2018 کے لوٹے ڈھونڈنے میں ناکام کپتان 2021 میں پھر سے پریشان

2018 کے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے لوٹا ہوجانے والے اراکین صوبائی اسمبلی پر تین برس گزر جانے کے باوجود وفاداریاں بیچنے کا الزام ثابت نہیں ہو پایا اور اسی وجہ سے اب 2021 میں وزیر اعظم عمران خان سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ پر کروانے کی سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔

یاد ریے کہ 2018 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں تحریک انصاف کے لوٹا ہوجانے والے اراکین خیبرپختونخوا اسمبلی کو شک کی بنیاد پر پارٹی سے تو نکال دیا گیا تاہم آج تک کپتان اینڈ کمپنی ان پر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ الٹا ان اراکین اسمبلی نے عمران خان پر ہتک عزت کے مقدمات دائر کر رکھے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عمران 2021 میں ہونے جا رہے سینٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ کے تحت الیکشن کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ یاد ریے کہ تحریک انصاف نے 2018 کے سینیٹ الیکشن میں خیبر پختونخواہ اسمبلی کے اپنے 20 ارکان پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا لیکن تین سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ایم پی اے کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں کرسکی بلکہ کپتان کو ان کی جانب سے ہتک عزت کے کئی مقدمات کا سامنا ہے جن پر ابھی فیصلہ نہیں آسکا۔ پارٹی سے نکالے گئے بعض اراکین کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عمران خان نے پارٹی رہنماوں اور جرگے کے ذریعے ان سے معافی مانگی تھی جس کے بعد انہوں نے عمران خان کو معاف کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان اوپن بیلٹ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تاکہ کہ فوری طور پر یہ پتہ چلایا جا سکے کہ ان کی جماعت کے کس رکن اسمبلی نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے اور پھر اس ثبوت کی روشنی میں لوٹا ہونے والے رکن اسمبلی کے خلاف ہارس ٹریڈنگ قانون کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکے۔

اس سے پہلے عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ کرپشن میں ملوث ایم پی ایز کے خلاف مقدمات قومی احتساب بیورو کو بھجوائے جائیں گے لیکن کسی ایم پی اے کے خلاف کوئی کیس نیب کو نہیں بھجوایا گیا۔ بعض سابق ایم پی ایز نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف مختلف عدالتوں میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا لیکن تحریک انصاف نے کسی کیس میں شواہد یا جواب جمع نہیں کرایا۔ہتک عزت آرڈیننس 2002 کے تحت دائر دو درخواستیں اب بھی زیر سماعت ہیں۔ وزیراعظم کے وکلاء مختلف درخواستوں کے ذریعے کیس میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں، وزیراعلی کےسابق معاون خصوصی برائے قانون عارف یوسف کو جرگہ کے ذریعے راضی کیا گیا ،عدالت نے دونوں فریقوں کے مابین مفاہمت کے بعد کیس خارج کردیا،سابق اراکین اسمبلی
قربان علی خان، زاہد درانی، عبید اللہ مایار اور یاسین خلیل کو بھی جرگہ کے ذریعے منایا گیا۔ تحریک انصاف کے ترجمان اور صوبائی وزیر محنت شوکت یوسفزئی کہتے ہیں کہ پچھلے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد پر 20 اراکین کو پارٹی سے نکالا گیا تھا تاہم اس قسم کے معاملات میں کرپشن میں ملوث اراکین کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد ملنا ممکن نہیں۔ شوکت یوسفزئی کے بقول صوبائی حکومت نے مختلف ذرائع اور اداروں کی رپورٹوں کی روشنی میں کارروائی کی تھی ۔انھوں نے کہا کہ یہ کیسے ہو گیا کہ اکثریت کے باوجود تحریک انصاف کے دو امیدواروں کو شکست ہوگئی اور پیپلز پارٹی کے صرف سات ایم پی ایز نے دو اراکین سینٹ کو منتخب کرایا۔ شوکت یوسفزئی نے عارف یوسف کے دعوی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے بابر اعوان سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنی درخواست واپس لیناچاہتے ہیں لیکن بابراعوان ان کے گھر چائے پر تشریف لائیں اسی بنا پر بابر اعوان انکے گھر گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کسی سے معافی نہیں مانگی اگر کسی نے سابق ممبران سے رابطہ کیا ہے تو وہ انفرادی طورپرکیا گیا ہوگا۔

