1998 کے ایٹمی دھماکوں کیلئے نیوکلئیر بم چاغی کس نے پہنچائے؟

پاکستان کی جانب سے 28 مئی 1998 کے نیوکلئیر دھماکوں سے پہلے ملکی فضائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا تھا۔ انہیں دھماکوں کے نتیجے میں پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت قرار پایا۔ مشن بیدار کے تحت کہوٹہ اور چاغی کی نگرانی پر مامور جنگی جہازوں کے پائلٹس کو ہدایت کی گئی تھی کہ اگر نیوکلیئر بم کے آلات لے جانے والا سی ون تھرٹی طیارہ ہائی جیک ہو جائے اور پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیا جائے۔

مشن بیدار میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دیے گئے،جنہیں اسلام آباد، پشاور سرگودھا، کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ نمبر6 سکوارڈرن جو کہ سی ون تھرٹی طیاروں سے لیس تھا،جس کا کام سامان پہنچانا تھا، اس سکواڈرن نے اس مشن کے دوران اکہتر مختلف فلائٹس میں بڑی مقدار میں ضروری سامان اور حساس آلات کو بحفاظت چاغی پہنچایا۔ نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا، اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائیر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کیا گیا، تاکہ وہ چاغی کے علاقے میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔ نمبر9 سکواڈرن جو کہ ایف سولہ طیاروں سے لیس تھا، اسے سرگودھا ایئربیس سے ہٹا کر سمنگلی ایئربیس کوئٹہ منتقل کیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کور کیا جاسکے اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جا سکے۔

نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف سولہ طیاروں سے لیس تھا، اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹاکر بلوچستان بھیج دیا گیا، نمبر 14 سکواڈرن کے ایف سیون طیاروں کو چکلالہ ایئربیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔ نمبر 17 سکواڈرن کے F16 طیاروں کو پاکستان کے بارڈر کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی، اس کے ساتھ پاکستان ائیر فورس کے پاس موجود تمام ریڈارز کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔

ڈاکٹر قدیر خان پر نیوکلئیر سمگلنگ کا الزام کس نے اور کیوں لگایا ؟

اس سارے مشن کے دوران بلوچستان کے دالبندین ائیرپورٹ نے شہرت حاصل کی، جو کہ چاغی سائٹ سے صرف تیس کلومیٹر دور تھا، اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیر پورٹ پر اتارا جاتا تھا۔ پاکستان کا نیوکلیئر بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی ون تھرٹی طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا، ان سی ون تھرٹی طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف سولہ طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا، جو کہ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس تھے جبکہ اس دوران پاکستان اور انڈیا کے باڈر کے ساتھ ساتھ میزائلوں سے لیس F16 جنگی جہاز 24 گھنٹے گشت لگا رہے تھے، تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود کے اندر داخل نہ ہونے پائے، یہ مشن اس قدر حساس تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہوگیا تو کیا کرنا ہو گا۔ جس پر ایف سولہ طیاروں کے پائلٹس کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا تھا،کہ اگر نیوکلیئر بم لے جانے والا سی ون تھرٹی طیارہ ہائی جیک ہو جائے پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیا جائے۔ اس دوران ایف سولہ طیاروں کے ریڈیو آف کروا دیے گئے، تاکہ اس مشن کے دوران کوئی بھی انہیں کسی قسم کا حکم نہ دے سکے، پائلٹس کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں، اگر مشن کے دوران انہیں ایئر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کردیں۔ جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی،تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا،اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان ایئر فورس کے شاہینوں نے اہم ترین کردار ادا کیا۔ جہاں ایک طرف انھوں نے سارا سازو سامان سائیٹ تک پہنچایا وہیں سرحدوں کی نگرانی میں بھی ہمہ وقت مصروف رہے اور یوں پاکستان باقاعدہ نیوکلیئر پاور رکھنے والے ملکوں میں شامل ہوگیا۔

Back to top button