تھا۔ المیہ اب یہ ہے کہ اس ڈرامائی کردار کا تقاضا ہے کہ مجھے ہر کہانی کا حصہ بنایا جائے۔ وہی ہر ڈرامے میں ہیرو کا کردار ادا کرے اور باقی تمام کردار اس کی معاونت کریں۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو گا تو وہ ڈرامائی کردار کہانی کے سب کرداروں کو عریاں کر دے گا۔ ان کی کمزوریوں اور کجیوں کو اس طرح عیاں کرے گا کہ خود چاہے وہ لازوال ہو نہ ہو، مگر دوسروں کو زوال کی طرف دھکیل دے گا۔

لیکن عمار مسعود کہتے ہیں کہ ڈرامے کے اس خود ساختہ ہیرو کو اس بات کا علم نہیں کہ اب کہانی ایک نئے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ نئے کردار آنے والے ہیں۔ نئے کرداروں کے آنے کا خوف ہی خان صاحب کا سب سے بڑا خوف ہے۔ نئے کرداروں کا مطلب یہ ہے کہ ان پر ماضی کی غلطیوں کا بوجھ نہیں ہو گا۔ وہ ایک نئے صفحے پر نئی کہانی لکھیں گے۔ اس سے پہلے شاید وہ ماضی کے اوراق پھاڑ دیں اور ماضی کے کرداروں کو دہرانے سے اجتناب کریں۔ وہ ممکنہ طور پر ایک صلح جو اور امن پسند کردار کو سامنے لائیں گے جو نفرت کی داستان پر امن کے مکالموں کا مرہم رکھے گا۔ یہی خوف خان صاحب کو سکون سے بیٹھنے نہین دیتا۔ کبھی وہ مارچ کا اعلان کرتے ہیں، کبھی مرنے اور مارنے کی بات کرتے ہیں، کبھی شہرِ اقتدار کو نذر آتش کر کے معصوم بن جاتے ہیں کبھی ایک آزاد ملک میں اک نئی جنگِ آزادی کی بات کرتے ہیں۔

لیکن عمار مسعود کہتے ہیں کہ حالات کی باگ اب خان صاحب کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ ان پر چند باتیں واضح کر دی گئی ہیں۔ الیکشن جلدی نہیں ہو رہے، آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ وزیر اعظم کرے گا اور اس میں ان کے مشورے کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں ہے۔ ادارے اب نیوٹرل ہو گئے ہیں، جس کی سب سے بڑی وجہ خان صاحب کا ناکام ترین ہائیبرڈ دور اقتدار ہے جس میں نااہلی اور ناکامی پاکستان کا مقدر رہی۔ خان صاحب سمجھ رہے ہیں کہ ترپ کا پتہ اب بھی ان کے پاس ہے۔ تاہم انہیں ادراک نہیں کہ ترپ کا پتہ چلا جا چکا ہے۔ اب ان کے ہاتھ خالی اور دامن میں دشنام کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب سے کچھ روز بعد نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا فیصلہ ہو چکا ہو گا۔ یہ موضوع پرانا ہو گیا ہو گا۔ یار لوگ نئے چیف کی مدح و تحسین میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے ہوں گے۔ لیکن کس کے نام کا قرعہ نکلے گا، چند افراد کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر بھی ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ نتیجہ خان صاحب کی خواہشوں کے برعکس ہو گا۔ وہ جس ساتھی کو ملا کر کھیلنا چاہتے ہیں وہ کھیل سے باہر ہو چکا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے آنے والے چیف کی سوچ پر کوئی فرق پڑے گا؟ کیا پرانا کھیل پھر شروع ہو گا یا کھیل کے نئے اصول وضع ہوں گے؟

ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمار مسعود کہتے ہیں کہ ایک بات کا ادراک اب اس ملک میں سب کو ہونا چاہئے کہ خان صاحب نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس تقرری کو وہ پہلے ہی متنازع کر چکے ہیں جو کہ پاکستانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ وہ اس تنازعے پر مزید پٹرول چھڑکیں گے۔ لہازا نئے آرمی چیف کو کئی محاذوں پر لڑنا ہو گا اور عمران کے انتشار کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ نئے فوجی سربراہ کو نیوٹرل ہو جانے کے فیصلے پر ثابت قدم رہنا ہو گا اور اپنے ادارے کی دیکھ ریکھ اور امیج میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اسے جوانوں کو حوصلہ دینا ہو گا۔ جن لوگوں کو گزشتہ 5 سال میں الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ہپناٹائز کیا گیا ان کی درست ذہن سازی کرنا ہو گی۔ میڈیا کو آزاد کرنا ہو گا۔ سماج سے نفرت ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ تشدد اور انتشار کا ہر سطح پر قلع قمع کرنا ہو گا۔ یہ سب وہ اقدامات ہیں جن سے خان صاحب کو سخت اختلاف ہے۔ لیکن درحقیقت تحریک انصاف مستقبل کی ق لیگ بنتی نظر آ رہی ہے جس کا حلقۂ اثر جنرل مشرف کے رخصت ہونے کے بعد پہلے کم ہوا اور پھر مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

Back to top button