DG ISIسن لو ، ملک اوراداروں کی خاطر چُپ ہوں

تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم عمران خان نے لانگ مارچ کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی سن لو، ملک اور اداروں کی خاطر چپ ہوں۔

لاہور کے لبرٹی چوک میں کارکنوں سے خطاب میں انکا کہنا تھامیں وہ پاکستان دیکھنا چاہتا ہوں جو آزاد ملک ہو، آزاد ملک کے لیے طاقتور فوج چاہیے، فوج کمزور ہوتی ہے تو ملک کی آزادی چلی جاتی ہے، اس لیے ڈی جی آئی ایس آئی صاحب، ہماری تعمیری تنقید ہوتی ہے جو آپ کی بہتری کے لیے کرتے ہیں،ہم اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، میں بہت کچھ کہہ سکتا ہوں اور آپ کی بات کا جواب دے سکتا ہوں، لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے ملک کے ادارے کمزور ہو۔

انہوں نے کہا لانگ مارچ کی شکل میں 26 سال کی سیاسی جدوجہد میں سب سے اہم سفر شروع کر رہا ہوں، میرا مارچ سیاست یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے، مارچ کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ اپنی قوم کو آزاد کروں اور صاف و شفاف انتخابات چاہتا ہوں۔

عمران خان نے کہا سال میں سب سے زیادہ مہنگائی اس امپورٹڈ حکومت نے کی ہے، لوگ تماشہ دیکھ رہے ہیں قوم مہنگائی میں ڈوب رہی ہے، بھارت روس سے سستا تیل لے سکتا ہے لیکن غلام پاکستانیو کو اجازت نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کے فیصلے ملک میں ہی ہوں، لندن اور واشنگٹن میں نہ ہوں، قوم ہر قربانی دینے کو تیار ہے لیکن چوروں کو قبول نہیں کرے گی۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اچھرہ پہنچنے کے بعد لانگ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان چوروں کی غلامی سے بہتر مر جانا ہے، میں کبھی ان چوروں کی غلامی قبول نہیں کروں گا۔

انہوں نےطاقت ور کے لیے ایک قانون اور کمزور کے لیے دوسرا قانون ہے، چھوٹا چور چوری کرے تو جیل میں اور بڑا ڈاکو چوری کرے تو وزیراعظم بن جائے، یہ ظلم کا نظام ہم کبھی قبول نہیں کریں گے، جب تک ہم اسلام آباد پہنچیں گے، عوام کا سمندر سارے چوروں کو بہا کر لے جائے گا۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پارٹی کے لانگ مارچ کا ایک ہی ایجنڈا ہے اور وہ ہے اور نئے شفاف انتخابات،پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ نئے انتخابات ہوں، لوگ سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں باہر آئے ہیں, یہ ہماری حقیقی آزادی کی جدوجہد ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پنجاب میں مقتول صحافی ارشد شریف کے نام سے منسوب یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔

دریں اثںا پی ٹی آئی لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کی بڑی تعداد لاہور کے لبرٹی چوک میں جمع ہونی شروع ہوگئی ہے، تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد مئی کے مہینے میں متواتر جلسوں کے بعد 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، اس دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت کے باوجود مارچ ریڈ زون میں پہنچا تاہم علی الصبح سابق وزیراعظم عمران خان نے اس مارچ کو روکنے کا اعلان کر دیا۔

تقریباً چھ ماہ کے عرصے کے بعد جمعہ کو پاکستان تحریک انصاف کا ایک اور لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف گامزن ہوگا، اس لانگ مارچ کا آغاز صوبائی دارالحکومت کے مشہور علاقے لبرٹی چوک سے ہو گا، پہلے روز پی ٹی آئی اپنے سفر کے دوران فیروز پور روڈ، اچھرہ ، مزنگ ، داتا صاحب اور آزادی چوک میں پاور شو کرے گی۔

مارچ کے دوسرے روز پی ٹی آئی کی اگلی منزل شیخوپورہ کی تحصیل مریدکے ہو گی جہاں پر پاور شو کے بعد قافلہ گوجرانوالہ کی تحصیل کامونکی میں جا کر قیام کرے گا، یہاں پر بھی جلسے کے بعد لانگ مارچ گوجرانوالہ شہر کی طرف گامزن ہو گا۔ شہر میں بڑے پاور شو کا اعلان کیا گیا ہے۔

گوجرانوالہ کے بعد اگلی منزل سیالکوٹ کی تحصیلیں ڈسکہ اور سمبڑیال ہونگی، شہر سمیت دونوں تحصیلوں میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا، جس کے بعد کارواں وزیر آباد جا کر رُکے گا، وزیر آباد میں عوامی لہو گرمانے کے بعدمارچ گجرات پہنچے گا، جہاں پر وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی مارچ کا استقبال کریں گے اور ایک بڑا جلسہ کیا جائے گا۔ یہاں سے اگلی منزل لالہ موسیٰ اور کھاریاں ہو گی۔

اس سے اگلے روز مارچ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما فواد چودھری کے ضلع جہلم میں جائے گا، جہاں پر سابق وفاقی وزیر مارچ کا استقبال کریں گے اور بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا، پھر عمران خان کا لانگ مارچ گوجر خان سے ہوتا ہوا راولپنڈی جائے گا۔عمران خان اسلام آباد کی جانب بڑھنے کے بارے میں حتمی حکمت عملی مرتب کریں گے۔ روات کے مقام پر ہی شمالی اور جنوبی پنجاب سرگودھا، چکوال، میانوالی، بھکر، لیہ کے قافلے لانگ مارچ میں شریک ہونگے۔

اپنے ایک ویڈیو بیان میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ جمعہ کو گیارہ بجے لبرٹی چوک سے حقیقی آزادی مارچ شروع ہو رہا ہے، یہ لانگ مارچ کسی ذاتی مفاد کے لئے نہیں، یہ لانگ مارچ کسی کی حکومت کو گرانے یا لانے کے لئے نہیں، یہ لانگ مارچ انگریز سے حاصل کی گئی آزادی کے بعد حقیقی آزادی کے لئے ہے۔ ہم ایسی حقیقی آزادی چاہتے ہیں جس میں پاکستان کے فیصلے پاکستانی کریں۔

پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہم ایسی حقیقی آزادی چاہتے ہیں جس میں باہر سے مسلط کئے گئے کٹھ پتلیاں فیصلے نہ کریں، ہم چھوٹے سے طبقے کے چوری کرکے این آراو لے لینے کو روکنا چاہتے ہیں، حقیقی آزادی مارچ کی تحریک عوام کے فیصلے عوام کو کرنے دینے تک جاری رہے گی، ہم اس وقت تک حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک بیرونی سازش سے اقتدار میں آنے والے راستے بند نہ ہوجائیں۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ زندہ معاشرہ اور مرے ہوئے معاشرے میں کیا فرق ہوتا ہے، انسان تو جیل میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، سوشل میڈیا انسانی تاریخ میں انقلاب آرہا ہے، امریکا میں کوئی اسرائیل کے خلاف بات نہیں کرسکتا وہ میڈیا پر بات نہیں آتی، لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں لیکن مغربی میڈیا میں ذکر نہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے اس ٹرینڈ کو بدل دیا ہے، جب ہماری حکومت بیرونی سازش، اندرونی میر جعفر، میر صادق نے مل کر گرائی تو سوشل میڈیا نے دکھایا، ہر شہری جس کے پاس موبائل فون ہے اس کی آواز ہے، یہ جمہوریت کی خالص ترین شکل میں ہم جارہے ہیں۔

پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ لندن والے پیسے دے کر ٹرینڈ چلواتے ہیں لیکن وہ ٹرینڈ نہیں چل سکتا، حکمرانوں نے 1100 سو ارب روپے معاف کروا لیے، انسانوں کے معاشرے میں حکم ہے ناانصافی کا مقابلہ کرو، ارشد شریف حق کے لیے ڈٹا دہا، وہ اس لیے گیا کہ یہاں بول نہیں سکتا تھا، کل سے جدوجہد حقیقی آزادی کا جہاد ہے سمجھیں کہ جہاد کر رہے ہیں۔

عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کا جواب ٹوئٹر سپیس میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ایوان صدر میں ہوئی تھی جس میں صدر عارف علوی بھی بیچ میں تھے۔ میں نے یہ بات بتائی تھی ایکسٹینشن کا سن رہے ہیں، اگر یہ آپ کو توسیع دے رہے ہیں تو پھر ہم دے دیتے ہیں۔ ملک کے لیے یہ بات چیت کی تھی، میں نے بند کمروں کی ملاقاتوں سے کیا لینا ہے۔ 5 ماہ پہلے کہا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا۔ یہ سازش روک سکتے تھے لیکن نہیں روکی۔ میں کہیں ڈگی میں نہیں گیا تھا، ایوان صدر میں ملاقات ہوئی تھی۔

