سموگ:لاہورہائیکورٹ کامارکیٹیں رات10بجے بند کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے سموگ کے تدارک ک سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران صوبے میں اس کی بڑھتی شدت کے باعث بیماریوں کے خدشے کے پیشِ نظر شہر کی تمام مارکیٹیں رات دس تک بند کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت عالیہ لاہور آج بھی میں سموگ کے تدارک کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔دوران سماعت عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ اج صبح آسمان بہت بہتر تھا سموگ میں کچھ کمی آئی ہے، اب ان احکامات پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کرنی ہے۔
لاہورہائی کورٹ نے متعلقہ محکموں کو حکم دیا کہ جو بھی سکول جمعے کو کھلے، اسے سیل کردیں، محکمہ ایجوکیشن سختی سے اس حوالے سے جاری کردہ احکامات پر عمل در آمد کرائیں۔اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے مارکیٹیں رات دس بند کرنے کا حکم دے دیا،عدالت عالیہ نے کہا کہ تمام ریسٹورٹنس بھی رات دس بجے بند ہوں گے جب کہ بروز جمعہ، ہفتہ اور اتوار تمام ریسٹورنٹس رات گیارہ بجے بند ہوں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ماحولیات سے متعلق متعدد امور پر مفاد عامہ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ لاہور میں ہفتے میں کم از کم 3 روز اسکولز بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا جائے جس کی تعمیل کرتے ہوئے حکومتِ پنجاب نے لاہور کے اسکولز اور دفاتر ہفتے میں 3 روز بند رکھنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں اسموگ کی موجودہ صورتحال کے سبب ضلع لاہور کے تمام سرکاری و نجی اسکولز مزید احکامات جاری ہونے تک اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کے علاوہ ہر جمعے اور ہفتے کو بھی بند رہیں گے۔
قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے تھے کہ حکومت اسموگ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کو قوانین اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتوں کی سزا بڑھانے کے لیے قوانین بنانے کی ہدایت کی تھی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا تھا کہ اسموگ تمام شہریوں اور بالخصوص بچوں اور بزرگوں میں صحت کے پیچیدہ مسائل کا سبب بن رہی ہے۔
واضح رہے کہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں شمار کیا جانے لگا ہے، شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل خطرناک شکل اختیار کر رہا ہے، دنیا کے تمام ممالک میں ایئر کوالٹی کو مانیٹر کرنے والی ویب سائٹ آئی کے مطابق حالیہ مہینوں کے دوران مختلف مواقع پر نوٹ کیا گیا شہر کا کوالٹی انڈیکس انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔
اسموگ کی وجہ سے آنکھوں کے مسائل، الرجی اور آنکھوں میں جلن جیسے مسائل رپورٹ ہورہے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر ڈاکٹر عارف ندیم نے کہا اسموگ کی وجہ سے کینسر اور پھیپڑوں کے امراض میں اضافہ ہوسکتا ہےرہائیشیوں کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ گھر کے اندر رہیں اور دروازے اور کھڑکیوں کو بند رکھیں۔
انکا کہناتھا سرکاری ایجنسی قواعد اور ضوابط کو نافذ کرنے میں ناکام رہیں اور صنعتکاروں نے آلودگی کو کم کرنے کے لیے اینٹی اسموگ ڈیواسز نصب نہیں کی۔ڈاکٹر عارف ندیم نے دعویٰ کیا کہ اینٹوں کے بھٹے اور فصلوں کی باقیات جلانے سے اسموگ میں اضافہ ہوتا ہے اور حکومت ان اقدامات کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔
