پاکستان نےارشد شریف کو دبئی سے نکالنے کیلئے کوئی خط نہیں لکھا

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے اس بات کو سختی سے مسترد کردیا ہے کہ صحافی ارشد شریف کو دبئی سے نکالنے کیلئے وزیر خارجہ کے دستخط سے کوئی خط جاری کیا گیا تھا، ایسی اطلاعات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ صحافی ارشد شریف کے انتقال پر دکھ اور افسوس ہوا ، پاکستان ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے کینیا کے ساتھ رابطے میں ہے، پاکستانی انکوائری کمیٹی کینیا کے دورے پر ہے، پاکستانی ہائی کمیشن انکوائری کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون اور سکونت فراہم کررہی ہے،یہ کافی حساس مسئلہ ہے اس پر احتیاط برتنی چاہیے، 2 رکنی تحقیقاتی ٹیم آج کینیا روانہ ہوگئی ہے، آج رات ٹیم نیروبی پہنچ کر اپنی تحقیقات کا اغاز کردے گی، میرے پاس تحقیقات کے حوالے سے ابھی تک تفصیلی معلومات نہیں ہیں۔

انکا کہناتھاپاکستان اور کینیا کے مابین باہمی قانونی تعاون کا معاہدہ موجود نہیں، سچائی کے لیے ضروری ہے کہ ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات ہونی چاہئے، ہم کینیا اور پاکستانی انکوائری کمیٹیوں کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہئے، پاکستان نے ارشد شریف کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے نکالنے کے لیے کوئی خط نہیں لکھا، وزیر خارجہ کے دستخط سے اس قسم کا کوئی خط جاری نہیں ہوا، ایسے اطلاعات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔

واضح رہے کہ صحافی ارشد شریف کے کینیا میں اندوہناک قتل کے بعد سے متعدد بار یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ یو اے ای سے جانے پر کیوں مجبور ہے؟ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس میں دعوے کئے گئے تھے کہ ارشد شریف کو نکالنے کے لیے جو خط یو اے ای حکام کو لکھا گیا تھا اس پر وزیر خارجہ نے دستخط کیے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مستقل کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھ رہا ہے، کئی دہائیوں سے بھارت کی فورسز کشمیریوں پر مظالم بپا رکھے ہوئے ہے،آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) ہیڈ کوارٹر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسان حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے،مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ قراردادوں میں پنہا ہے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا نوٹس لیتی ہے، صورتحال کی بہتری کے لیے بھارت کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی، بھارت خود مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت کی کشمیر پر پوزیشن غیر قانونی اور ناجائز ہے، پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ کشمیر پر بھارتی مؤقف بے بنیاد ہے، کشمیری عوام کا اپنے مستقبل کا فیصلہ ان کا جائز حق ہے۔

انہوں نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا اہم دورہ کیا، وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اہم ملاقات ہوئی، پاکستان نے فیوچر انوسٹمنٹ کانفرس سے بھی خطاب کیا،وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے، ان کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے لیے اہم سنگ میل ہوگا،رشی سوناک کو برطانیہ کا نیا وزیراعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

عاصم افتخار نےبتایا کہ وزیراعظم یکم نومبر کو وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے،چین کے وزیر اعظم لی کی چیانگ کی دعوت پر وزیر اعظم شہباز شریف کا چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا،چینی صدر اور ہم منصب سے ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں کریں گے، سی پیک منصوبے پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک کے درمیان اس دورے سے تعلقات مزید مستحکم ہوں بے، وزیراعظم کا دورہ چین ایک سنگ میل ثابت ہوگا،وزیر اعظم شہباز شریف رواں برس اپریل میں وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ چین کا دورہ کریں گے، پاکستان اپنے مفاد کے مطابق کسی بھی ملک سے تجارتی روابط استوار کرسکتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے متفقہ طور پر پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا، پاکستان نے 2018 اور 2021 کے تمام ایکشن پلان پر مکمل عمل کیا،وزیرمملکت برائے خارجہ امور اور ایف اے ٹی ایف نیشنل کوارڈنیشن کمیٹی کی سربراہ حنا ربانی کھر نے پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی پلینری میں پاکستان کی نمائندگی کی، انہوں نے 21 اکتوبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس نمایاں پیشرفت پر قوم کو مبارکباد بھی دی، بھارت نے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے پر منفی ردعمل دیا، بھارت پاکستان مخالف مؤقف پر ایف اے ٹی ایف میں تنہا رہ گیا، بھارت نے معاملے کو سیاست کی نظر کرنے کی کوشش کی۔

Back to top button