لمز میں مذہبی رواداری پر تقریب میں عدم رواداری کا مظاہرہ

لاہور کی لمز یونیورسٹی میں پچھلے دنوں مذہبی رواداری پر ہونے والی ایک تقریب میں پیش آنے والا عدم رواداری کا کھلا مظاہرہ سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہے۔ لمز کی انتظامیہ کی جانب سے اس تقریب میں احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کو بطور سپیکر مدعو کیا گیا لیکن پھر اچانک انہیں تقریب میں شرکت سے روک دیا گیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر شدید تنقید کے باوجود لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے نہیں بتایا جا رہا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مرزا سلطان کو 6 دسمبر 2022 کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت اور بطور مہمان گفتگو کی دعوت ایمنسٹی انٹرنیشنل لمز چیپٹر نے دی تھی۔ انکا دعویٰ ہے کہ لمز انتظامیہ کی جانب سے ان کو پیغام بھجوایا گیا کہ ان پر دباؤ ہے کہ احمدی کمیونٹی کے نمائندے کو تقریب میں شامل نہ ہونے دیا جائے۔ تقریب میں اقلیتی گروہوں، یعنی ہندو، مسیحی، سکھ اور دیگر مذاہب کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کے بجائے اُن کی خالی کرسی سٹیج پر رکھی گئی۔ جب ڈاکٹر مرزا سلطان کو بات کرنےسے روکا گیا تو تقریب منعقد کرنے والی لمز ایمنسٹی کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا گیا۔ اس میں کہا گیا کہ ’6 دسمبر 2022 کو ایمنسٹی انٹرنیشنل لمز چیپٹر نے پاکستان میں رواداری پر ایک مذاکرے کی میزبانی کرنے کا ارادہ کیا۔ بدقسمتی سے، ہمیں اچانک کہا گیا کہ جس احمدی نمائندے کو ہم نے بات کرنے کے لیے بلایا تھا، اسے فنکشن میں آنے سے منع کردیا جائے۔
انھوں نے مزید لکھا کہ ’اس بات کا ذکر کرنے کا مقصد لمز پر تنقید کرنا نہیں بلکہ ان لوگوں کو سمجھانا ہے جو آنے والے مہمان کے منتظر تھے کہ وہ آج وہاں کیوں نہیں ہوں گے۔ تمام مہمانوں کی لسٹ کچھ دن پہلے منظور ہوئی، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمارے مہمانوں کے پروفائلز کو دوبارہ چیک کرنے کا فیصلہ کیا، جسکے بعد ہمیں بتایا گیا کہ احمدی سپیکر نہیں آ سکتے۔ جب ہم نے وجہ بارے پوچھا تو ہمیں بیرونی مداخلت کے بارے میں بتایا گیا جس پر ہم نے کہا کہ لمز جیسے ادارے کا ایسا کرنا حیران کن ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ کوئی بات نہیں اگر وہ نہیں آ رہے، کیونکہ دوسری اقلیتوں کے نمائندے آ رہے ہیں۔‘
اس معاملے پر لمز یونیورسٹی کی انتظامیہ سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا اور چند سوالات بھی لیے گئے لیکن ان کی جانب سے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اس معاملے پر احمد کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مرزا سلطان کا کہنا تھا کہ مجھے کئی دن پہلے اس تقریب کی دعوت دی گئی تھی جسے میں نے قبول کیا۔ لیکن ایک رات پہلے مجھے ایک میسج کر دیا گیا کہ آپ اس تقریب کا حصہ نہیں بن سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ جن طلبا نے مجھے مدعو کیا تھا انھوں نے یہ میسیج کیا کہ میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور میں آپ سے بہت معذرت خواہ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، احمدی کمیونٹی کے ساتھ پاکستان میں ایسا سلوک ایک عام سی بات ہے۔‘ جس روادای پر ہم بات کرنا چاہتے تھے اس کا یہ عالم ہے کہ لمز جیسے ادارے بھی پریشر میں آ کر ہمیں بات کرنے سے بھی روک دیتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ میں پانچ کتابوں کا مصنف ہوں اور کئی سو تحریریں احمدیوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر لکھ چکا ہوں۔ مجھ سے بہتر اس بارے میں کون بات کر سکتا تھا۔‘
اس واقعے پر بات کرتے ہوئے تقریب کے موڈریٹر تیمور رحمان کا کہنا تھا کہ ’میں شہر سے باہر تھا، جب میں تقریب کے لیے لاہور آیا تو ایمنسٹی لمز کی صدر نے بتایا کہ ہمیں انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آپ ڈاکٹر سلطان مرزا کو نہیں بلائیں گے۔ انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کال موصول ہوئی ہے اور انھیں نہ بلانے کے لیے ہم پر دباؤ ہے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کال کہاں سے موصول ہوئی ہے اور کس کی طرف سے دباؤ ہے۔ ان کا مزيد کہنا تھا کہ ’اس تقریب کا انعقاد ہی اس لیے کیا گیا تھا کہ ہم ہاکستان میں پائی جانے والی مذہبی عدم برداشت کے بارے میں بات کر سکیں اور اقلیتوں کے مسائل پر بات کر سکیں۔ لیکن جس مقصد کے لیے یہ تقریب رکھی گئی تھی اس کو ہی پورا نہیں ہونے دیا گیا۔ پینل میں شریک سکالر جاويد احمد غامدی صاحب نے بھی اس واقعے کی مذمت کی۔ انکا کہنا تھا کہ یہ تو حقیقت ہے کہ پاکستان میں احمدی کمیونٹی محفوظ نہیں ہے۔ اگر ہم انھیں بطور پاکستانی ان کو اقلیت نہیں سمجھتے تو پھر وہ ہیں کیا؟ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے حق سے محروم کرنا، ان کی جان غیر محفوظ ہونا، ان کے ساتھ کاروبار نہ کرنا، کسی حکومتی یا بڑے عہدے پر انھیں قبول نہ کرنا۔ یہ سب ہوتا رہا اور اب تک ہو رہا ہے بلکہ گزرتے دنوں کے ساتھ یہ رویے بڑھتے جا رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ہمیں یہ بھی برداشت نہیں ہے کہ وہ کہیں جا کر اپنے ساتھ ہو ے والی زیادتیوں پر بات بھی کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’لمز جیسے ادارے کی جانب سے ایسا رویہ سامنے آنا افسوسناک ہے کیونکہ لمز کو ایک ایسا ادارہ سمجھا جاتا ہےجہاں ہر قسم کی بات کرنے کی آزادی ہے۔ اگر احمدیوں کے لیے ایسے پلیٹ فارم بھی بند کر دیے گئے ہیں تو وہ کہاں جائیں گے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مذہب سے پہلے وہ انسان ہیں اور وہ پاکستانی بھی ہیں۔ جبکہ احمدی کمیونٹی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے جو ہمیں کہیں نظر نہیں آتی۔‘