خیال رہے کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کے بعض ممبران اسمبلی نے مبینہ طور پر پیسے لے کر صوبے سے پیپلز پارٹی کے دو امیدواروں کو کامیاب کروایا تھا جیکہ پیپلز پارٹی کے پاس صرف سات ایم پی اے تھے۔ اس الیکشن میں ٹیکنوکریٹ کی نشست کے امیدوار مرحوم مولانا سمیع الحق نے صرف 4 ووٹ حاصل کئےتھے۔ سابق وزیر اعلی پرویز خٹک نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ کم از کم 20 ایم پی ایز نے پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیاجس کے باعث تحریک انصاف کے دو امیدوار خیال زمان اور مولانا سمیع الحق الیکشن ہار گئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے دو امیدوار بہرہ مند تنگی اور روبینہ خالد کامیاب ہوئی تھیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 18 اپریل 2018 کو ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ میں حصہ لینے والے 20 ایم پی ایز کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی ملزمان کے نام قومی احتساب بیورو کو بھیجنے سے پہلےانھیں وضاحت دینے کا ایک موقع فراہم کرے گی۔ اس اپ سیٹ کے بعد تحریک انصاف نے ایم پی ایز کو پارٹی سے نکال دیاتھا تاہم کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ پی ٹی آئی کے سربراہ نے انکشاف کیا تھا کہ ممبران نے چار چار کروڑ روپے وصول کیے ہیں، پارٹی انہیں شوکاز نوٹس جاری کرے گی اور پارٹی سے نکال دیا جائے گا۔ عمران خان نے کہاتھا کہ ایم پی ایز نے اپنا ووٹ فر وخت کیا اور یہ پچھلے 30 یا 40 سالوں سے ہورہا ہے۔پی ٹی آئی نے دینا ناز ، نرگس علی ، نگینہ خان ، سردار ادریس ، عبید مایار ، زاہد درانی ، فوزیہ بی بی، نسیم حیات، قربان خان، عارف یوسف، امجد آفریدی، عبدالحق، جاوید نسیم، یاسین خلیل، فیصل زمان، سمیع علی زئی پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا تھا جبکہ اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے منسلک معراج ہمایوں اور عوامی جمہوری اتحاد کی خاتون بی بی اور بابر سلیم پر بھی مبینہ طورپر ووٹ فروخت کرنے کاالزام عائد کیا تھا۔ سابق ایم پی اے عارف یوسف نے کہتے ہیں کہ مجھ پر جھوٹا الزام عائد کیا گیا جس پر میں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور عبدالمجید کی عدالت میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا،عدالت نے دونوں فریقوں کے مابین ایک جرگے کے ذریعے عدالت کے باہر مفاہمت کے بعد معاملہ نمٹا دیا ہے۔ عارف یوسف نے دعویٰ کیا کہ سینیٹر بابر اعوان کی سربراہی میں ایک وفد ان کے گھر آیا اور اس نے وزیراعظم کی جانب سے غیر مشروط معافی مانگی،انہوں نے جرگہ قبول کرلیا اور کیس نمٹا دیا گیا، بعد میں انہیں پی ٹی آئی نے پارٹی عہدہ بھی دیا ،سابق ایم پی اے یاسین خلیل سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے ان کا کیس خارج کردیا تھا تاکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے رجوع کیا جائے لیکن موجودہ وزیر دفاع پرویزخٹک کی سربراہی میں ایک جرگہ ملنے آیا جس کے باعث مجھ سمیت کئی ایم پی ایز نے کیس دائر نہیں کیا ۔ دوسرا دلچسپ مقدمہ سابق خاتون ایم پی اے فوزیہ بی بی اور معراج ہمایوں کا ہے جو پشاور اور صوابی کی عدالتوں میں زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف کے وکلاء مختلف درخواستیں دائر کرکے کیس کو تاخیر کا شکار کررہے ہیں۔ فوزیہ بی بی نے جون 2018 میں دائر کیا تھا،کیس میں عمران خان کی دو درخواستیں خارج ہو چکی ہیں جبکہ کیس تاحال زیر التوا ہے۔ فوزیہ بی بی کا تعلق چترال سے ہے اور وہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہوئی تھیں ،انہوں نے پی ٹی آئی کے سربراہ کو ہتک عزت کا نوٹس بھجوایا تھا، نوٹس پر کوئی جواب نہ ملنے پر انھوں نے ہتک عزت آرڈیننس 2002 کی شق اٹھ کے تحت مقدمہ دائر کیا، خاتون ایم پی اے نے دعوی کیا کہ مذکورہ ہتک آمیز بیانات نے ان کی شخصیت کو تباہ کرنے کے علاوہ مدعی کی سیاسی، معاشرتی اور خاندانی زندگی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ کیس خارج کرنے کیلئے عمران خان کی جانب سے درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کیا گیا جو موجودہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے،تاہم عدالت نے 30 جنوری، 2019 کو درخواست خارج کردی۔ عمران خان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فوزیہ بی بی کے خلاف عمران خان نے پارٹی کی انضباطی کمیٹی کی رپورٹ نیک نیتی سے پیش کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button