1974 کی OIC کانفرنس میں شریک لیڈران کیسے مارے گئے؟


مسلم دنیا کی تاریخ کا ایک المناک المیہ یہ بھی ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی جانب سے 1974 میں لاہور میں کروائی گئی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کرنے والے تمام کلیدی رہنما یا تو قتل کر دیے گئے یا پھانسی پر چڑھا دیئے گے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان امریکہ مخالف لیڈران نے 1974 کی کانفرنس کے لیے تیار کردہ اپنے ترانے ‘ہم مصطفوی ہیں’ میں ‘استعمار کو باطلِ ارذل’ کہہ کر للکارا تھا، لہذا امریکہ ان رہنماؤں کو نشانِ عبرت بنانے پر تل گیا تھا۔
یاد رہے کہ 22 فروری 1974 کو لاہور شہر میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن یا او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوا جو کہ کرۂ ارض پر مسلم ممالک کی سب سے بڑی تنظیم تھی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کے عروج کا دور تھا۔ لاہور ان کا قلعہ تھا جہاں سے وہ 1971 کے انتخابات میں تمام سیٹیں جیت کر کلین سویپ کر چکے تھے۔ بھٹو صاحب خود کو ناصرف پاکستان اور عالمِ اسلام بلکہ تیسری دنیا کے ایک رہنما کے طور پر دیکھتے تھے۔ 1974 کی او آئی سی سربراہی کانفرنس کا قصہ بیان کرتے ہوئے سینئر صحافی علی وارثی نیا دور میں شائع ہونے والی اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ لاہور شہر میں جشن کا سماں تھا کہ جب عالمی سیاست کے بڑے نام یہاں اکٹھے ہو رہے تھے۔ مگر یہ لیڈران نہیں جانتے تھے کہ ان کا انجام کس قدر خوف ناک ہونے جا رہا تھا۔ اگلے چند سالوں میں دنیا بھر میں ٹی وی سکرینز اور اخباری سرخیاں ان کے بہیمانہ قتل کی خبروں سے بھری ہوئی ملیں کیونکہ جس عالمی استعمار کو انہوں نے چیلنج کیا تھا اب وہ انہیں نشانِ عبرت بنانے پر تل بیھٹا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس سانحے کی شروعات سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل سے ہوئی۔ سعودی عرب OIC کا بانی بھی تھا اور شاہ فیصل بہت تیزی سے اپنے ملک میں ناصرف سماجی جدت لا رہے تھے بلکہ انہوں نے 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران تیل کی پیداوار روک کر مغربی دنیا کو یہ پیغام بھی دے دیا تھا کہ آلِ سعود حجاز میں بھلے انگریز کی مرہونِ منت اقتدار میں آئی ہو لیکن شاہ فیصل آزادانہ فیصلے لینے کے بالکل اہل تھے۔ لہٰذا 25 مارچ 1975 کو، اس اجلاس کو گزرے جب بمشکل ایک سال ہی ہوا تھا، شاہ فیصل کویت سے آئے ایک وفد سے ملاقات کر رہے تھے جس میں ان کے سوتیلے بھائی مساعد بن عبدالعزیز کا بیٹا فیصل بن مساعد بھی تھا۔ مساعد کا ایک اور بیٹا شہزادہ خالد بن مساعد چند برس قبل شاہ فیصل کے خلاف ایک احتجاج کا حصہ تھا جہاں پولیس کی گولی لگنے سے وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ فیصل بن مساعد اس وقت امریکہ میں مقیم تھا لیکن اس روز یہ کویتی وفد کے ہمراہ شاہ فیصل کے محل میں پہنچا۔ شاہ فیصل نے اپنے بھائی کو پہچان لیا اور اپنا ماتھا اس کے آگے کیا تاکہ یہ اس کو چوم سکے لیکن اس نے یکایک اپنی جیب سے پستول نکال کر گولی چلا دی۔ ایک گولی شاہ فیصل کی تھوڑی پر لگی جب کہ دوسری ان کے کان کے آر پار ہو گئی۔ انہیں اسپتال لے جایا گیا لیکن یہ جانبر نہ ہو سکے۔ فیصل بن مساعد نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا اور اس کا سر 18 جون 1975 کو قلم کر دیا گیا۔
شاہ فیصل کے اس بہیمانہ قتل کے محض پانچ ماہ بعد بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمان کا بھی قتل کر دیا گیا۔ انہیں فوج نے قتل کیا جس نے ساتھ ہی اقتدار پر قبضہ بھی کر لیا۔ شیخ مجیب نے 1974 ہی میں بنگلہ دیش کی اس تنظیم میں شمولیت کی درخواست دی تھی اور یہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے لاہور بھی آئے۔ ان کے اس دورے سے ناصرف دونوں ممالک میں کدورتیں کم ہوئیں بلکہ بنگلہ دیش کی OIC میں شمولیت کا اعلان بھی یہیں ہوا۔ 15 اگست 1975 کو بنگلہ دیش میں مارشل لاء لگا تو کچھ فوجی جوانوں نے صدارتی ہاؤس میں گھس کر شیخ مجیب اور ان کے پورے خاندان کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا۔ موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کی بہن شیخ ریحانہ خاندان کی دو ہی افراد تھیں جو زندہ بچ سکیں کیونکہ یہ اس وقت جرمنی میں تھیں۔ یہ سازش فوجی افسران اور عوامی لیگ میں شیخ مجیب کے کچھ ساتھیوں نے مل کر رچائی تھی۔ تاہم افواہیں گردش کرتی رہیں کہ یہ قتل امریکی CIA نے کروایا تھا۔ یاد رہے کہ جنرل ضیاالرحمان جس نے یہ مارشل لا لگایا، اسی نے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان بھی کیا تھا اور بعد ازاں شیخ مجیب کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ بھی کر لیا۔
اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کو یقینی بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے انہوں نے اپنی سفارتی قابلیت کے ایسے جوہر دکھائے کہ پہلی بار اسلامی دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے سربراہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے۔ 1971 کی جنگ میں بھارت کے ہاتھوں شکست اور بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد اس وقت پاکستان اقوامِ عالم میں اپنا مقام دوبارہ سے بنانے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ ایسے حالات میں یہ بھٹو صاحب کی حکومت کا عظیم کارنامہ تھا کہ اس نے پاکستان کو ایک بار پھر دنیا بھر کی نظروں کا مرکز بنا دیا۔ اس کانفرنس کے ذریعے انہوں نے پاکستان کی عالمی تنہائی کو بھی ختم کیا. اس کانفرنس کے بعد وہ چاہتے تھے کہ پاکستان پوری تیسری دنیا کا رہنما ملک بن کر ابھرے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ 1977 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی لیکن ان کے مخالف 9 جماعتوں کے اتحاد نے دعویٰ کیا کہ یہ الیکشن دھاندلی زدہ تھے اور 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاءالحق نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ضیا جنتا نے بھٹو پر محمد علی قصوری کے قتل کا مقدمہ چلایا اور عدالتِ عظمیٰ نے انہیں حیرت انگیز طور پر 4-3 کے فیصلے میں سزائے موت سنا دی۔ 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ سزائے موت دینے والے چار ججز میں سے ایک جسٹس نسیم حسن شاہ نے کئی برس بعد یہ اعتراف کیا کہ ججوں پر فوجی جنتا کا دباؤ تھا۔
اسی طرح افریقی ملک مصر کے صدر انور سادات بھی اس کانفرنس میں شریک تھے، ان کو بھی بعد ازاں ‘اسلامک جہاد’ سے تعلق رکھنے والے خالد اسلامبولی نے قتل کر دیا۔ اسلامبولی نے انور سادات کو تب قتل کیا جب وہ Annual Day پر فوج کی پریڈ کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اسلامبولی خود بھی مصری فوج کا ایک لیفٹننٹ تھا۔ انور سادات کے قتل کا فتویٰ ایک نابینا مولوی عمر عبدالرحمٰن نے دیا تھا جو کہ زندگی کا زیادہ تر حصہ امریکہ میں گزار کر 18 فروری 2017 کو شمالی کیرولینا میں فوت ہوا۔ یاسر عرفات Palestine Liberation Organisation کے سربراہ تھے۔ 1974 میں لاہور میں ہوئی کانفرنس میں یہ بھی شریک تھے۔ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مزاحمت میں اہم ترین کردار کے حامل یاسر عرفات کو 2004 میں اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی نے مبینہ طور پر زہر دے کر مار دیا۔
لیبیا کے مرد آہن کرنل معمر قذافی اس کانفرنس کے شرکا میں سے قتل ہونے والے مسلم دنیا کے آخری رہنما تھے۔ 20 اکتوبر 2011 کو لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کو باغیوں نے تب قتل کر دیا جب وہ نیٹو افواج کی بمباری سے بچنے کے لئے پناہ کی تلاش میں تھے۔ لیبیا کے ان باغیوں کو امریکہ اور نیٹو کی پشت پناہی حاصل تھی۔ تب دارالحکومت تریپولی پر قبضہ ہو چکا تھا اور معمر قذافی سرت میں پناہ گزین تھے۔ باغیوں نے انہیں گرفتار کرنے کے بعد تشدد سے قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش کو سرت کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ لیبیا قذافی کے قتل کے بعد سے خانہ جنگی سے بھی بامرِ محال ہی چھٹکارا پانے کے قابل ہوا ہے اور آج بھی غیر مستحکم ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں پر فوج قابض ہے اور باقی پر مذہبی شدت پسند تنظیمیں۔

Back to top button