عمران خان نے کہا اسٹیبلشمنٹ کو امپائر کے طور پر بیچ میں ڈالا تھا۔ اللہ نے انسان کو نیوٹرل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی ہے۔ یہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔ ہمارے لوگوں کو ’اپروچ‘ کیا جا رہا ہے اور ہمارے ایک بندے کو ’چینج‘ کیا ہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ فوج پر تعمیری تنقید ہو۔ اگر اس تنقید کی اجازت نہ ہو اور ایسی تنقید کو بند کر دیا جائے تو پھر معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ فوج پر ایسی تنقید نہیں کرتے جو دشمن کرتا ہے۔ وہ خود اچھے کرکٹر اس وجہ سے بنے ہیں کہ وہ خود پوچھتے تھے کہ بتائیں میں کہاں پر غلط ہوں۔

نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آئین کے مطابق پاکستانی فوج حکومت کا ادارہ ہے، اداروں کے سربراہ آ کر پریس کانفرنس کررہے ہیں، اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں، ایم آئی 6 کا سربراہ آ کر کب پریس کانفرنس کرتا ہے؟ میں نے کبھی یہ دیکھا ہی نہیں ہے۔ یا تو ان کے متعلق کوئی چیز کوئی، مثلا کوئی سیکیورٹی کا مسئلہ ہو اس پر آ کر بات کریں، سیاسی پریس کانفرنس کررہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آیا، وزیر دفاع نہیں کر سکتا تھا؟ یا وزیر داخلہ یا پھر وزیراعظم کرتے، میرا پہلا اعتراض ہے کہ ان کا پریس کانفرنس کرنے کا کیا کام تھا؟ فیصل واڈا نے ڈرا دیا ہے کہ خونی مارچ ہوگا اور لاشیں گریں گی، اس پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں 26 سال سے سیاست کررہا ہوں، اور شاید ہی کسی نے اتنے احتجاج کیے ہوں جو ہم نے کیے ہیں، ہم نے 126 دن کا دھرنا دیا، ہماری تاریخ ہے کہ ہم پُرامن آئین اور قانون کے اندر رہ کر احتجاج کرتے ہیں، 25 مئی کو ہمیں اکسایا گیا، اگر میں آگے نکل جاتا اور دھرنا کرتا تو انتشار ہونا تھا میں نے صرف اس لیے احتجاج ختم کر دیا تھا، ہمارا احتجاج پُرامن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پرُامن اور آئین و قانون کے اندر ہوگا، اسلام آباد میں ہم کوئی ایسی چیز نہیں کریں گے جس کی قانون اور عدالت نے اجازت نہیں دی ہوگی، ہم ریڈ زون میں نہیں جائیں گے۔ میں نے زندگی میں بڑے لوگوں کو بدلتے دیکھا ہے، جن کو میں اپنے قریب سمجھتا تھا، جب امتحان آیا تو میں نے ان کی دوسری سائیڈ بھی دیکھی ہے، اس (فیصل واڈا) نے کل جو کیا مجھے اس پر بہت افسوس ہوا، میں اس کی توقع نہیں کررہا تھا، اور یہ ڈرٹی ہیری کی فرمائش پر کیا ہے، ڈرٹی ہیری صاحب جب سے اسلام آباد آئے ہیں، اس کے بعد جو ظلم اور تشدد ہونا شروع ہوا اور یہ فیصل واڈا کا بڑا قریب ہے، مجھے کوئی شک نہیں کہ اس کی فرمائش پراس نے یہ ڈرامہ کیا ہےکہ خون ہوگا اور پتا نہیں کیا ہوگا، جن جلسوں میں فیملیز آتی ہیں، وہ کیا خون کرنے جاتی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس آئی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ہمراہ طویل پریس کانفرنس پر عمران خان نے کہا کہ آئین کے مطابق پاکستانی فوج حکومت کا ادارہ ہے، اداروں کے سربراہ آ کر پریس کانفرنس کررہے ہیں، اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں، ایم آئی 6 کا سربراہ آ کر کب پریس کانفرنس کرتا ہے؟ میں نے کبھی یہ دیکھا ہی نہیں ہے، یا تو ان کے متعلق کوئی چیز کوئی، مثلا کوئی سیکیورٹی کا مسئلہ ہو اس پر آ کر بات کریں، اگر سیاسی پریس کانفرنس کررہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آیا، وزیر دفاع نہیں کر سکتا تھا؟ یا وزیر داخلہ یا پھر وزیراعظم کرتے، میرا پہلا اعتراض ہے کہ ان کا پریس کانفرنس کرنے کا کیا کام تھا؟ پریس کانفرنس میں انہوں نے کئی چیزیں کہیں، اور پی ٹی آئی کے لوگوں نے بڑا اچھا جواب دیا، میرا پوائنٹ صرف یہ ہے کہ اس میں ایسی چیزیں کہی گئیں کہ اگر میں جواب دینا شروع کر دوں تو میرے ملک کو نقصان پہنچنے گا، جب سے میں حکومت سے ہٹا ہوں، اتنی کوشش کی کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے فوج کو نقصان پہنچنے، اور میں انٹرنیشنل حوالے سے بات کررہا ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ دشمن چاہتے ہیں کہ پاکستانی فوج کمزور ہو، اور ہمیشہ کوشش کرتا ہوں کہ کوئی ایسی چیز نہ کہوں کہ دنیا میں فوج کا امیج خراب ہو کیونکہ فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کوشش کی ہے کہ اگر تنقید کروں تو تعمیری تنقید ہو، ان کا فائدہ ہو، جس طرح آپ بچوں پر تنقید کرتے ہیں کہ بچے بہتر ہوں ان کا فائدہ ہو، اب میں ڈرٹی ہیری پر تنقید کررہا ہوں، یہ ڈرٹی ہیری جب سے آیا ہے اس نے جو اعظم سواتی سے کیا ہے، پہلے شہباز گِل کو ننگا کرکے اس پر تشدد کیا، کون سی قیامت آ گئی۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں کہہ رہا ہوں اگر میں اپنا منہ کھولنا شروع کروں تو نقصان تو میرے ملک کو ہی ہوگا، اس لیے بہت محتاط ہو کر بولتا ہوں، کئی دفعہ اشاروں سے بات کرتا ہوں، کبھی ایکس اور وائی کہہ دیتا ہوں اور اب ڈرٹی ہیری کہہ دیتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ یہ انفرادی لوگ غلطیاں کررہے ہیں، فوج کا ادارہ بچا رہے، پوری بات بتا دیں کہ بند کمروں میں اور بھی کیا باتیں ہوتی تھیں۔ امریکی سفارت خانے میں لوگ جا کر مل رہے تھے، پھر خبریں آ رہی تھیں کہ نواز شریف سے جا کر لوگ مل رہے ہیں، مجھے پوری سازش کا تو پتا چل گیا تھا، میں نے جنرل باجوہ کو بتایا کہ اس وقت اگر یہ سازش کامیاب ہو گئی تو اس کا پاکستان کی معیشت پر ڈائریکٹ نقصان ہوگا، اور کوئی سنبھال نہیں سکے گا کیونکہ معیشت کا انحصار سیاسی استحکام پر ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ یہ سن رہا ہوں کہ توسیع کی بات ہو رہی ہے یا آرمی چیف کی بات ہو رہی ہے، میں نے کہا تھا کہ اگر یہ آپ کو آفر کررہے ہیں تو ہم بھی آفر کر دیتے ہیں لیکن اس وقت حکومت کو نہیں ہٹانا ورنہ پاکستان نہیں سنبھلے گا، اور بالکل وہی ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کیا ڈیل کرنا تھی؟ مجھے کوئی کیا دے سکتا ہے؟ انہوں نے نہیں روکا، میں نہیں کہتا کہ یہ اس سازش کا حصہ تھے، اگر انکوائری ہو گی تو پتا چلے گا لیکن روک تو سکتے تھے، نہیں روکا تو ملک کے حالات دیکھیں، میں ڈگی میں ملنے نہیں گیا تھا، ہماری ملاقات ایوان صدر میں ہوئی تھی، ڈاکٹر عارف علوی بیچ میں تھے، اجلاس میں صرف ایک بات کہی تھی کہ اس ملک کو دلدل سے نکالنا ہے تو سوائے صاف اور شفاف انتخابات کے اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

Back to top button