مذاکراتی کمیٹی کی عمران خان سے2گھنٹے طویل ملاقات

سابق وزیراعظم عمران خان سےمذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ختم ہوگئی،یہ ملاقات دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات سےقبل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ون آن ون ملاقات کی، علی امین گنڈاپور مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ اڈیالہ جیل آئے۔

اسد قیصر، عمر ایوب، علامہ راجہ ناصرعباس، صاحبزادہ حامد رضا اور وکیل فیصل چوہدری بھی اڈیالہ جیل پہنچنےوالوں میں شامل تھے،کمیٹی کے دو ارکان حامد خان اور سلمان اکرم راجہ اڈیالہ جیل نہیں پہنچے۔

علی امین گنڈاپور کی بانی پی ٹی آئی سے ون آن ون ملاقات کےباعث مذاکراتی کمیٹی کے ممبران کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں بٹھایا گیا۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سابق اسپیکراسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں نےباضابطہ طور پر پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کی بانی سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

ترجمان قومی اسمبلی کےمطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے دونوں رہنماؤں کے پیغام سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے، اسپیکر نے صرف پیغام رسانی کا کردار ادا کیا کہ مذاکراتی کمیٹی کی بانی سے حکومت ملاقات کروا دے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز، پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے درمیان رابطہ قائم ہونے کے بعد عمران خان سے ملاقات کے حوالے سے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات کے معاملے پر عمر ایوب کے پیغام کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تحریک انصاف کے رہنماؤں اسد قیصر اور عمر ایوب سے رابطہ کیا۔

ذرائع کے مطابق عمر ایوب نے اسپیکر ایاز صادق کو آج دن میں موبائل پر میسج بھیجا تھا۔

اسپیکر ایاز صادق کے رابطہ کرنے پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے معاملے پر بات چیت کی جس پر ایاز صادق نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانا پہلے بھی میری ذمہ داری نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے تاہم مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات کروانے کی کوشش کروں گا۔

پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم جیل میں ملاقات کے بعد اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی۔ واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں جبکہ تیسرا دور بدھ کو ہونا ہے۔

Back to top button